حکمران میڈیا سے خوفزدہ کیوں ہوتے ہیں؟

میڈیا
Loading...

حکومتوں سے مختلف نہیں ہے۔ حکمران جب اپوزیشن میں ہوتے ہیں تو آزاد میڈیا کو پسند کرتے ہیں اور جب اقتدار میں ہوتے ہیں تو اسی سے نفرت کرتے ہیں۔ ’خفیہ ریگولیشنز‘ کے ذریعے سوشل میڈیا پر پابندیاں عائد کرنے کی حالیہ کوشیشوں کا مقصد اختلافی آوازوں کو چیک کرنا ہے جن پر پہلے ہی غیرسرکاری طور پر پرنٹ اور الیکٹرونک میڈیریا میں پابندی عائد کردی گئی ہے۔

تحقیقات سے انکشاف ہوا ہے کہ کچھ مضبوط آوازیں سامنے آئیں اور ان کی تقاریر اور عوامی جلسوں پر پابندی کے باوجود وہʼسوشل میڈیاʼ پلیٹ فارم کو کافی موثر طریقے سے استعمال کر رہے تھے اس کے بعد سے یہ قواعد و ضوابط کچھ مہینوں سے زیر غور تھے۔ کالعدم قرار دیئے جانے والے گروپس اور کچھ دیگر گروپس کی سرگرمیوں کے بارے میں بھی کچھ تشویش پائی جاتی تھی۔

حال ہی میں غیر ملکی میڈیا کے لئے کام کرنے والے کچھ صحافیوں کو ایک مخصوص گروہ کی سرگرمیوں کی کوریج کے لئے ʼمتنبہʼ کیا گیا تھا اور کچھ لوگوں کو ʼدفاترʼ میں بھی بلایا گیا تھا اور انہیں اس کے بارے میں بھی بتایا گیا تھا۔

جس طرح سے ʼسوشل میڈیاʼ کے قواعد و ضوابط کو پارلیمنٹ کو اعتماد میں لئے بغیر ہی بنایا گیا تھا، ان اصولوں کےʼمصنفʼ کے بارے میں بہت سارے سوالات اٹھتے ہیں، جن پرعمل درآمدʼ غیر سرکاری پابندی ʼاور سخت رکاوٹ‘ کا باعث بن سکتا ہے جس کے بعد سوشل میڈیا کارکنان کیخلاف کارروائی کی جاسکتی ہے۔

و زیراعظم عمران خان جنھوں نے حال ہی میں لوگوں کو مشورہ دیا تھا کہ وہ اخبارات نہ پڑھیں یا پرائم ٹائم ʼٹی وی ٹاک شوزʼنہ دیکھیں،ʼجمعہ کے روز مختلف ٹی وی چینلز اور اخبارات کے نامہ نگاروں اور بیورو چیفس سے ملاقات کی اور پریس کیخلاف اپنی شکایت درج کرائی۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ گذشتہ دو سالوں سے انھیں کسی اور سے زیادہ ʼمیڈیاحملوںʼ کا سامنا کرنا پڑا ہے اور یہاں تک کہ جسے وہ اپنے اور حکومت کے خلاف”جھوٹی کہانیاں شائع کرنا”کہتے ہیں، اس پرپاکستان کے سب سے بڑے میڈیا ہاؤسز جنگ اور ڈان کا نام بھی لیا۔ اپنی دلیل کی تائید کےلئے انہوں نے اپنے نئے مقرر کردہ میڈیا معاون شہباز گل سے بھی میڈیا کو مبینہ طور پر ʼبے بنیاد کہانیوںʼ کے بارے میں بتانے کو کہا اور انھوں نے کہا کہ ایسی 20 خبریں ہیں۔

انھوں نے بتایا اگر ایسی خبریں برطانیہ میں شائع ہوتی تو ایسے اخبار بندکردیئےجاتے۔ وزیراعظم نے خاص طورپر اپنے چین دورے کے بارے میں جعلی خبر کا حوالہ دیا، جس کے بارے میں انھوں نے کہا کہ اس سے انھیں کافی بے عزتی کاسامنا کرناپڑا۔

انھوں نے یہاں تک کہاکہ جس چینل نے جعلی خبر چلائی اس کے خلاف انھوں نےپیمراسےکوئی ریلیف نہیں لیا۔ وزیراعظم نے برطانیہ کی مثال دی جہاں میڈیا کو مضبوط ہتک عزت کے کیس کا سامنا کرنا پڑسکتا تھا، یہاں تک ان میں سے کچھ کو بند کردیا گیا ہے۔

Loading...

سوال یہ ہےکہ وزیراعظم کو کس نے روکاہے کہ کہ وہ مضبوط ’ڈی فیمیشن لاز‘نہ بنائیں، جہاں فیصلہ سالوں میں نہیں بلکہ مہینوں میں آناچاہیئے۔ یہ قانون سب کیلئے ہوناچاہیئےکہ کوئی بھی کسی کے خلاف بے بنیاد الزامات عائد نہ کرسکے اور یہ صرف میڈیاتک محدود نہیں ہونا چاہیئے۔ کس نے وزیراعظم اور حکومت کو میڈیا کمیشن کی سفارشات کو نافذ کرنے سے روکا ہے جو سپریم کورٹ نے 2012 میں تشکیل دیا تھا اور اس کی رپورٹ وزیراعظم کے آفس اور وزارتِ اطلاعات کے پاس پڑی ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے اقتدار میں آنے سے قبل یہ وعدہ کیا تھا وہ وزارتِ اطلاعات ختم کردیں گے اور پی ٹی وی اور ریڈیو پاکستان کو بی بی سی کی طرز پر ایک خودمختار باڈی بنائیں گےاور فریڈم آف پریس کا دفاع بھی کیا تھا۔

سوشل میڈیا قوانین… آئیڈیاز قید کرنے کا منصوبہ..؟

ایک بار انھوں نے ان کو سپورٹ کرنے پر میڈیا کو کریڈٹ بھی دیا تھا۔ ’’ میں اس مقام پر کبھی نہ ہوتا جس پرآج ہوں اگر آپ لوگ میرے ساتھ نہ ہوتے۔‘‘ ایسا انھوں نے ایک جلسےمیں کہا تھا اورکئی مواقع پر یہ دہرایا تھا۔ ماضی میں بھی رہنما پریس کی آزادی اور آزادیِ اظہارِ رائے کے تحفظ کے وعدے کرچکے ہیں۔ 70کی دہائی میں وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے بھی پریس کی آزادی اور نیشنل پریس ٹرسٹ کو ختم کرنے کا وعدہ کیا تھا لیکن دونوں کو استعمال کیا۔

انہوں نے بھی آزاد پریس کو برداشت نہیں کیا۔ جہاں تک سینسر شپ اور میڈیا پر پابندیوں کی بات ہے تو جنرل ضیاء کا دور بدترین دور تھا جب صحافیوں کو کوڑے بھی مارے گئے۔ محمد خان جونیجو اور بے نظیر بھٹو کی پہلی حکومت کے نتیجے میں کچھ بہتری آئی تھی اور پریس نے آزادانہ طور پر ان کی حکومتوں پر تنقید کی۔ سابق وزیر اعظم نواز شریف نے اپنی دوسری حکومت کے دوران ’سزاو جزا‘دونوں ہی کی پالیسی استعمال کی۔

انہوں نے پریس کےخلاف اپنے احتساب بیورو کے سربراہ سیف الرحمن کو استعمال کیا۔ بےنظیر نے اپنی دوسری حکومت کے دوران کراچے سے شائع ہونے والےشام کے چھ اخبارات پر کچھ دن کیلئے پابندی عائد کی تھی۔ جنرل پرویز مشرف دور میڈیا کو آزادی دینے اور پابندیوں کا مرکب تھا۔

انہوں نے خود ایک بار کہا تھا کہ وہ اپنی ہی تخلیق کا شکار ہو جاتے ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہےکہ نجی ٹی وی چینلز کو لائسنس کی اجازت دینے کی ابتدائی پالیسی کے بعد ان کی سرکاری ایجنسیوں نےپریس کو قابو کرنے کے لئے حربے استعمال کیے۔

تاہم جب سے عمران خان اقتدارمیں آئے وہ میڈیاکےسخت ناقد رہے اور یہ ان کے غم و غصے کی وجہ تھی، ان کی حکومت نے بڑے پیمانے پر اشتہارات ختم کیے، جس سے سنجیدہ مالی بحران پیدا ہوا، اس کے بعد میڈیا کو کنٹرول کرنے کے لئے کئی قوانین بنائےگئے۔

(Visited 57 times, 1 visits today)
Loading...
Advertisements

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں