کرونا وائرس اور اندر کی بات ….!

Loading...

صحافت میں اندرکی بات بہت اہمیت رکھتی ہے اور ہر صحافی اپنے ذرائع پر بہت نازاں ہوتا ہے کہ اس کا کسی ادارے میں بندہ ہے جو اسے اندرکی بات بتا دیتا ہے

ہم نے بھی بہت سے اندر کے دوست رکھے تھے جو ہمیں اندر پکنے والی کچھڑی کے بارے میں بروقت معلومات دے دیتے تھے۔

جو ہماری نیوز بنتی اور ہم ان پر اپنی مونچھوں کو تاﺅ دیتے کیونکہ صحافت میں اندر والے لوگ ہی خبر بناتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو کسی نہ کسی طرح اپنے باس سے پریشانی کا شکار ہوتے ہیں اور کوشش ہوتی ہے کہ اپنے باس کا کوئی راز کسی طرح سے افشا کر کے بدلہ لے ہیں۔ زیادہ تر ایسے ہی لوگ اندر کی بات بتا دیتے ہیں۔ وہی صحافی کامیاب ہے جو ایسے لوگوں سے مراسم استوار کر لے۔

بڑے بڑے صحافیوں کے لوگ بھی بڑے بڑے ہوتے ہیں جو انہیں بڑی خبریں دیتے ہیں۔ اور دوسری بات بڑے ادارے کے صحافیوں کو خود لوگ خبریں پہنچاتے ہیں انہیں کوئی دقت بھی نہیں اٹھانی پڑتی۔ یہ چھوٹے موٹے صحافی کے لیے مشکل ہوتا ہے کہ وہ اپنے لیے سورس بنائے۔

اب تو سوشل میڈیا نے وہ سورس بنانے کا چکر بھی ختم کردیا ہے۔ اب تو نیوز ملتی ہے اور چھپ بھی جاتی ہے۔ لیکن اندر کی باتیں پہلے بھی نکلتی تھیں اب بھی نکل رہی ہیں۔ اور یہ طریقہ کوئی بند بھی نہیں کرسکتا۔ ایک اجلاس میں چار پانچ لوگ بیٹھے ہوں گے اوریہ ایک اہم اجلاس ہوگا مگر کچھ دیر کے بعد کوئی نہ کوئی یہ خبر کسی نہ کسی طریقے سے لیک کرلے گا۔ کیونکہ کہتے ہیں کہ جو کچھ ہوجاتا ہے وہ اب زیادہ دیر نہیں چھپ سکتا۔

اس کرونا وائرس کے لاک ڈاﺅن میں بہت سے لوگوں سے نے مجھے اندر کی باتیں بتائیں۔ بیشتر لوگ اسے اب بھی پروپیگینڈا قرار دے رہے ہیں جو کہ دو مہینے پہلے کی باتیں تھیں۔ اس میں ابھی تک کوئی تبدیلی نہیں آئی۔

لوگوں کے ابھی تک وہی رویے ہیں۔ بہت سے دوست عید کے دنوں میں ملے تو انہوں نے مجھے طعنہ دیا کہ تم صحافت سے وابستہ ہو مگر تمہیں کوئی معلومات نہیں کہ اندر کی خبریں کیا ہیں۔

loading...

انہوں نے رازدارانہ لہجے میں انکشاف کیا کہ اس وائرس کے حوالے سے اندر کی بہت سی خبریں ہیں کہ یہ پاکستان میں ڈالر حاصل کرنے کے لیے ایک کوشش ہے جس میں ہماری حکومت ملوث ہے اور یہ اندر کی بات ہے۔ یہ لوگ ذرائع کا حوالہ بھی دیتے ہیں کہ میرا ایک دوست حکومت میں بڑے عہدے پر فائز ہے اُس نے مجھے یہ باتیں بتائی ہیں۔

یہی نہیں، بلکہ لاک ڈاؤن کے دوران جو بھی ملا اس کے پاس اندر کی کوئی نہ کوئی بات ضرور موجود تھی۔ سوشل میڈیا کا زمانہ ہے اس لیے اس قسم کی اندر کی باتیں وائرل بھی ہو جاتی ہیں۔

عیدالفطر پر مجھے ‘اندر کی یہ بات’ بتائی گئی کہ فی مریض حکومت کو تیس لاکھ مل رہے ہیں اور ان میں مریض کے گھر والوں کو پانچ لاکھ دیے جارہے ہیں۔ فلاں جگہ جو بندہ مرا ہے وہ کرونا کا مریض نہیں تھا، اسے کرونا میں ڈالا گیا ہے۔ اسی طرح بہت سے لوگوں کو حکومت نے مروایا ہے۔ اوریہ ساری اندر کی باتیں ہیں۔ تمھیں کچھ نہیں معلوم۔‘

جب کہا کہ ڈاکٹر مررہے ہیں صحافی مر رہے ہیں۔ تو دوسری اندر کی بات پتہ چلی کہ انہیں بھی حکومت خود مار رہی ہے کہ لوگوں کو یقین آ جائے۔

پاکستانیوں سب کا اس وبا میں مرنا لازمی نہیں ….!

کرونا وائرس کے علاوہ عید کے لیے آئے ہوئے بہت سے دوستوں نے بہت اندر کی باتیں بتائیں۔ اسی طرح ایک اور موصوف نے آرمی کے حوالے سے مجھے اندر کی بات بتائی کہ عمران خان کو اب اسٹیبلشمنٹ پسند نہیں کر رہی اس لیے انہوں نے شاہد آفریدی کو میدان میں اتار لیا ہے ورنہ اور بھی تو کرکٹر ہیں وہ انہیں کیوں اتنا پروجیکشن نہیں دیتے؟ پھر کچھ تصویریں دکھائیں کہ یہ اندر کے آدمی نے دی ہیں حالانکہ وہ تصویریں سوشل میڈیا پر عام ہیں۔

ایک ہم جماعت نے چین بھارت تنازعے پر بھی اندر کی بات بتائی اور یوں میں اپنا سر پکڑ کر بیٹھ گیا کہ ہم اور ہمارے دوست ویسے خود کو بڑے لکھاری اور صحافی سمجھتے ہیں کہ ہمیں سب پتہ ہے۔ کیونکہ ہمارے اداروں میں اندر کے لوگ موجود ہیں یہ تو صرف ہم نہیں بلکہ پورے ملک میں بسنے والے ہر بندے کا کوئی نہ کوئی اندر موجود ہے جو انہیں اندر کی بات بتا رہا ہے۔

اس دوران ہمیں اندر کی اتنی باتیں پتہ چلیں کہ لگتا ہے کہ ہم بھی گھر کے بھیدی ہو گئے ہیں۔ اور آپ کو پتہ ہے کہ گھر کا بھیدی ہی لنکا ڈھاتا ہے۔

(Visited 241 times, 1 visits today)
Loading...
Advertisements

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں