’جوتا دکھائی‘ کی رسم میں برا کیا ؟

Loading...

آپ کو فیصل واوڈا سے شکوہ ہے کہ انھوں نے لائیو پروگرام میں فوجی بوٹ پیش کیا، انھوں نے صاف صاف کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن نے لیٹ کر، چوم کر بوٹ کو عزت دی ہے اور انھوں نے ٹیبل پر ایک کپ چائے کے ساتھ بوٹ رکھ کر میڈیا کی، جمہوریت کی اور فلاں فلاں، یہاں تک کہ چائے کی توہین کی ہے۔

مجھے بتائیں ’جوتا دکھائی‘ کی اس رسم میں برا کیا تھا؟ یہ اگر وہی بوٹ ہے جو حواسوں پہ سوار رہتا ہے تو آج اسے دکھانے پر اتنا واویلا کیوں؟

کیا آپ کو چائے کے ساتھ بوٹ کی پیشکش پر اعتراض ہے؟ آپ چائے پینا چھوڑ دیں مگر بوٹ تو وہیں رہے گا۔ کیا ٹیبل پر بوٹ رکھنے کی یہ واردات آپ کے دل کو چبھی؟ آپ ٹیبل کی جگہ کرسی پیش کرسکتے ہیں، زیادہ مجبوری ہوتو اپنا سر پر بھی پیش کیا جاسکتا ہے مگر بوٹ وہیں رہے گا۔ کیا لائیو نشریات میں بوٹ کا لہرایا جانا آپ کو گراں گزرا؟ آپ آئندہ بوٹ والے پروگرام ریکارڈ نشر کرنے کا بندوبست کرسکتے ہیں کیونکہ بوٹ وہیں کا وہیں رہے گا۔

سیانے سراغ لگا رہے ہیں کہ کیمرے کے سامنے لانے سے پہلے یہ بوٹ کہاں تھا؟ آیا یہ بوٹ کیمرے کے پیچھے تھا، یا یہ بوٹ ہمیشہ سے اس سٹوڈیو میں رکھا رہتا تھا؟ اگر یہ بوٹ کسی کے زیراستعمال تھا تو اس کا دوسرا پاؤں کہاں ہے؟ کیا دوسرا جوڑی دار ’بوٹ چھپائی‘ کی نذر ہوگیا؟ اس بوٹ کا تسمہ کس نے کھولا؟ اس بوٹ پر کون سی پالش لگائی گئی جو یہ اتنا چمک دار ہے؟ کیا یہ پالش تازہ ہے؟ بوٹ بھی مسکراتا ہوگا کہ کن احمقوں سے پالا پڑا ہے۔

قصہ یوں ہے کہ ہمارے سکول میں ہر منگل کو فزیکل ٹریننگ کی طویل کلاس ہوتی تھی۔ جسمانی مشقوں کی اور بہت سی اقسام میں ایک تھی پیر کو زور سے زمین پر پٹختے ہوئے ایک ردھم میں مارچ کرنا۔ شاید پرنسپل پر دھاک بٹھانا چاہتے تھے اسی لیے ہمارے پی ٹی ٹیچر کی ڈیمانڈ ہوتی تھی کہ ہر اٹھتے قدم کی دھمک پوری اسمبلی ہال میں سنائی دے۔

میرے سکول شوز ایسے کسی ایڈونچر کے لیے ناکافی تھے سو ابو نے بوٹ خرید دیے، ایسے بوٹ کہ جن کی دھمک پورے اسمبلی ہال کو سنائی دے۔ دوستوں یہی وہ وقت تھا جب مجھے بوٹ کی اہمیت کا اندازہ ہوا۔

صاحبو! بوٹ کی حیثیت نہ پوچھو، ان بوٹوں کو کوئی عام سا جوان بھی پہن لے تو قد تین، چار انچ ایسے ہی اونچا ہو جاتا ہے کجا یہ کہ بوٹ کسی لمبے چوڑے فوجی جوان کی شوبھا بڑھائیں۔ سانپ سے زہریلے دشمن بھی اس بوٹ تلے کچلے جاتے ہیں۔

loading...

یہ تو سیاچن کے گلیشیئرز کو پگھلا دیتا ہے، گوادر کے پانیوں میں بھی گیلا نہیں ہوتا، دہشت گردی کی آگ بجھا دے تو اسی بوٹ پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کی جاتی ہیں، شہید کے خون سے رنگا ہو تو اسے سیلوٹ پڑتے ہیں، سینے سے لگایا جاتا ہے، مگر اسی بوٹ کی غیرمحسوس آہٹ سے گر اسمبلی ہال دھمک جائے تو ایسے بوٹ کی چمک زیادہ دیر نہیں چلتی۔

ہماری سیاست میں ربڑ کی ہوائی چپل کی کوئی جگہ نہیں اس لیے اس کا ذکر بےکار ہے۔ کولا پوری چپل گِھس گئی، چمڑے کے بند جوتوں کا تلا چٹخ گیا، برگرز کے جوگرز کبھی چلے ہی نہیں، کھسے پیروں سے کھسکنے لگے مگر جسے دوام ملا وہ بوٹ ہے۔ ہر موسم میں پائیدار، ہر ناپ پر فٹ، ہر راہ پر رواں۔

PTI کا جواز کیا ہے؟

پشاور کی ’کپتان چپل‘ بنانے والے نے جب جوتے کی ہر قسم کو ذلیل و خوار ہوتے دیکھا تو موچی نے اس کا تلا اتنا موٹا کر دیا کہ اب یہ چپل بوٹ سے ملتی جلتی لگتی ہے، اسے اگر بوٹ چپل کہا جائے تو یہ نام کانوں کو بھلا لگتا ہے۔

پاکستان کی سیاست میں بوٹ کی اہمیت و افادیت یکتا و یگانہ ہے۔ انا پرستی کی جو بھاری گٹھڑی ان سیاسی سورماؤں نے اپنی کندھوں پر ڈھو رکھی ہے اس کا بوجھ صرف بوٹ ہی اٹھا سکتے ہیں۔

سیاست دان یہ بوٹ چھوڑ کر چپل تک آئیں اس کے لیے خود غرضی کی گٹھڑی پھینکنا ہوگی، ہاتھوں میں پالش نہیں بیلچے اٹھانا ہوں گے, ہاتھ ہلانے ہوں گے، بیرون ملک ہوا خوری ختم کر کے گھٹن میں عوام کا ساتھ دینا ہوگا، اپنی پارٹیوں میں بادشاہت ختم کر کے جمہوریت لانی ہوگی، بت پرست خود کو بوٹ پرست کہلوائے جانے پر خواہ مخواہ ہی نالاں ہیں۔

بوٹ کا ذکر چل نکلا ہے تو آخر میں یاد آیا، شام کی ایک خاتون ٹی وی اینکر کوثر البشراوی عرصے سے میڈیا میں تھیں۔ ماضی میں وہ الجزیرہ اور ایم بی سی ٹی وی سے وابستہ رہیں۔  یہاں تک کہ ایک دن انھیں کچھ نیا کرنے کی سوجھی۔

انھوں نے شامی سرکاری ٹی وی کے لائیو پروگرام میں بشارالاسد کی فوج کے ایک جوان کا سیاہ بوٹ دیوانہ وار چومنا شروع کر دیا، ساتھ ہی وہ یہ بھی کہتی رہیں کہ یہ بوٹ ہی شام کو خانہ جنگی سے بچائے گا۔ بوٹ چومنے کے اس واقعے کو آج پانچ برس بیت گئے ہیں۔ شام اب بھی جنگ کے شعلوں میں جل رہا ہے اور بوٹ وہیں کا وہیں ہے۔

(Visited 140 times, 1 visits today)
Loading...
Advertisements

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں