چھوڑ جاتا ہے کو ئی کیسے وفا کرتے ہوئے…… فہیم طارق اعوان

چھوڑ جاتا ہے کو ئی کیسے وفا کرتے ہوئے

کل بتایا مجھے سورج نے یہ ڈھلتے ہوئے

اس مصور سے نہ بن پاۓ گی تصویر تیری

ڈوب جاۓ گا تیری آنکھ میں رنگ بھرتے ہوئے

تیری باتوں کا برا مانوں بھی تو کیسے مانوں

تو حسیں اور بھی لگتا ہے مجھے ,لڑتے ہوئے

بھری محفل میں بھی تھا اسکا دھیاں میری طرف

سامنے بیٹھو ,اشارے سے کہا ,ڈرتے ہوئے

بھول بیٹھی ہوں اسے ,کون تھا وہ یاد نہیں

کپکپائے تیرے ہونٹ کیوں, بات یہ کرتے ہوئے

ہجر کی بارش میں فقط میں ہی نہیں بھیگا

کئی دیۓ بجھ گۓ ,تیری راہ میں جلتے ہوئے

وہ بہت روئے گا ,تڑ پے گا میرے جانے کے بعد

کتنی خوش فہمی تھی ,دیوانے کو مرتے ہوئے

(Visited 82 times, 1 visits today)

Comments

comments

بزم ادب, بزم شاعری, چھوڑ جاتا ہے کو ئی کیسے وفا کرتے ہوئے, شاعری,

اپنا تبصرہ بھیجیں