پاکستان کا نام گرے لسٹ سے نکالنے یا برقرار رکھنے کے متعلق پیرس میں اجلاس جاری

چین
Loading...

اسلام آباد: پاکستان کا نام گرے لسٹ سے نکالنے یا نہ نکالنے کا جائزہ لینے کے لیے ایف اے ٹی ایف کا ابتدائی اجلاس پیرس میں شروع ہوگیا ہے جبکہ باضابطہ اجلاس آج شروع ہوگا جو اکیس فروری تک جاری رہے گا۔

فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) اجلاس میں پاکستان کا نام گرے لسٹ سے نکالنے یا برقرار رکھنے سے متعلق فیصلہ ہوگا،5 روزہ اجلاس میں پاکستانی حکام کی طرف سے اٹھائے جانیوالے اقدامات کا جائزہ لیا جائے گا اور حافظ سعید کی سزا کے بعد ہونیوالی پیشرفت کے تناظر میں گرے لسٹ کے حوالے سے پاکستان کو مدد ملے گی ،اجلاس میں وزارت خزانہ اور اسٹیٹ بینک کے حکام بھی شریک ہوں گے۔

تفصیلات کےمطابق فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف)نے کل 27ایکشن پلان میں سے 14 نکات پر پاکستان کی جانب سے مکمل عمل درآمد دیکھا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک انسداد منی لانڈرنگ کے نگراں ادارے کی تمام شرائط پر عمل پیرا ہو رہا ہے۔

گزشتہ ایک سال کے دوران اسلام آباد کی پیشرفت کو مدنظر رکھتے ہوئے پاکستان کو بلیک لسٹ میں ڈالنے کا کوئی بھی امکان مکمل طور پر ختم ہوگیا ہے۔ اگرچہ ، بھارت نے پاکستان کو بدنام کرنے کی کوششیں کیں لیکن سفارتی محاذ پر بھر پور لابنگ کے باوجود وہ ایسا کرنے سے قاصر رہا۔

پاکستان کامیابی کا مظاہرہ کرنے میں اس لئےکامیاب رہا کیونکہ فوج اورحکومت ایک صفحے پر تھے اور قریبی رابطے و ہم آہنگی کے ذریعے پیشرفت کی گئی۔تکنیکی بنیادوں پرپیشرفت کرکے کل 27ایکشن پلان میں سے 14 نکات پر مکمل عمل درآمدکا اسٹیٹس حاصل کرنے کے بعد اب یہ سیاسی اور سفارتی کوششیں ہوگی جو پاکستان کو گرے لسٹ سے باہر آنے میں مدد فراہم کرسکتی ہیں۔

پاکستانی حکام جو اس وقت پیرس میں ہیں وہ مکمل طور پر خاموش ہیں اور جب اس نمائندہ نے رابطہ کیا تو انہوں نے جواب دیا کہ تمام چیزیں خفیہ ہیں لہٰذا اجلاس کے اختتام پر ہی سرکاری موقف پیش کیا جائیگا۔ بہر حال،اعلیٰ سرکاری ذرائع نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ایف اے ٹی ایف کے مشترکہ گروپ نے پیرس میں جاری اجلاس سے متعلق اپنی پیش کردہ رپورٹ میں قرار دیا ہےکہ پاکستان نے مزید 9 نکات پرمکمل عملدرآمد کیاہے۔

Loading...

قبل ازیں ایف اے ٹی ایف نے اسلام آبادکی جانب سے 5 نکات پرمکمل عمل درآمد کو تسلیم کیا تھا جس کے بعد مجموعی طور پر پاکستان نے ایف اے ٹی ایف کے کل 27 ایکشن پلان میں سے 14پر تسلی بخش پیشرفت کی ہے۔

اتوار کو یہاں دی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے اعلیٰ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ اب ایف اے ٹی ایف جاری اجلاس میں پاکستان کوگرے لسٹ سے وائٹ لسٹ میں رکھنے یا پاکستان کو مزید 3سے 6ماہ کی مدت تک گرے لسٹ میں رکھنے کا فیصلہ کیا جائے گا۔

16فروری سے 21 فروری تک جاری ایف اے ٹی ایف اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی کے لیے وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور حماد اظہر کی زیر قیادت ایک وفد پیرس میں موجود ہے۔

پاکستان ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں رہے گا یا نہیں؟ فیصلہ…

اکتوبر 2019میں گزشتہ اجلاس کے موقع پر کل 27ایکشن پلان میں سے 5نکات پرپاکستان کی پیش رفت کو مکمل طور پرعمل در آمد قرار دیا گیا تھا اور اب حال ہی میں چین میں ہونے والے ایف اے ٹی ایف اجلاس کے مشترکہ گروپ نے اپنی فائنڈنگز پیرس میں ہونےوالے ایف اے ٹی ایف اجلاس میں پہنچا دی ہیں جس میں باقی 22ایکشن پلان میں سے 9نکات پرپاکستان کے مکمل عمل درآمد کو تسلیم کیا گیا ہے۔

اس بار ایف اے ٹی ایف کے مشترکہ گروپ نے پاکستان کی پیشرفت کو مکمل طور پر تسلیم کیا ہے ان میں’’اسٹیٹ بینک پاکستان کے ذریعہ مالیاتی اداروں کے آڈٹ،ایف ایم یو کے ذریعہ مشکوک ٹرانزیکشن رپورٹس کا پھیلاؤ او تجزیہ، دہشت گردی کی مالی اعانت کے خطرے کی تشخیص اور اسکے نفاذ،وفاقی اور صوبائی محکموں کے باہمی رابطوں کے طریقہ کار، انسداد دہشت گردی کے محکموں کے ذریعہ متوازی تحقیقات، نقدی اسمگلنگ کے خطرے کی تشخیص، نقد ی اسمگلنگ کی روک تھام کے لئےڈومیسٹک تعاون کا نفاذ،آگاہی اور تربیتی سیشن کے ذریعے عدلیہ کے TFکو سمجھنا، نامزد غیر بینکاری مالیاتی اداروں اور غیر منافع بخش تنظیموں کی خطرے پر مبنی رسائی‘‘ شامل ہیں۔

(Visited 36 times, 1 visits today)

loading...
Advertisements

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں