فیصل وواڈا کے عمل سے ملک دشمنوں کو خوشی ہوئی، خورشید شاہ

خورشید شاہ

سکھر: احتساب عدالت نے آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس میں پیپلز پارٹی کے سینئرخورشید شاہ کے جوڈیشل ریمانڈ میں مزید 17 روز کی توسیع کردی۔

سکھرکی احتساب عدالت میں خورشید شاہ کے خلاف آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس کی سماعت ہوئی جس سلسلے میں نیب حکام نے خورشید شاہ کو عدالت میں پیش کیا۔

سوشل میڈیا سے متعلق ایسے رولز بنا رہے ہیں جو عالمی سطح پر رائج ہیں، فروغ نسیم

نیب راولپنڈی کی جانب سےخورشید شاہ سے جیل میں ہی تفتیش کرنے کی درخواست کی گئی جس کو عدالت نے منظور کرلیا اور نیب کو ان سے جیل میں ہی تفتیش کی اجازت دے دی۔

خورشید شاہ اوران کے 17 ساتھیوں پر ایک ارب 30 کروڑ روپے سے زائد آمدن کیس کی تحقیقات کی جارہی ہیں اور نیب راولپنڈی نے عدالت میں 10 سوالات پر مشتمل سوالنامہ جمع کرایا تھا۔

عدالت نے کیس کی مختصر سماعت کے لیے پی پی رہنما کے جوڈیشل ریمانڈ میں مزید 17 روز کی توسیع کردی اور نیب کو ملزم کو 3 فروری کو دوبارہ پیش کرنے کی ہدایت کی۔

میڈیا سے گفتگو

عدالت میں پیشی کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے خورشید شاہ نے کہا کہ پہلے دن سے طے تھا کہ آرمی چیف کو عہدے میں توسیع ملنی چاہیے لیکن حکومت کی غیر سنجیدگی کی وجہ سےاداروں کو ڈسٹرب کیا جارہا ہے۔

فیصل واوڈا کے معاملے پر انہوں نے کہا کہ پروگرام پر پابندی کے بجائے حکومت کو اپنے بندوں کو ایسےعمل سے روکنےکی ضرورت ہے، فیصل وواڈا کے عمل سے ملک دشمنوں کو خوشی ہوئی، سمجھ نہیں آتا کہ آخر حکومت کرنا کیا چاہتی ہے۔

واضح رہے کہ قومی احتساب بیورو (نیب) سکھر کی ٹیم نے خورشید شاہ کے خلاف آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس میں ایک ارب 23 کروڑ روپے سے زائد کرپشن کا ریفرنس احتساب عدالت سکھر میں دائر کیا۔

ریفرنس میں ان کی بیگمات ناز بی بی اور طلعت بی بی بھی شامل ہیں جب کہ خورشید شاہ کے بیٹے فرخ شاہ، زیرک شاہ اور بھتیجے اویس شاہ اور جنید قادر شاہ سمیت 18 افراد کو ریفرنس میں نامزد کیا گیا ہے۔

نیب ریفرنس میں خورشید شاہ کے دوست نثار پٹھان، ان کے بیٹے زوہیب میر، ثاقب رضا اور محمد شعیب پٹھان کا نام بھی شامل ہے۔

ریفرنس میں رحیم بخش اعوان اور ان کے بیٹے محمد ثاقب اعوان کے علاوہ خورشید شاہ کے دوست ٹھیکیدار اکرم خان کا نام بھی شامل کیا گیا ہے۔

(Visited 25 times, 1 visits today)

Comments

comments

خورشید شاہ,

اپنا تبصرہ بھیجیں