اٹک شہر کی تاریخی اہمیت ….!

شہر اٹک کا نام تو آپ نے یقینًا سنا ہی ہو گا ۔ یہ شہر خوبصورتی میں اپنی مثال آپ ہے ۔

اٹک شہر پنجاب میں واقع ہے اور یہ پنجاب کا ایسا واحد ضلع ہے جس کے ساتھ سب سے زیادہ اضلاع کی سرحدیں ملتی ہیں بلکہ کسی زمانے میں اس کی سرحدیں نو اضلاع کے ساتھ ملتی تھیں لیکن اب وہ کم ہو کر چھ اضلاع کے ساتھ ملتی ہیں ۔

ضلع اٹک کی تاریخ کے بارے میں اگر بات کریں تو اس کی دائیں طرف قدیم تہذیب کے حامل شہر ہڑپہ اور موہنجوداڑو ہیں لیکن یہ موجودہ شہر اٹک نہیں بلکہ قدیم شہر اس کے نواح میں اٹک کوڈ کے نام سے مشہور تھا۔

برٹش دور میں ایک انگریز کیمبل نے وہاں سے ہٹ کر ذرا نئے انداز میں اس شہر کی بنیاد رکھی جسے کیمبل پور کا نام دیا گیا لیکن بعد ازاں اس نام کو ختم کر کے اس کا نام ” اٹک ” رکھ دیا گیا ۔ جو کہ موجودہ ضلع کا صدر مقام ہے لیکن اگر ہم آج بھی اس شہر جس کی بنیاد اکبر اعظم کے دور میں رکھی گئی کی تاریخ کا مطالعہ کریں اور اس وقت سے تعلق رکھنے والے تاریخی مقامات پر نظر ڈالیں تو اس شہر میں ہمیں ایک پراسرار سی خوبصورتی نظر آتی ہے جو تاریخ کے طالب علموں کے لیئے کسی اثاثے سے کم نہیں ۔

Photo: File

دریائے سندھ جو کہ اس شہر سے ہو کر گزرتا ہے شہر اٹک کی مقبولیت کا باعث ہے کہا جاتا ہے کہ اس زمانے میں یہ دریا یہاں سے رک رک کر گزرتا تھا اور اس کے پانی کے اٹک اٹک کر گزرنے کی وجہ سے ہی اس شہر کا نام ” اٹک ” رکھ دیا گیا ۔

یہاں کا سب سے مشہور قلعہ جو کہ آج بدقسمتی سے خطرناک اور سیاسی قیدیوں کی جیل کے طور پر استعمال ہو رہا ہے اس کو اکبر اعظم کے حکم پر تعمیر کیا گیا تھا اور اس قلعہ میں سابق صدر پاکستان پرویز مشرف نے میاں نواز شریف کو بھی قید کیا تھا ۔

Photo: file

اگر ہم تاریخ پر گہری نظر ڈالیں تو ہمیں پتہ چلتا ہے کہ دسویں صدی عیسوی میں اس علاقے پر راجہ جیپال کی حکومت تھی جس نے محمود غزنوی سے ایک جنگ میں شکست کھائی تھی اور بعد میں خودکشی کر لی تھی جبکہ اس کے بعد تیرھویں صدی عیسوی میں سلطان شہاب الدین غوری کو اس علاقے کے گکھڑوں سے واسطہ پڑا جنہوں نے غوری جیسوں کو بھی مشکلات سے دوچار رکھا اور پھر سولہوِِِیں صدی عیسویں میں مغلیہ دور کے بانی ظہیر الدین بابر بھی اس علاقے میں آیا جب یہاں جنجول کی حکومت تھی جبکہ اس علاقے کو فتح کر کے حکومت کرنے والی آخری تاجدار سلطنت برطانیہ تھی جنہوں نے مغلوں سے حکومت چھین کر اپنی عملداری کو فروغ دیا ۔

اس دریا سے ذرا ہٹ کر ایک نئے شہر کی بنیاد رکھ کر اسے شہر اٹک کا نام دیا گیا۔ اس ضلع کے ساتھ تحصیل پنڈیگھیب ، تحصیل حسن ابدال ( جہاں سکھوں کا مقدس مقام پنجہ صاحب موجود ہے ) ، تحصیل جنڈ اور تحصیل فتح جنگ ملتی ہیں ۔

کوئی نفسیاتی مریض کیسے بنتا ہے ….؟

جبکہ 1973 میں ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کے خلاف ہونے والی اٹک سازش کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا جس میں بری اور بحری فوج کے چند جرنیل شامل تھے جن کو مجرم ثابت ہونے پر سزا سنائی گئی لیکن بعد ازاں جب جنرل ضیاءالحق نے حکومت پر قبضہ کیا تو اس نے ان سزاوں کو معاف کر دیا ۔۔ اس شہر کو اس وقت بین القوامی شہرت نصیب ہوئی جب جنرل پرویز مشرف نے پاکستان کے لئے بیرون ملک ایک پاکستانی کو وزارت عظمی کے لئے منتخب کیا اور اس کو اٹک شہر سے خاص طور پر قومی اسمبلی کی ایک نشست خالی کروا کر منتخب کرایا گیا۔

اٹک کی زمین نے بڑے بڑے معروف لوگوں کی بھی پرورش کی جنہوں نے آگے چل کر اپنے ملک کا نام روشن کیا ان میں ایئر مارشل نور خان جن کا تعلق اسی ضلع سے بنتا ہے کہ علاوہ سردار شوکت حیات ، پرویز فتح محمد ملک ایڈوکیٹ ، شجاع خان ذادہ ، شیخ احسن الدین اور میجر طاہر صادق شامل ہیں ۔

اس کے علاوہ اس شہر کو پنجاب کا سرحدی شہر بھی کہا جاتا ہے کیونکہ اس سے آگے خیبر پختونخواہ کی حدود شروع ہو جاتی ہیں ۔

زونیرہ شبیر
پنڈیگِب ، اٹک

(Visited 63 times, 1 visits today)

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں