عورت کی تعلیم کا معاشرے پر اثر …!

عورت کی
Loading...

آج کل کے ترقی یافتہ دور میں مرد کے ساتھ ساتھ اللہ کا شکر ہے کہ عورت کی تعلیم کو بھی ضروری خیال کیا جانے لگا ہے ۔ بچوں کی تعلیم و تربیت پر غور کیا جانے لگا ہے ۔ شہر ہو یا گاوں اب ہر کوئی اپنے بچوں کو تعلیم سے بہرہ ور کرنا چاہتا ہے ۔ الحمداللہ ہمارے ملک کے لوگ اب اچھا سوچنے لگے ہیں۔

لیکن اگر قدیم زمانے پر نظر دوڑائی جائے تو لوگوں میں شعور نہیں تھا ۔ وہ تعلیم پر توجہ نہیں دیتے تھے ۔ انہیں لگتا تھا تعلیم حاصل کرنا ضروری نہیں. لڑکوں کو پھر بھی پڑھا لیا جاتا تھا تاکہ انہیں اچھی جابز اور اچھے عہدے مل سکیں لیکن لڑکیوں کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ انہوں نے پڑھ کر کیا کرنا ہے آخر کو چولہا ہی جلانا ہے. کچھ لوگوں کا کہنا تھا کہ ہم نے کون سا بچیوں سے مزدوری ( جابز ) کرانی ہے جو انہیں پڑھائیں ۔۔۔ بلکہ کچھ افراد کا یہ بھی کہنا تھا کہ پڑھائی سے بچیوں کا دماغ خراب ہو جاتا ہے۔

اس وقت لوگ تعلیم کی اہمیت کو نہیں جانتے تھے ۔ یہ تمام پرانی باتیں اور پرانی سوچیں تھیں ۔۔ لیکن اب وقت بدل رہا ہے لوگوں میں شعور پیدا ہو رہا ہے ۔ وہ تعلیم کی اہمیت کو سمجھنے لگے ہیں ۔ وہ یہ جان گئے ہیں کہ تعلیم کتنی ضروری اور اہم ہے ۔۔ اس کے بغیر کچھ حاصل نہیں ۔۔ ترقی اور کامیابی کا واحد ذریعہ تعلیم ہے ۔ ارشاد باری تعالی ہے ” علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد اور عورت پر فرض ہے ” یہ بات ہم سب جانتے ہیں کہ تعلیم معاشرے کے ہر فرد کے لئے لازمی ہے لیکن میں سمجھتی ہوں کہ جہاں مرد کی تعلیم ضروری اور اہم ہے اس سے کہیں زیادہ عورت کے لیئے تعلیم ضروری ہے۔

آپ اپنے ساتھ یہ ظلم کیوں کر رہے ہیں ….؟

اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ عورت ہی ہے جو پورا گھر سنبھالتی ہے ۔ بچے سنبھالتی ہے ۔ اور ایک پڑھی لکھی کامیاب عورت ہی گھر کو بہتر اور خوشحال گھر بنا سکتی ہے ۔ بچوں کی اچھی تربیت کر سکتی ہے۔۔
حضور پاکؐ نے بھی تعلیم پر بہت زور دیا ہے ۔۔ آپؐ نے فرمایا ” علم حاصل کرو خواہ تمہیں اس کے لیئے چین ہی کیوں نا جانا پڑے ” ایک اور مرتبہ فرمایا ” جو شخص علم کی جستجو میں کسی راہ کا مسافر ہوا ، اللہ تعالی اس کے لیئے جنت کی راہ آسان فرما دیتے ہیں ”
مسلم الذکر والدعا ۔ ایک مرتبہ فرمایا ” جو شخص علم حاصل کرنے کی غرض سے گھر سے نکلے تو فرشتے اس پر اپنے پر پھیلا کر رکھتے ہیں ” ان احادیث میں کہیں بھی صرف مرد کی تعلیم ضروری خیال نہیں کی گئی ۔ بلکہ مرد اور عورت دونوں کی تعلیم کو ضروری فرمایا گیا ۔

اس سے ثابت ہوتا ہے کہ عورت کو تعلیم سے دور رکھنا اسلام کے بھی خلاف ہے ۔۔ اور سب سے بہتر صدقہ اپنی تعلیم پر خرچ کرنا اور وہ علم آگے دوسروں تک پہنچانا ہے ۔

علم انسانی زندگی کو ترتیب دیتا ہے انسان اور معاشرے کی خامیوں اور خرابیوں سے آگاہ کرتا ہے اور پھر انہیں دور کرنے کے ہنر سے نوازتا ہے۔علم ہی کی بدولت زندگی کو سہل ، خوبصورت اور کامیاب بنایا جا سکتا ہے ۔ تعلیم کا دائرہ زندگی سے تمام شعبوں پر محیط ہے ۔ علم ہی وجہ سے انسان نے ترقی کی اور آگے بڑھنا سیکھا اور چاند پر پہنچ گیا ۔

Loading...

