کبوتر باز سیاست دان

اگر آپ میں سے کسی نے کبوتر بازی کی ہو تو آپ کو پتہ ہوگا کہ جب بھی نیا کبوتر خریدا جاتا ہے تو اس کے پر کاٹے جاتے ہیں تاکہ وہ واپس اپنے پرانے گھر نہ چلا جائے۔

جب تک نئے پر آتے ہیں کوشش کی جاتی ہے کہ کبوتر اپنے نئے مالک، ساتھیوں اور گھر سے آشنا ہو جائے اور پرانے گھر کو بھول جائے۔

شاطر کبوتر باز ناتجربہ کاروں کو اپنا کبوتر بیچنے کے بعد کوشش کرتے ہیں کہ وہ واپس ان کے پاس آجائے یعنی رقم بھی اپنی اور کبوتر بھی۔ کبوتر ٹولیوں میں اڑتے ہیں اور اپنے مالک کا دل بہلاتے ہیں۔

کبوتر کی ایک اور عادت بہت مشہور ہے کہ جب بلی سامنے آتی ہے تو اڑ کر جان بچانے کی بجائے اپنی آنکھیں بند کر لیتا ہے اور تصور کرتا ہے کہ مصیبت ٹل جائے گی۔ مجھے آپ کو یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ اس کا انجام کیا ہوتا ہے۔

اب ذرا ہماری سیاست اور سیاست دانوں پر نظر ڈالیں۔ کیا پارٹیوں کے سربراہ کبوتر بازوں سے مختلف ہیں؟ پارٹی میں اہم عہدے انہی کو دیے جاتے ہیں جن میں کبوتر جیسی خصوصیات ہوں۔ آپ ٹی وی ٹاک شو میں ان کی باتیں سنیں، ایک جملے میں کئی کئی دفعہ دھراتے ہیں کہ جو پارٹی مالک کا فیصلہ ہو۔

جب کوئی نیا آدمی (جسے عرف عام میں لوٹا کہا جاتا ہے) پارٹی میں آتا ہے تو ٹکٹ اس شرط پر ملتا ہے کہ اپنے پر کٹوا لو۔ یہ سہولت انہیں احسن طریقے سے اٹھارویں ترمیم میں دی گئی ہے کہ جس نے پارٹی کا ٹکٹ لیا وہ پارٹی کے مالکوں کا وفادار رہے گا۔ پھر جب یہ آدمی اسمبلی میں پہنچ جائے تو اسے ترقیاتی فنڈ کا دانہ ڈالا جاتا ہے تاکہ جو رہی سہی خود داری اور آزادی ہے وہ بھی سلب ہو جائے اور گھر نہ چھوڑے۔

پارٹی مالک جب اشارہ کرتا ہے تو یہ سب ٹولیوں میں اڑتے ہیں اور اپنی ذاتی پہچان بھول جاتے ہیں، جس کا شاندار مظاہرہ پچھلے دنوں ایکسٹینشن قانون سازی میں ہوا۔ مگر یہی آدمی جب کسی طاقت ور کو دیکھتا ہے تو آنکھیں بند کر لیتا ہے جس کا انجام بھی آپ نے کئی مرتبہ دیکھا ہے۔

آپ نے یہ بھی دیکھا ہے کہ جب ہوا بدلتی ہے تو کس طرح شاطر کبوتر باز انہیں دوسرے گھر بھیج دیتا ہے لیکن صرف ایک اشارے پر وہ واپس ان کے پاس آ جاتا ہے۔ کیا اس قسم کے سیاست دانوں سے آپ یہ توقع کر سکتے ہیں کہ وہ اس قوم کی تقدیر بدلیں گے؟

میں خود ایک سیاست دان ہوں اس لیے اپنے ساتھیوں کو بےتوقیر نہیں کرسکتا مگر میں کبوتر کی مثال دے کر اس بات کی وضاحت کرنا چاہتا ہوں کہ ہمیں اپنی سیاست کو بدلنا ہوگا۔ ملک کی تقدیر سب مل کر بدلتے ہیں لیکن اس عمل کی رہبری کا فرض سیاست دانوں کو اٹھانا پڑتا ہے۔

قائد اعظم، مینڈیلا، ڈینگ ثیاوپنگ، لی کون یو اور بہت سے ایسے سیاست دانوں کی مثالیں موجود ہیں جنہوں نے اپنی قوم کی تقدیر بدلی مگر وہ اکیلے نہیں تھے بلکہ ان کے ساتھ پوری ٹیم تھی۔

میں اس بات پر قائل ہوں کہ ہر پارٹی میں قابل لوگوں کی کمی نہیں لیکن وہ کبوتر بننے کو تیار نہیں۔ اس لیے پارٹی سربراہان انہیں آگے آنے نہیں دیتے اور ان کے پر کاٹ کر رکھتے ہیں۔

ہم مڈل کلاسیے

میں ہر پارٹی کے ایسے لوگوں سے رابطے میں ہوں اور انہیں اس بات پر قائل کرنے کی کوشش کر رہا ہوں کہ اب سب کو مل کر ایک مذاکراتی میز پر آنا پڑے گا تاکہ ایک نئی عوامی جمہوریہ قائم کی جا سکے۔

موجودہ جمہوریہ ناکام اس لیے ہے کہ اس میں سیاسی پارٹیاں مالکوں کی غلام ہیں۔ ہمیں پہلے ان سیاسی پارٹیوں میں آزادی لانا ہوگی اور پھر اس ملک کی رہبری کرتے ہوئے حقیقی تبدیلی لانا ہوگی۔ میں کئی مرتبہ بتا چکا ہوں کہ ہم سیاسی پارٹیوں کے صرف انہی لوگوں سے مذاکرات کریں گے جو اپنی پارٹی مالکان کے غلام نہ ہوں۔

(Visited 57 times, 1 visits today)
loading...

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں