بنگلہ دیش کی ٹیم دورہ پاکستان کے لیے راضی ہو گئی؟

بنگلہ دیش

پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان سیریز کے انعقاد پر معاہدہ طے پا گیا ہے جس کے بعد بنگلہ دیش کی ٹیم دو مرحلوں میں پاکستان کے دورے اور ٹیسٹ میچ کھیلنے پر راضی ہو گئی ہے۔

پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان سیریز کے انعقاد کے حوالے سے چھائے غیریقینی کے بادل چھٹ گئے ہیں اور دونوں ملکوں کے کرکٹ بورڈز سیریز کے انعقاد پر راضی ہو گئے ہیں۔

ٹی 20 کی نئی رینکنگ میں پاکستان کس پوزیشن پر آگیا؟

پاکستان اور بنگلہ دیش کے کرکٹ بورڈز کے درمیان معاہدہ طے پا گیا ہے جہاں یہ سیریز فیوچر ٹور پروگرام کا حصہ ہو گی۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین احسان مانی اور چیف ایگزیکٹو وسیم خان نے بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کے ساتھ بات چیت کر کے انہیں دورے کے لیے راضی کیا۔

انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے چیئرمین ششانک منوہر نے منگل کی دوپہر دبئی میں دونوں بورڈز کے حکام کے درمیان ملاقات میں بنگلہ دیش کو دورہ پاکستان کے لیے راضی کرنے کے لیے اپنا اثرورسوخ استعمال کیا۔

بنگلہ دیش کے دورہ پاکستان کے لیے شیڈول ازسرنو مرتب کیا گیا ہے جس کے تحت بنگلہ دیش کی ٹیم دو مرحلوں میں پاکستان کا دورہ کرے گی۔

پہلے بنگلہ دیش کی ٹیم رواں ماہ تین ٹی20 اور ایک ٹیسٹ میچ کے لیے پاکستان آئے گی جس کے بعد اپریل میں دونوں ٹیموں کے درمیان مزید ایک ٹیسٹ اور ایک ون ڈے میچ کھیلا جائے گا۔

پاکستان سپر لیگ کے انعقاد اور بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کے تحفظات کو مدنظر رکھتے ہوئے دورے کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔

بنگلہ دیش کی ٹیم پہلا ٹی20 میچ 24جنوری کو لاہور میں کھیلے گی جس کے بعد قذافی اسٹیڈیم 25 اور 27 جنوری کو بھی ٹی20 میچز کی میزبانی کرے گا۔

اس کے بعد دونوں ٹیموں کے درمیان پہلا ٹیسٹ میچ 7 سے 11 فروری تک راولپنڈی میں کھیلا جائے گا۔

پہلے ٹیسٹ میچ کے بعد بنگلہ دیش کی ٹیم وطن واپس لوٹ جائے گی اور پاکستان میں 20فروری سے پاکستان سپر لیگ کا آغاز ہو جائے گا۔

پاکستان سپر لیگ کے اختتام پر بنگلہ دیش کی ٹیم اپریل میں دوبارہ پاکستان کا دورہ کرے گی جہاں سیریز کا واحد ون ڈے میچ 3 اپریل کو کراچی میں کھیلا جائے گا۔

اس کے بعد 5سے9 اپریل تک سیریز کے دوسرے ٹیسٹ میچ کے لیے دونوں ٹیمیں کراچی کے نیشنل اسٹیڈیم میں نبرد آزما ہوں گی۔

بنگلہ دیش کا دورہ پاکستان غیریقینی صورتحال سے دوچار تھا جہاں بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ ٹی20 کے لیے تو ٹیم پاکستان بھیجنے پر رضامند تھا لیکن وہ ٹیسٹ میچز کے لیے ٹیم پاکستان بھیجنے کے لیے تیار تھا.

دونوں ملکوں کے کرکٹ بورڈز کے درمیان سیریز کے انعقاد کے سلسلے میں کئی مرتبہ رابطے ہوئے لیکن منطقی نتیجہ برآمد نہ ہوا کیونکہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے دوٹوک انفاظ میں کہہ دیا تھا کہ پاکستان اپنے ہوم گراؤنڈ پر ہی تمام میچز کا انعقاد کرے گا.

دونوں ٹیموں کے درمیان سیریز کا انعقاد اس وقت خطرے میں پڑ گیا جب اتوار کو بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کے اجلاس کے بعد بورڈ کے سربراہ نظم الحسن نے بیان دیا تھا کہ حکومت نے مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال کے سبب ٹیم کو طویل دورہ پاکستان کی اجازت نہیں دی.

حال ہی میں پی سی بی چیئرمین احسان مانی اور چیف ایگزیکٹو وسیم خان آئی سی سی کے اجلاس میں شرکت کے لیے دبئی گئے اور وہاں بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کے حکام سے گفتگو کر کے انہیں ٹیم پاکستان بھیجنے پر راضی کر لیا۔

پی سی بی چیئرمین احسان مانی نے کہا کہ مجھے خوشی ہے کہ دونوں کرکٹ بورڈ کھیل اور کرکٹ کھیلنے والی بافخر قوموں کے مفاد میں ایک معاہدے پر متفق ہو گئے۔

انہوں نے دونوں ملکوں کے درمیان کرکٹ سیریز کے انعقاد کے لیے بنگلہ دیش کو راضی کرنے میں مثبت کردار کرنے پر انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے چیئرمین ششانک منوہر کا شکریہ بھی ادا کیا۔

منگل کو آئی سی سی ہیڈ کوارٹر میں ملاقات میں شرکت کرنے والے پی سی بی چیف ایگزیکٹو وسیم خان نے کہا کہ یہ دونوں کرکٹ بورڈز کی کامیابی ہے، مجھے خوشی ہے کہ سیریز کے حوالے سے غیریقینی صورتحال کا خاتمہ ہوا اور اب ہم میچز کے بہترین انعقاد کے حوالے سے منصوبہ بندی کر سکیں گے۔

انہوں نے کہا کہ بنگلہ دیش تین مرتبہ پاکستان کا دورہ کرے گا جس سے انہیں یہ یقین ہو جائے گا کہ پاکستان ککرٹ کھیلنے والے دیگر ملکوں کی طرح محفوظ ملک ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ تین مقامات پر میچز کے انعقاد سے شائقین کرکٹ کو اپنے پسندیدہ کرکٹ اسٹارز کو لائیو ایکشن میں دیکھنے کا موقع مل سکے گا۔

(Visited 22 times, 1 visits today)
loading...

Comments

comments

بنگلہ دیش,

اپنا تبصرہ بھیجیں