667 میں سے 149فلور ملز گندم کی چوری میں ملوث پائی گئیں، شہزاد اکبر

شہزاد اکبر
Loading...

اسلام آباد: وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر کا کہنا ہے کہ مائنس ون وفاق اور نہ ہی  پنجاب میں ہوگا کیوں کہ مائنس ون خواہشات پر نہیں ہوتا۔

حکومت جواب دے کہ کلبھوشن جادھو کو ریلیف کیوں دینا پڑ رہا ہے؟ بلاول بھٹو

معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر نے پریس کانفرنس میں کہا کہ مائنس ون کی خواہش پنجاب میں پوری ہوسکتی ہے نہ مرکز میں، شوگر ملز مالکان کے خلاف کمیشن کی رپورٹ کے مطابق کارروائی کا آغاز ہوگا، ہرادارہ اپنے قانون کے تحت کارروائی کرے گا، سات مختلف ایکشن تجویز کیے گئے جن پر مختلف اداروں نے کارروائی کرنا تھی۔

شہزآد اکبر نے یہ بھی کہا کہ عزیر بلوچ کا معاملہ 100 فیصد صوبائی سبجیکٹ ہے، سندھ حکومت ان سے 157 افراد کی ہلاکت کا حساب لے۔

 667 میں سے0 149فلور ملز گندم کی چوری میں ملوث پائی گئیں، شہزاد اکبر

وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے احتساب و داخلہ مرزا شہزاد اکبر نے آٹا بحران کی رپورٹ کے حوالے سے کہا ہے کہ 667 میں سے 149فلور ملز گندم کی چوری میں ملوث پائی گئیں۔

شہزاد اکبر کا کہنا تھا کہ چینی بحران پیدا ہوا جس پر وزیراعظم نے تحقیقات کی ہدایت کی، چینی کا بحران 2007 اور 2009 میں بھی پیدا ہوا تھا لیکن کسی کمیشن کی رپورٹ آج تک پبلک نہیں ہوئی، شوگر ملز ایسوسی ایشن کا سندھ چیپٹر سندھ ہائیکورٹ گیا اور وہاں سے اسٹے لیا۔

انہوں نے کہا کہ مسابقتی کمیشن اس لیے بنا ہے کہ کاروبار پر کوئی اجارہ داری نہ قائم کرے، مسابقتی کمیشن نے کچھ لوگوں کی نشاندہی کی اور 2009 میں جرمانے عائد کیے، ملک بھر میں 20 ارب سے زائد جرمانے ہوئے لیکن ان افراد نے عدالتوں سے حکم امتناع لے لیا۔

شہزاد اکبر کا کہنا تھا کہ چینی کے ساتھ آٹے سے متعلق بھی کمیشن بنا تھا، آٹے کے بحران پر بھی بہت سے اقدامات کی سفارش کی گئی، 2018 رمضان پیکج میں ملوں کو گندم سبسڈائز نرخ پر جاری کی گئیں، حکومتی سبسڈی کے تحت 667 آٹا ملز کو گندم فراہم کی گئی جن میں سے 149 آٹا ملز گندم کی چوری میں ملوث پائی گئیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ محکمہ خوراک کے 156 افراد کے خلاف بھی کارروائی ہورہی ہے، 60 سے 70 سرکاری افراد براہ راست ملز کے ساتھ ملوث ہیں، ملوں کی چوری سے 25 کروڑ روپے کے لگ بھگ نقصان ہوا، اینٹی کرپشن پنجاب 19کروڑ روپے لے کر خزانے میں جمع کراچکی۔

معاون خصوصی کا کہنا ہے کہ آٹے کے حوالے سے 156 افراد کے خلاف ایکشن لیا جائے گا، ان میں 50 سے 60 وہ لوگ ہیں جو براہ راست آٹے کے معاملے میں ملوث ہیں اور آٹے کے حوالے حکومت چیزوں کو دیکھ رہی ہے، اب پنجاب میں 20 کلو آٹے کا بیگ 860 روپے میں مل رہا ہے۔

loading...

اس دوران صحافیوں نے بتایا کہ 20 کلو آٹے کا تھیلا 860 نہیں 1150 روپے میں مل رہا ہے تو انہوں نے جواب میں کہا کہ ایک ہیلپ لائن موجود ہے، اگر زائد قیمت میں آٹا ملے تو اس پر بتائیں۔

’ شوگر ملز مالکان کے خلاف کمیشن کی رپورٹ کے مطابق تادیبی کارروائی کا آغاز ہوگا‘

شوگر انکوائری کمیشن کی رپورٹ پر عمل درآمد سے متعلق شہزاد اکبر نے کہا کہ شوگر ملز مالکان کے خلاف کمیشن کی رپورٹ کے مطابق تادیبی کارروائی کا آغاز ہوگا، سات مختلف ایکشن تجویز کیے گئے جن پر مختلف اداروں نے کارروائی کرنا تھی۔

ان کا کہنا ہے کہ نیب کو ایک سبسڈی سے متعلق انکوائری دی جارہی ہے، نیب آرڈیننس کے تحت وہ تمام سبسڈیز کو دیکھ سکتا ہے لہٰذا حکومت نے ایک ریفرنس بھیج دیا ہے جب کہ مسابقتی کمیشن کو ایک انکوائری بھیجی جارہی ہے اور ساتھ ہی اسٹیٹ بینک کو کہا گیا ہے کہ شوگر ایکسپورٹ پر لیے جانے والے قرضوں کی تحقیقات کرے، دیکھا جائے کہ جان بوجھ کر ڈیفالٹ تو نہیں کیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ایف آئی اے کو کارپوریٹ فراڈ کا معاملہ بھجوایا گیا اور افغانستان چینی کی ایکسپورٹ کی تحقیقات بھی سونپی گئی ہے، جب کہ اینٹی کرپشن ڈپارٹمنٹ کو بھی رپورٹس کارروائی کیلئے بھیجی جارہی ہیں۔

خیال رہے کہ رواں سال جنوری میں ملک بھر میں گندم کے بحران کے باعث آٹے کی قیمت 70 روپے فی کلو تک جا پہنچی تھی۔

اقتصادی رابطہ کمیٹی نے بحران پر قابو پانے کے لیے 3 لاکھ میٹرک ٹن گندم درآمد کرنے کی منظوری دی تھی۔

وزیراعظم عمران خان نے بھی آٹے کے بحران اور قیمتوں میں اضافے کا نوٹس لیتے ہوئے گندم ذخیرہ کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کرنے کی ہدایت کی تھی لیکن اس کے باوجود اب بھی آٹے اور روٹی کی قیمتوں میں اضافہ ہورہا ہے۔

(Visited 19 times, 1 visits today)
Loading...
Advertisements

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں