کھوئے ہوئے موبائل میں بندر کی سیلفیاں

موبائل
Loading...

کیا کبھی ایسا ہوا ہے کہ آپ کا کھویا ہوا موبائل واپس ملے اور اس میں بندر کی سیلفیاں دیکھ کے آپ حیران رہ گئے ہوں؟ملائیشیا میں ایک نوجوان کا کہنا ہے کہ اسے اپنے موبائل فون پر ایک بندر کی سیلفیاں اور ویڈیوز ملی ہیں۔ اس شخص کا یہ فون کھو گیا تھا جو اسے گھر کے پیچھے جنگل سے ملا ہے۔
فون میں جو مواد موجود ہے اس میں ایک بندر کی فوٹیج بھی ہے جو بظاہر فون کو کھانے کی کوشش کر رہا ہے۔ یہ سارا مواد فون کے مالک زیکریڈز روڈزی نے ٹوئٹر پر پوسٹ کیا جس کے بعد اسے بڑے پیمانے پر سوشل میڈیا پر شیئر کیا گیا ہے۔
20 برس کے طالبِ علم زیکریڈز روڈزی کے مطابق وہ یہ سمجھ رہے تھے کہ جب وہ سو رہے تھے تو ان کا فون چوری ہو گیا۔ تاہم یہ ابھی بھی واضح نہیں کہ فون کیسے غائب ہوا تھا۔یہ بھی ممکن نہیں کہ ان حالات کی تصدیق کی جا سکے کہ یہ تصاویر اور ویڈیو ان کے فون میں کیسے آئے۔

یوٹیوب نے ٹک ٹاک کی طرز پر نئی ویڈیو ایپ بنا لی

زیکریڈز ملک کی جنوبی ریاست جوہور میں رہتے ہیں اور کمپیوٹر سائنس کی ڈگری کے آخری سال میں ہیں۔

فون غائب ہونے کے چند گھنٹوں کے بعد دوپہر دو بج کر ایک منٹ پر بنائی گئی ایک ویڈیو میں ایک بندر کو دیکھا جا سکتا ہے جو بظاہر فون کو کھانے کی کوشش کر رہا ہے۔اس کے علاوہ فون میں بندر، درختوں اور پودوں کی بہت سی دوسری تصاویر بھی موجود ہیں۔

زیکریڈز کا کہنا ہے کہ وہ اپنا فون ڈھونڈنے میں ناکام رہے۔ اگلے روز یعنی اتوار کی دوپہر ان کے والد نے گھر کے باہر ایک بندر کو دیکھا۔

اس کے بعد زیکریڈز نے ایک دوسرے فون سے اپنے فون پر کال کی تو انھیں قریب ہی جنگل سے اپنی رنگ ٹون سنائی دی۔ وہ وہاں گئے تو انھیں ایک کھجور کے درخت کے نیچے کیچڑ میں لتھڑا ہوا اپنا فون مل گیا۔

loading...

ان کے انکل نے مذاق سے کہا کہ شاید چور کی تصویر اس فون میں ہو۔ اس کے بعد زیکریڈز نے اپنا فون صاف کیا، تصاویری گیلری کھول کر دیکھی اور حیران رہ گئے کیوں کہ وہ بندر کی تصاویر سے بھری ہوئی تھی۔انھوں نے کہا کہ دنیا کے دوسرے ایسے علاقوں کے برعکس جہاں بندر شہری علاقوں کے آس پاس رہتے ہیں، ان کے علاقے میں کبھی ایسا نہیں ہوا کہ کسی بندر نے کسی کے گھر سے کوئی چیز چوری کی ہو۔

زیکریڈز کو شبہ ہے کہ یہ بندر ان کے بھائی کے کمرے کی کھڑکی سے اندر آیا ہو جو کھلی رہ گئی تھی۔

اتوار کو کی جانے والی ان کی اس ٹویٹ کو کئی ہزار مرتبہ لائیک اور شیئر کیا جا چکا ہے اور یہ واقعہ مقامی میڈیا کی نظر میں بھی آ گیا۔

(Visited 14 times, 1 visits today)
Loading...
Advertisements

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں