کیا محبت اور نفرت ایک ساتھ ممکن ہے ؟

روزمرہ زندگی میں ہمیں بہت سے لوگوں دوستوں اور ریووں کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور ہر شخص کی سوچ حالات، خیالات اور ارادے ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں ۔ کہتے ہیں ہر انسان کی کوئی نا کوئی کہانی ضرور ہوتی ہے زندگی میں ہم بے شمار لوگوں سے ملتے ہیں اس طرح ہمیں زندگی کے ہر موڑ پہ کوئی نا کوئی کہانی ضرور سننے کو ملتی ہے جو کہ ایک انسان کو دوسرے انسان سے الگ انسان بناتی ہے ۔ آج ایسے ہی ایک شخص کی کہانی میں آپکو سنانے جا رہی ہوں. جو محبت اور نفرت جیسے فطری جذبات کی شدت میں جل رہے ہیں…

کافی عرصہ پہلے کی بات ہے کہ جب میں نے انہیں دیکھا وہ افسردہ سی حالت میں سمندر کے کنارے پتھروں پہ بیٹھے کسی گہری سوچ میں تھے میں نے ان پر سرسری سی نظر ڈالی اور پھر میں آگے بڑھ گئی اور کافی دیر بعد واپس اسی جگہ سے گزری تو مجھے شدید حیرت کا جھٹکا لگا کہ وہ شخص ابھی بھی اسی حالت میں بیٹھا تھا ۔

میں نے پہلے سوچا جانے دو مگر پھر دل اور دماغ نے کہا زونی جانے مت دو تو میں واپس پلٹی اور بولی ایکسکیوز می ۔ اس نے ایک دم سے میری جانب دیکھا تو میں نے انکی گھبراہٹ بھانپتے ہوئے کہا میں بس پوچھنے آئی تھی کہ آپ ٹھیک ہیں کافی دیر سے ایسے ہی ساکت بیٹھے ہیں ؟ شام ہونے کو ہے میں نے ہلکے مائل تاریک آسمان کی جانب دیکھتے ہوئے کہا ۔

میری یہ بات سن کر وہ مسکرا دیئے اور کہنے لگے زندگی نے ایسے موڑ پہ لا کھڑا کیا ہے کہ اب کچھ یاد ہی نہیں رہتا کب صبح ہوتی ہے اور کب شام کچھ پتہ ہی نہیں چلتا ۔ اور پھر وہ اٹھ کھڑے ہوئے اور جانے لگے ۔ مجھے تھوڑی حیرت بھی ہوئی کیونکہ ان کے چہرے کے تاثرات ایسے تھے جیسے کسی شدید دکھ اور غم نے انہیں ایسا جکڑا ہوا ہو کہ جس سے چاہ کر بھی جان نا چھڑائی جا سکے ۔

کافی دن گزرنے کے بعد میں اپنی کچھ سہیلیوں کے ساتھ سمندر پر گئی ہمارے درمیان یونہی باتیں ہوتیں رہیں اور باتوں باتوں میں ایک دوست نے پوچھا کہ کیا محبت اور نفرت ایک ساتھ ممکن ہے ؟

اس کا یہ سوال سن کر ہم سبھی ہنسنے لگیں ۔ ہمیں لگا کہ یہ اتنا احمکانہ سوال ہے ۔ ایسا بھلا کیسے ممکن ہے ۔ ابھی ہم ہنسنے میں ہی مگن تھے کہ ایک شخص کی آواز سنائی دی جو کہ رہا تھا
بالکل ایسا ممکن ہے ۔ اور بس اتنا کہتے ہی وہ مڑنے لگا ۔
میں نے فورًا پلٹ کر دیکھا تو لگا جیسے اس شخص کو پہلے بھی کہیں دیکھا ہے ۔ پھر اچانک سے یاد آیا کہ یہ تو وہی شخص ہے جو کافی دن پہلے میں نے یہاں دیکھا تھا ۔ میں اب اس کے پیچھے بھاگی مجھے لگا اب وہ اپنی کہانی ضرور سنائے گا ۔
میں نے اسے پھر سے آواز دی ۔ ایکسکیوز می ۔
وہ رک گیا ۔

الحمد اللہ کہنا نہیں، کرنا سیکھو

آپ نے ابھی کہا کہ محبت اور نفرت ایک ساتھ ممکن ہے ۔ مجھے تو اس کی سمجھ نہیں آئی ایسا کیسے ہو سکتا ہے کہ ایک انسان سے یا ایک چیز سے ہم نفرت بھی کریں اور محبت بھی ۔ ایسا بھلا کون کرتا ہے ؟ میں ہنسنے لگی ۔
اب میں اسے غصہ دلا رہی تھی تاکہ وہ مجھے اپنی آب بیتی سنائے ۔
لیکن اسے غصہ نہیں آیا نہایت دھیمے لہجے میں مسکراتے ہوئے کہا ۔ میں کر سکتا ہوں بلکہ کرتا ہوں اب کی بار مجھے حیرت نہیں ہوئی کیونکہ میں یہی سننا چاہتی تھی اور مجھے پتہ تھا اب وہ اپنی کہانی مجھے ضرور سنائے گے۔

loading...

میں نے کہا آپ ؟ وہ کیسے ۔
کہنے لگے : ایک شخص ہے جس سے مجھے شدید محبت بھی ہے اور شدید نفرت بھی ۔ ایک ملک بھی ہے جس سے مجھے شدید محبت بھی ہے اور شدید نفرت بھی ۔
میں نے مزید پوچھا : لیکن کیوں ؟ اور کیسے ؟

اس نے جواب دیا کافی عرصہ پہلے کی بات ہے جب میری شادی ہوئی تھی میں خوش تھا کہ چلو میری بیوی میرے ماں باپ کی خدمت کرے گی میرا خیال رکھے گی مگر ایسا نہیں ہوا ۔ اس نے مجھے دھوکے میں رکھا کہتے ہیں دھوکا مرد دیا کرتے ہیں مگر مجھے ایک عورت نے مار ڈالا.

میں نے اس سے شدید محبت کی اس کا خیال رکھا اسکی تمام خواہشات پوری کیں اسے بیرون ملک جانا تھا میں نے دن رات محنت کر کے اسے کینیڈا میں بھیجا لیکن مجھے تو اس کی خبر ہی نہیں تھی کہ وہ مجھے دھوکا کے کر چھوڑ کر اور لوٹ کر جا رہی ہے ۔ وہاں پہنچتے ہی اس نے مجھ سے طلاق مانگی اور وہاں مجھے اتنا برا بتایا کہ میں نے اس پہ ظلم کیے اسے مارا پیٹا حالانکہ میں اسے کیوں ماروں گا ۔

ہماری تو لڑائی ہی نہیں ہوئی ہم تو بس ایک ماہ ہی ساتھ رہ پائے اس نے مجھے اتنا بدنام کیا کہ اب میں کبھی کینیڈا کی سرزمین پہ قدم بھی نہیں رکھ سکتا ۔ ۔ وہاں جا کر اس نے مجھ سے طلاق لے لی اور اپنی پسندکے لڑکے سے شادی بھی کر لی ۔ میرا بیٹا بھی ہے جو وہیں پیدا ہوا اور میں نے آج تک اس کی شکل بھی نہیں دیکھی .

وہ میرے بچے کو خود پال بھی نہیں رہی بلکہ کوئی اور ہے جو اس کی پرورش کر رہا ہے ۔ اب کی بار انکی آنکھیں شدید اشکبار ہوئیں ۔ آنسو صاف کیئے اور پھر بولے ۔ اب آپ کو پتہ چلا کہ اس دنیا میں سب کچھ ممکن ہے کچھ بھی ناممکن نہیں ۔ محبت اور نفرت ایک ساتھ ممکن ہے ۔ مجھے اس لڑکی سے شدید محبت ہے کہ وہ میری بیوی تھی اور میرے بچے کی ماں ہے اور شدید نفرت بھی کہ اس نے مجھے دھوکا دیا میری محبت کا اس نے یہ صلہ دیا مجھے

۔ مجھے کینیڈا سے محبت ہے کیونکہ وہاں میرا لخت جگر ہے میرا بیٹا ہے لیکن مجھے کینیڈا سے شدید نفرت بھی ہے کیونکہ وہاں جھوٹے اور مکار لوگ بھی ہیں ۔ جن کی نظر میں محبت اور رشتوں کی کوئی قدر نہیں ۔

میں اب تک خاموشی سے ان کی یہ تمام باتیں سن رہی تھی ۔ اب میں نے کہا آپ اپنا بیٹا لے لیں ۔ وہ بھی تو خود نہیں پال رہی ۔ تو اس سے اچھا ماں کا نہیں تو کم سے کم بچے کو باپ کا پیار تو ملے ۔ کہنے لگے میں نے بہت کوشش کی مگر اسے حاصل نہیں کر پایا وہ مجھے ترسانا چاہتی ہے وہ مجھے جان بوج کر اسکی تصاویر بھیجتی ہے تاکہ میں تڑپ تڑپ کر مر جاوں ۔

ان کی آنکھوں سے آنسو مسلسل جاری ہو رہے تھے ۔ اب وہ رکے نہیں بلکہ فورًا اٹھ کر وہاں سے چلے گئے اور اب میں انہیں جاتا ہوا دیکھ رہی تھی ۔ مجھے اس عورت پہ اب شدید قسم کا غصہ آیا ۔ میں سوچ رہی تھی کوئی اتنا ظالم کیسے ہو سکتا ہے ۔ کیا عورت بھی ایسی ہوتی ہے ۔ اگر وہ عورت ہے تو ماں بھی تو ہے ماں بن کر بھی اسے عقل نہیں آئی وہ اپنے بچے کے لیے بھی نہیں سدھری ۔ اس نے اپنے ہاتھوں سے اپنا گھر اپنے بچے کی زندگی برباد کر دی ۔ کتنی بدنصیب عورت ہے وہ ۔ اللہ پاک سب کو نیک ہدایت دے آمین ۔

زونیرہ شبیر
پنڈیگھیب ، اٹک

(Visited 203 times, 1 visits today)

Comments

comments

کیا محبت اور نفرت ایک ساتھ ممکن ہے ؟, محبت اور نفرت,

اپنا تبصرہ بھیجیں