مقبوضہ کشمیر میں لاک ڈاؤن کے باعث صحافی مزدوری پر مجبور

مقبوضہ کشمیر

سری نگر: مقبوضہ کشمیر میں بھارتی پابندیوں کے باعث صحافی بے روزگار ہوگئے اور روزی روٹی کے حصول کے لیے مزدوری کرنے پر مجبور ہوگئے۔

برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق کشمیر میں 29 سال صحافی منیب الاسلام 5 سال سے فوٹو جرنلسٹ کے طور پر کام کررہے تھے۔

ان کی کھینچی گئی تصاویر نہ صرف بھارت کے اخبارات بلکہ غیر ملکی میڈیا کی بھی زینت بنتی رہیں۔ لیکن اگست 2019 میں مودی حکومت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرکے اسے بھارت میں ضم کرلیا گیا اور احتجاجی مظاہروں کو کچلنے کے لیے کرفیو سمیت سخت پابندیاں عائد کردی گئیں جن میں انٹرنیٹ اور ٹیلی فون کی بندش بھی شامل ہے۔

مقبوضہ کشمیر میں پابندیوں کے نتیجے میں منیب الاسلام اور ان جیسے دیگر کشمیری صحافیوں کے پاس رپورٹنگ کا کوئی ذریعہ نہیں رہا اور وہ بے روزگار ہوگئے۔ بھارتی اقدامات کے باعث صرف صحافی ہی بے روزگار نہیں ہوئے بلکہ کشمیر میں ہر شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کو معاشی طور پر شدید نقصان پہنچا۔

loading...

افغان طالبان اور امریکا کے درمیان عارضی جنگ بندی پر اتفاق ہو گیا

منیب نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں نہ شعبہ صحافت اس لیے اختیار کیا کہ کیونکہ میں اپنے لوگوں کے لیے کچھ کرنا چاہتا تھا، میں نے پوری لگن کے ساتھ کشمیر کے تنازع کی کوریج کی لیکن 5 اگست کے اقدام سے میری یہ سفر روک گیا۔

منیب کی اہلیہ بیمار ہیں اور منیب خاندان کی روزی روٹی کا بندوبست کرنے کے لیے 500 روپے دیہاڑی پر زیر تعمیر عمارت پر اینٹیں ڈھوتے ہیں۔ منیب کہتے ہیں کہ انٹرنیٹ اور فون پر پابندی کے باعث ان کے پاس رپورٹنگ کا کوئی ذریعہ نہیں رہا۔

یہ صرف منیب الاسلام کی کہانی نہیں بلکہ مقبوضہ کشمیر میں ہر صحافی کی اس وقت کم و بیش یہی صورتحال ہے۔ دیگر صحافیوں نے کہ ان میں سے کوئی ڈیری فارم پر کام کررہا ہے تو کوئی اسی طرح کے چھوٹے موٹ کام کرکے پیٹ کا ایندھن بھرنے کی کوشش کررہا ہے۔

(Visited 15 times, 1 visits today)

Comments

comments

صحافی, مقبوضہ کشمیر,

اپنا تبصرہ بھیجیں