قبر میں بھی اکیلی مت جانا۔۔۔

قبر
Loading...

تم اگر اس جنگل میں اپنے بچوں کے سامنے پامال ہوئی ہو تو واویلا کیسا؟ اس عہد کے شیخ کی سنو کہتا ہے کہ اکیلے اتنی رات کو باہر کیوں آئی۔ آ ہی گئی تو سنسان راستے کو کیوں چنا؟

مجرم پر تو فرد جرم عائد ہونے میں وقت لگے گا مگر جرم کا شکار ہونے والی عورت پر فرد جرم عائد ہو چکی ہے۔ اکیلے آنا مناسب راستے کا انتخاب نہ کرنا اور پٹرول چیک نہ کرنا الزامات میں شامل ہے۔ شیخ صاحب بس اسی بات پر رک گئے ورنہ کیا بعید یہ بھی پوچھتے کہ دنیا میں ہی کیوں آئیں بی بی؟

اب اس بیان کی وضاحت والوں کا زور اپنی جگہ لیکن سچ یہ ہے کہ سی سی پی او عمر شیخ کے بیان کو توڑ کر، مروڑ کر یا سیدھا سادھا کر کے جس بھی زاویے سے پرکھا جائے مطلب ایک ہی ہے کہ اکیلی باہر نکلو گی تو بی بی کوئی بھی تمہیں نوچ کھائے گا۔

شیخ صاحب کا قصور نہیں وہ تو اس سوچ کا چہرہ ہیں جو صدیوں سے عورتوں کے خلاف جرائم میں ہمیشہ مجرم کو جواز فراہم کرتی رہی اور وکٹم کو قصور وار قرار دیتی رہی۔ شیخ صاحب میڈیا والوں کو تو اللہ پوچھے گا ہی کہ ایک بیان کو لے کر کیا افسانہ بنا ڈالا۔ سچ پوچھیں تو مسئلہ آپ کے بیان کا نہیں مسئلہ اس واہیات سوچ کا ہے جو خواتین کے خلاف ہر جرم پر پہلے کوئی ایسا جواز ڈھونڈنے لگتی ہے کہ جرم کا شکار ہونے والے کو ہی مورد الزام ٹھہرایا جائے ۔

زیادتی کے بڑھتے واقعات اور ایس او پیز …!

اکیلی عورت اپنے بچوں کے سامنے زیادتی کا نشانہ بنی یہ سننے میں کہنے میں لکھنے میں کتنی دردناک بات ہے۔ کسی قیامت سے کم نہیں مگر آپ کو پہلا خیال آیا کہ آخر وہ عورت اکیلی وہاں کیا کر رہی تھی۔ وہ جو بھی کر رہی تھی کم از کم وہ وہاں زیادتی کا شکار ہونے کے لیے نہیں گئی تھی اسے پامال کرنے والوں نے اس کے بچوں کے ساتھ بھی زیادتی کی۔

ہائے شیخ صاحب آپ کو ہی تو آواز دے رہی تھی وہ بی بی جب اس کو پامال کیا جا رہا تھا۔ وہ آپ کے کسی مسیحا کی امید میں زندہ بچ گئی ورنہ اذیت سے مر گئی ہوتی۔ آپ اور کسی کی نا سہی اس اذیت میں آتی پکار کی لاج رکھ کے کوئی اظہار ہمدردی کر دیتے۔ وہاں آپ کا قبیلہ بر وقت نہ پہنچ پایا اس پر کوئی علامتی ندامت کا اظہار کر دیتے۔

جناب کوئی ببر شیر جیسی ایک بھڑک ہی مار دیتے کہ ظالم بھیڑیوں کی ٹانگیں تھر تھر کانپنے لگتیں۔ مگر آپ تو مظلوم کی غلطی پر نالاں ہیں کہ رات کو اکیلے کیوں آئی۔ آپ کی وضاحت اور ماؤں، بیٹیوں اور بہنوں والا جذباتی بیان سر آنکھوں پر مگر جناب کچھ سوال ہم بھی کرنا چاہتے ہیں۔

وہ عورتیں جو کسی کی بہنیں نہیں یا جن کے بھائی نہیں، شوہر نہیں، باپ نہیں، بیٹے نہیں وہ کیا خود کشی کر لیا کریں؟ جن کے ساتھ کوئی باڈی گارڈ ہر وقت موجود نہیں ہو سکتا وہ کیا کریں؟ اور پھر جناب قبر میں کسے لے جایا کریں ساتھ عورتیں ۔ یا تو ریاست اعلان کرے اور عورتوں سے کہے کہ تم کسی سماج میں نہیں جنگل میں رہتی ہو جہاں گدھ بھیڑئیے بھوکے منڈلا رہے ہیں اور تم ان کی ہوس کے نشانے پر ہو۔

تم تین کی ہو یا 30 سال کی، تمہیں حق نہیں کہ تم اس جنگل کے بھیڑیوں کے سامنے دن کو یا رات کو باہر نکلو۔ کھیلنے کے لیے تمہارے پاس اتنی ہی زمین ہے جتنی تمہارے دفن ہونے کے لیے ہے۔ ۔

اکیلے اس جنگل کے مالکوں کو نظر آنا بہت بڑی غلطی ہے اور اس کی سزا سنگین ترین ہو سکتی ہے۔ ہاں یاد آیا اکیلے باہر نکلنے کی سزا صرف زندوں کو ہی نہیں ملتی۔ یہ ضروری نہیں کہ تم زندہ ہو تو ہی تمہاری عصمت کو روندا جائے گا تم کم نصیب اگر مر بھی جاؤ تو بھی یہ گدھ تمہاری بوٹیاں نوچنے آئیں گے اس لیے دیکھو بی بی سیدھی سی بات ہے قبر میں بھی اکیلی مت جانا۔

Loading...

یہ مت سمجھنا کہ معصومیت، حیا، کم عمری، برقعہ، چادر، چار دیواری، کفن یا قبر کی مٹی تمہیں ان بھیڑیوں سے بچا لے گی۔ تم کہاں چھپ سکتی ہو؟ تین سال کے ننھے لوتھڑے جیسے جسم میں، 70 سال کے جھریوں زدہ جسم میں، اپنی گاڑی میں، اپنے گھر میں یا پھر اپنی قبر میں؟؟؟ کہاں چھپو گی؟ تمہاری کوئی اوقات ہے؟ تمہاری شناخت کیا ہے؟ تمہاری حیثیت کیا ہے؟ تم تکریم احساس تحفظ کی حق دار کیسے بن سکتی ہو تم یہ تقاضا بھی کیسے کر سکتی ہو۔ تم ایک گوشت کا جسم ہو۔ تم جو مرضی کر لو ان گدھوں کو گوشت خوری کے لیے تمہیں جب بھی پامال کرنے کا موقع ملے گا یہ کریں گے۔ یہ گدھ ہر جگہ ہیں گھر میں، دفتر میں، گلی میں، محلے میں، ہر جگہ۔

ان کو جو بھی کپڑے بنا دو کوئی بھی عہدہ دے دو کچھ بھی بنا دو ان کے اندر کا حیوان کسی بھی لمحے باہر نکل کر کسی کو مسل دے گا، کسی کو کچل دے گا کسی کو بھی لوٹ کر کوڑے کے ڈھیر پر پھینک دے گا۔ کیونکہ یہ جانتا ہے کہ دو چار دن دوہائیاں دے کر ماتم کر کے مذمت مذمت کھیل کو آگے حادثے تک خاموشی ہو جائے گی۔

شیخ صاحب آپ کے بیان سے ایک اور بڑا نقصان ہوا رکھوالوں پر جو کچھ بچی کھچی آس تھی وہ تو گئی ہی لیکن جو تھوڑی سی زمین طویل جنگ کے بعد ہماری عورتوں بچیوں نے حاصل کی وہ مجھے تنگ ہوتی دکھائی دینے لگی ہے۔