 سب سے اہم اور خوبصورت بات یہ ہے کہ اللہ تبارک و تعالی نے جو سب سے پہلی وحی حضرت محمد مصطفیؐ پر بھیجی وہ بھی علم ہی کے بارے میں تھی ۔۔ ارشاد باری تعالی ہے کہ ” پڑھیئے اپنے پروردیگار کے نام سے جس نے تجھے پیدا فرمایا جس نے انسان کو جمے ہوئے خون سے بنایا ۔ پڑھئے کہ آپ کا پروردیگار بڑا کریم ہے ۔ جس نے قلم کے ذریعے سے علم سکھایا جس نے انسان کو وہ سب سکھایا جس کا اسے علم نہیں تھا ” یہاں جن چند آیات اور احادیث کا زکر کیا گیا ہے ان میں سے کسی ایک میں بھی تعلیم کے حوالے سے مرد و عورت کا زکر نہیں کیا گیا ۔۔ بس تعلیم پر زور دیا گیا ۔

کہنے کو لوگ اب بدل گئے ہیں ، ترقی یافتہ ہو گئے ہیں ، اچھے برے میں تمیز کرنا جانتے ہیں لیکن آج کے اس فاسٹ اور ترقی یافتہ دور میں بھی کچھ افراد اور کچھ گھرانے ایسے ہیں جو ابھی بھی وہی پرانی اور دقیانوسی سوچ کے مالک ہیں ۔ ابھی چند پہلے کی بات ہے کہ میرا رابتہ ایک ایسی خاتون سے ہوا جن کے بیٹے ماشاءاللہ مہنگے پرائیویٹ سکولوں میں تعلیم حاصل کر رہے تھے ۔۔ لیکن جب میں نے ان سے پوچھا کہ آپ نے اپنی بیٹی ( جو کہ میرے حساب سے ماشاءاللہ کافی ذہین اور پڑھنے کی شوقین بھی ہے ) کو کسی اچھے سکول میں کیوں تعلیم نہیں دلوا رہیں ۔

وہ کہتی ہے کہ اسے ڈاکٹر بننا ہے آپ کے لیے اپنے وطن کے لیئے وہ کچھ کرنا چاہتی ہے لیکن جس سکول میں وہ تعلیم حاصل کر رہی ہے وہاں اتنی سہولیات نہیں ہیں کہ وہ ڈاکٹر بن پائے ۔ تو وہ کچھ عجیب سی صورت بنا کی کہنے لگیں ۔ ” اس تے اینے پیسے لا کے کی کرنا۔ اونے تے ویسے وی پرائے گھر ہی جانا اے تینوں تے پتہ ہے اجکل کنی مہنگائی ہے ہُن اک میرا پتر کیدھا کیدھا خرچہ چُُُکے ۔۔ اونہوں پڑھا رہے آں ایہوں بہت اے ۔ ” اس کے علاوہ بھی انہوں نے کچھ باتیں کہیں جو کہ میں سمجھ نہیں پائی ۔ تو میں انہیں سمجھانے لگی کہ تعلیم ضروری ہے ۔۔ آپ کی بیٹی ڈاکٹر بننا چاہتی ہے اسے ڈاکٹر بنائیں تو وہ میری بات ان سنی کر کے بس مسکرا دیں ۔ اور کہنے لگیں اور پھر آخر میں انہوں نے کیا کہ لڑکی کی تعلیم سے معاشرے میں کونسا انقلاب آ جانا ہے ۔

ان آنٹی کی یہ بات سن کر مجھے بہت حیرت ہوئی اور میں یہ سوچنے لگی کہ آج کے اس دور میں بھی لوگ ایسی سوچ رکھے ہوئے ہیں ۔ کچھ لوگ ایسے اب بھی ہیں جو اب بھی بیٹی کو بوجھ سمجھتے ہیں ۔۔ جن کے لیئے بہن بیٹی اب بھی کوئی معانی نہیں رکھتی ۔

بحرحال یہ حقیقت ہے کہ تعلیم ضروری ہے اور اس کے لیئے نا تو عمر کی کوئی قید ہے اور نا مرد و عورت کے لیئے ۔ تعلیم جتنی ضروری مرد کے لئے ہے اس سے کہیں زیادہ عورت کے لئے ۔ مرد اچھی جاب اور پھر اچھی کمائی کے لیئے پڑھ لکھ کر آگے بڑھتا ہے اور ایک پڑھی لکھی عورت پورا گھر اچھے سے سنبھال سکتی ہے ۔۔ اور بچوں کی تربیت اچھی کر کے ایک پڑھے لکھے معاشرے کی بنیاد رکھتی ہے ۔

میں ان سے اور جیسی مزید خواتین اور لوگوں سے کہنا چاہتی ہوں کہ معاشرے میں انقلاب آئے گا لیکن صرف اس صورت میں جب آپ اپنی سوچ بدلیں گے ۔ جب آپ بیٹیوں کو بھی بیٹوں جیسی عزت اور مقام دیں گے ۔ جب آپ یہ نہیں سوچیں گے کہ بیٹی ہے اس پہ خرچ کرنے کا کیا فائدہ ہے ۔ بلکہ بیٹیوں کو خدا کی رمت سمجھیں گے زحمت نہیں ۔

زونیرہ شبیر ، زونی

(Visited 22 times, 1 visits today)
Loading...
Advertisements

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں