پختون قبائل میں رائج ایک رسم ژاغ کیا ہے…؟

پختون قبائل

پختون جو اپنے رسم و رواج اور روایات کی پابند قوم ہے ان کے ہاں اپنی روایات کو توڑنا بغاوت سمجھا جاتا ہے۔  پختون کلچر میں ایسی روایات بھی پائی جاتی ہیں جن کا ذکر کرنا وقت کی ضرورت ہے۔

 ژاغ (دعویٰ) پشتو زبان کا لفظ ہے جس کے معنی  آواز کے ہیں، لیکن یہ لفظ وزیرستان میں صرف معنی کی حد تک محدود نہیں ہے بلکہ ایک پوری تاریخ رکھتا ہے۔

ژاغ کا لفظ سنتے ہی قبائلی خواتین کے ذہن میں ایک خوف سا اٹھ جاتا ہے کیوں کہ یہ ایک لفظ ان کی پوری ہنستی بستی زندگی کا رخ موڑ دیتا ہے۔

 ایک آدمی جو ایک خاص لڑکی کو اپنی شادی کے لیے پسند کرتا ہے لیکن اسے اس بات کا خوف ہوتا ہے کہ وہ اس اہلیت پر پورا نہیں اترتا جو اس لڑکی کے والدین کو مطلوب ہے تو وہ لڑکا رات کی تاریکی میں لڑکی کے گھر والوں کو دور سے تین دفعہ پکارتا ہے اور ہوائی فائرنگ بھی کرتا ہے کہ اس کا فلاں لڑکی پر (ژاغ) دعوی  ہے۔

 ایسا کرنے سے اکثر وہ لڑکی کو حاصل تو نہیں کر پاتا کیوں کہ اکثر علاقے کے سفید ریش بزرگ مداخلت کر کے لڑکے کے والدین پر کچھ رقم رکھ کر اس معاملے کو ختم کردیتے ہیں۔

 نادیہ نامی لڑکی کہتی ہیں کہ میرے ماموں نے اپنے بیٹے کے لیے میرا رشتہ مانگا لیکن میرے گھر والوں نے انکار کر دیا جس پر میرے ماموں زاد نے مجھ پر ژاغ کر دیا۔ کیوں کہ ان کا دعوی تھا کہ بچپن میں میری ماں نے میرا رشتہ انہیں دیا تھا۔ یوں پورے علاقے میں یہ بات مشہور کر دی کہ نادیہ سے کوئی شادی نہ کرے اس پر میرا (ژاغ) دعویٰ ہے۔ وزیرستانی کلچر میں (ژاغ) شدہ لڑکی کے لیے کوئی رشتہ نہیں بھیجتا۔

ژاغ دعوے کے بعد اگر کوئی رشتہ لے کر چلا بھی جاتا تو فوراً لڑکا اسے دھمکی دیتا کہ اگر پھر یہ رشتہ مانگنے کی ہمت کی تو مجھ سے دشمنی کے لیے تیارہو جاؤ اور یوں وہ لوگ پرائی دشمنی کے خوف سے رشتہ نہیں کرتے اور لڑکی ساری عمر باپ کے گھر پر بیٹھی رہتی ہے۔

ہزاروں سال قبل سالن کیسے پکایا جاتا تھا؟

اسے مجبورا یا تو اُسی لڑکے سے شادی کرنی پڑتی ہے یا ساری عمر اسی ژاغ  کے ساتھ گزارنی پڑتی ہے۔ اکثر اوقات جب لڑکا لڑکی ایک دوسرے کو پسند کرتے ہیں تو ان معاملوں میں بھی (جیسے گھر والے نہیں مانتے) لڑکا یہ کرتا ہے کہ لڑکی پر ژاغ کرتا ہے اور پھر  ظاہر ہے علاقے کے مشران کی پہلی کوشش یہی ہوتی ہے کہ اس رشتے کو طے کر دیا جائے۔ اگر لڑکی اور اس کے گھر والے راضی ہوں تو شادی ہو جاتی ہے۔  لیکن اگر گھر والے راضی نہ ہوں تو پھر رقم رکھ کر معاملہ ختم کرنے کی کوشش شروع ہوتی ہے۔

 نادیہ کا معاملہ تھوڑا مختلف ہے، نادیہ خود راضی نہیں تھیں۔ جرگے کے مشران کو صاف انکار کر دیا کہ وہ شادی نہیں کرنا چاہتیں لیکن لڑکا بضد تھا کہ وہ شادی نادیہ سے ہی کرے گا۔  قتل کے بعد  وہ لڑکا فرار ہوا اور جرگے نے دونوں گھرانوں  کے مابین فیصلہ  کرا دیا۔

طے پایا کہ قتل کے بدلے میں نادیہ کا (ژاغ ) ختم ہوا اور کچھ رقم بھی نادیہ کے گھر والوں کو دے دی گئی۔ نادیہ کی شادی کہیں اور ہوگئی لیکن کیا فائدہ؟ ساری عمر کے لیے نادیہ کو اپنے بھائی کے غم کا تحفہ دے دیا گیا۔

وہ خوش ہیں لیکن جوان بھائی کی موت کا غم ہمیشہ ہمیشہ ان کے ساتھ رہے گا۔ یہ رسوم و رواج ہیں جو ہم پختون قبائلیوں کے لیے سوائے پچھتاوے کے اور کوئی فائدہ نہیں دیں گے۔ ہمیں ایسی تمام رسوم و روایات کو ختم کرنا چاہیے جو کہ ہمارے لیے پچھتاوے کا سبب بنیں۔

قانون کی رو سے پشتون ثقافت میں رائج اس جرم کے ثابت ہونے پر اب 3 لاکھ جرمانہ اور مجرم کو 7 سال قید کی سزا دی جائے گی۔

اب تعلیم کے فروغ سے بہت بہتری آرہی ہے اور پختون خواتین اپنے اسلامی حقوق کے لیے آواز بلند کررہی ہیں اور مرد  بھی اس ظالم روایت سے کنارا کشی اختیار کر رہے ہیں۔

بشکریہ انڈیپنڈنٹ اردو

(Visited 89 times, 1 visits today)

Comments

comments

پختون قبائل,

اپنا تبصرہ بھیجیں