اب یہ جرات کون کرے گا کہ ماں باپ سے کہے کہ کچھ نہیں ہوتا اماں بہت سی لڑکیاں رات کو دیر سے کام سے واپس آتی ہیں۔ اکیلے سفر کرنے والی بہادر لڑکیوں کے دل سے وسوسے کوں ہٹائے گا۔ ان خاندانوں کو یہ یقین کیسے آئے گا کہ قانون کے رکھوالے ان کی بیٹیوں کی حفاظت کریں گے؟

اگر کسی کو اپنے ساتھ ذاتی محافظ رکھے بغیر کوئی تحفظ نہیں ملے گا۔ تو پھر آپ کس چکر میں ریاست کے کندھوں پر سوار ہیں۔ جناب آئیں اور اعلان کریں کہ یہ جنگل ہے اور یہاں جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا قانون چلے گا۔ ریاست آپ کو پالنے کی بجائے عورتوں کو چاقو چلانے اور پستول چلانے کی تربیت دے اور آپ گھر آرام کریں۔ اور بےشرمی سے منہ چڑائے گا۔

یہ زندہ اور معدہ جسموں میں تمیز نا کر پانے والے گدھ آخر کب تک ہمارے معاشرے کے منہ پر کالک ملتے رہیں گے۔ اگر انہں سنگسار نہ کریں تو کیا کریں؟ بس سینہ کوبی کرتے انسانیت کے لاشے کو گلتے سڑتے دیکھتے رہیں پھر کوئی عزت لٹے گی پھر کوئی لاش روندی جائے گی پھر کوئی ننھا پھول سا جسم مسل کر کوڑے میں پھینکا جائے گا۔

ہم پھر انسانیت کا ماتم کریں گے اور پھر خاموش۔ اور پھر وہی۔۔ آخر ایک ہی زخم پر کتنا رویا جا سکتا ہے۔ ایک ہی دکھ پر کتنا ماتم کیا جا سکتا ہے۔ عورت اتنی ارزاں کیسے ہو گئی ہے؟ یہ سوال تازیانہ بن کے ان تمام لوگوں کے اعصابون پر لگنا چاہیے جنہوں نے عورت کو انسان ہونے کا مرتبہ نہیں لینے دیا، جنہوں نے اپنی محدود سوچ سے عورت کی حیثیت پر ہمیشہ زد لگائی۔

آج اگر آپ کے معاشرے میں عورت کو ایک انسان کے طور پر تسلیم کرنے والوں کی تعداد ذیادہ ہوتی تو پھر انسان کو اللہ نے جو عزت تکریم اور تحفظ کے بنیادی حقوق کے ساتھ پیدا کیا ہے وہ عورت کے پاس بھی ہوتے۔ اگر عورت کو اس معاشرے میں ایک برابر انساں کی حیثیت مل چکی ہوتی تو اس کو پامال کرنے والے کم ہوتے اور اس کا تحفظ کرنے والے بغیر کسی سابقے لاحقے کے ایک انسان کے تحفظ کے لیے تیار ہوتے۔ عورت کو اپنے ساتھ ہونے والے ظلم کا ذمہ دار ٹھہرانے والے بھی ظالم ہیں۔

جب تک ظلم کو ظلم کہنے کا مرحلہ نہیں آئے گا تب تک ہم ایسے حادثوں پر ماتم کنائی کرتے رہیں گے۔ اگلے حادثے تک کی خاموشی کا دورانیہ جتنا بھی ہے آئیں سب مل کر سوچیں کہ اس سماج میں عورت کو ایک انسان کی حیثیت دلوانے میں ہم سب اب تک ناکام کیوں ہیں؟

(Visited 17 times, 1 visits today)
loading...
Advertisements

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں