کیماڑی میں مبینہ زہریلی گیس سے ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 14 ہوگئی

زہریلی

کراچی میں گزشتہ 48 گھنٹوں میں مبینہ زہریلی گیس سے اموات کی تعداد 14 ہوگئی ہے۔

اب تک ضیاء الدین میں 9، افراد انتقال کر چکے ہیں، سول اسپتال اور کتیانہ اسپتال میں 2،2 اور برہانی اسپتال میں 1 موت ہوئی۔

اس سے قبل کیماڑی کی رہائشی خاتون 35 سالہ زیب النساء جو نجی اسپتال میں زیر علاج تھیں انتقال کرگئیں، انہیں گزشتہ رات ہی اسپتال منتقل کیا گیا تھا۔

زہریلی گیس پھیلنے کی وجہ سویابین کی آف لوڈنگ ہے، پولیس

خیال رہے کہ دو روز قبل کیماڑی میں پھیلنے والی پر اسرار زہریلی گیس کے اخراج سے مجموعی طور پر اب تک متاثرین کی تعداد 234 ہوچکی ہے۔

جیکسن تھانے کے ایس ایچ او ملک عادل کے مطابق گزشتہ روز کی پانچ ہلاکتوں سمیت زہریلی اورپراسرار گیس سے متاثر ہوکر مرنے والوں کی تعداد 14 ہوگئی ہے۔

یاد رہے کہ کیماڑی کے علاقے مسان روڈ، ریلوے کالونی، جیکسن بازار اور ملحقہ آبادی میں پراسرار گیس سے متاثر ہونے کا سلسلہ اتوار کی شام 6 بجے شروع ہوا تھا اور درمیانی شب تک 100سے زائد متاثرہ افراد کو مختلف اسپتالوں مین منتقل کیا گیا تھا جن میں سے 5 افراد جاں بحق ہوگئے۔

گزشتہ روز بھی صورتحال معمول پر رہی لیکن شام ڈھلتے ہی جان لیوا گیس کا سلسلہ پھر شروع ہوگیا اور اب کراچی بندرگاہ کے دوسری طرف کے علاقے کھارادر، میٹھادر، لیاری اور دیگر آبادیوں سے بھی متاثرہ افراد اسپتال پہنچنے لگے ہیں۔

آلودگی کراچی بندرگاہ پر بحری جہاز سے سویابین کی آف لوڈنگ سے پیدا ہورہی تھی

پولیس ذرائع کے مطابق جہاز سے سویابین اتارنے کے دوران غیرمعمولی ڈسٹ ہوا کے ذریعے قریبی آبادی کو متاثر کر رہا تھا، یہ کام دن میں بھی جاری رہتا تھا لیکن ہوا تیز نہ ہونے کی وجہ سے یہ ڈسٹ آبادی کو متاثر نہیں کر رہا تھا، شام کو ہوا چلنے اور رخ آبادی کی طرف ہونے کی وجہ سے لوگ متاثر ہو رہے تھے۔

کراچی بندرگاہ پر بحری جہاز سے سویابین کی آف لوڈنگ سے پیدا ہورہی تھی اور یہ اپلوڈنگ اب رکوادی گئی ہے۔

پولیس حکام کے مطابق سویابین کی آف لوڈنگ روکنے سے آج شام علاقے کی مانیٹرنگ ہوگی، آج شام ہوا میں آلودگی رک گئی تو ذمہ داری سویابین کے بحری جہاز پر عائد ہوسکتی ہے۔

سویابین کی آف لوڈنگ رکنے سے علاقے میں آلودگی نہ رکی تو متبادل وجوہات جاننے کا کام شروع ہوگا۔

500 افراد اسپتال لائے گئے: سیمی جمالی

جناح اسپتال کی ڈائریکٹر ڈاکٹر سیمی جمالی نے کہا ہے کہ گزشتہ روز کیماڑی اور اطراف کے علاقوں میں گیس سے متاثر تقریباً 500 افراد کو اسپتال لایا گیا، جیکسن کیماڑی سے جو لوگ لائے گئے ان میں بچے بھی شامل تھے۔

وزیراعلیٰ سندھ بھی حرکت میں آگئے

صورتحال تشویشناک دیکھ کر وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ بھی حرکت میں آگئے اور آبادیوں سمیت رات گئے تک اپنے وزیروں اور مشیروں کے ہمراہ اسپتالوں کے دورے کیے۔

اس دوران وزیراعلیٰ نے علاقہ مکینوں کو زہریلی گیس سے بچانے اور متاثرہ افراد کی زندگیاں بچانے کے لیے ہر ممکن اقدام کرنے کی ہدایت کی۔

اس کے علاوہ پاکستان آرمی، نیوی، پاکستان رینجرز، کراچی پولیس اور شہری انتظامیہ بھی متحرک ہے۔

رات گئے خصوصی اجلاس

گزشتہ روز رات گئے اس معاملے پر وزیراعلی سندھ نے اجلاس طلب کیا جس میں چیف سیکرٰٹری، کمشنرکراچی، سیکریٹری صحت اور دیگر حکام شریک ہوئے۔

دوران اجلاس مراد علی شاہ نے ہدایت کی کہ ریلوے کالونی سے لوگوں کا انخلاء کرنا ہوگا اس کے لیے شہرکے تمام شادی ہال خالی کروائے جائیں اور متاثرہ علاقوں سے عوام کو شادی ہالوں میں شفٹ کیا جائے۔

ہوا خطرناک حد تک آلودہ کیسے ہو رہی ہے؟ کہیں سے زہریلی اور جان لیوا گیس خارج ہو رہی ہے؟ یا علاقے میں کسی کیمیکل کی بُو ہے؟ اس سلسلے میں کوئی بھی چیز واضح نہیں ہوسکی ہے۔

(Visited 20 times, 1 visits today)

Comments

comments

زہریلی, کیماڑی, گیس,

اپنا تبصرہ بھیجیں