دہشتگردوں کی فنڈنگ کی روک تھام، ایف اے ٹی ایف پاکستانی حکمت عملی سے مطمئن

ٹی ایف

پیرس: فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) اجلاس میں دہشت گردوں کی فنڈنگ روکنے کے لیے رکن ممالک نے پاکستان کی حکمت عملی پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔

پیرس میں ایف اے ٹی ایف اجلاس کے دوسرے روز دہشتگردوں تک فنڈز کی روک تھام کے لیے مربوط حکمت عملی پیش کی گئی۔

پاکستانی حکام نے اجلاس کے شرکا کو دہشتگردوں کی مالی معاونت کرنے والوں کے خلاف کارروائی سے آگاہ کیا اور بتایا کہ فنڈنگ روکنے کے لیے تمام اہداف پر پیش رفت کی گئی۔

پاکستانی حکام نے کہا کہ منی لانڈرنگ میں ملوث افراد پر جرمانہ دگنا کرنے کی قانون سازی آخری مراحل میں ہے جبکہ ستائیس اہداف میں سے چودہ پر واضح پیشرفت کی ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل آج وزیراعظم اور آرمی چیف سے ملاقات کریں گے

ذرائع کے مطابق دہشتگردوں تک فنڈنگ روکنے اور فنڈز کی روک تھام کے لیے مربوط حکمت عملی پر رکن ممالک اظہار اطمینان کیا۔

ذرائع وزارت خزانہ کے مطابق مشکوک ٹرانزیکشن رپورٹ کا ڈیٹا پانچ سال کی بجائے دس سال تک رکھا جائے گا۔ منی لانڈرنگ میں ملوث افراد کی جائیداد چھ ماہ سے ایک سال تک ضبط کی جائیں گی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پیرس میں 21 فروری تک جاری رہنے والے اجلاس میں پاکستان کے اقدامات کا جائزہ لیا جائے گا۔ پہلے دن پاکستانی حکام نے ایف ٹی ایف کے اجلاس کو بتایا کہ ایکشن پلان پر ٹھوس پیش رفت کرکے منی لانڈرنگ اور ٹیرر فنانسنگ کے خطرات پر قابو پالیا گیا ہے۔ 27 میں سے 14 پر مکمل اور 11 نکات پر جزوی طور پر عمل درآمد کرلیا گیا ہے، صرف دو نکتوں پرعمل نہیں کیا جاسکتا۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ پراسیکیوشن کو مزید تیز و موثر بنانے کے لیے ایف اے ٹی ایف کی سفارشات کے مطابق قوانین میں ترامیم لائی جارہی ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس کے پہلے دور میں دہشت گردی کی مالی معاونت روکنے کے لیے پاکستان کے اقدامات پر اطمینان کا اظہار کیا گیا۔ پاکستانی وفد منگل کے روز بھی اجلاس کو بریفنگ اور سوالات کے جواب دے گا۔

(Visited 15 times, 1 visits today)

Comments

comments

ٹی ایف,

اپنا تبصرہ بھیجیں