وزیراعظم عمران خان کے دو سال: حکومتی کارکردگی کیسی رہی..؟

پی ٹی آئی
Loading...

چئیرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان نے جولائی 2018 میں ہونے والے عام انتخابات مں اکثریت حاصل کرنے کے بعد جب حکومت سنبھالی تو ملک تاریکیوں میں ڈوبا ہوا تھا، اس وقت ملک پہ30 ہزار ارب روپے کے مجموعی قرضے تھے اور ملک دیوالیہ ہونے کے قریب تھا ،وزیراعظم نے وطن عزیز کی معیشت کو نہ صرف سدھارا بلکہ ایمنسٹی اسکیم اور ٹیکس وصولی سے ملکی قرضوں کا بوجھ بھی کم کیا۔

گذشتہ حکومتیں نئی ٹیکس پالیسی متعارف نہ کروا سکی جس کی وجہ سے ملک پر قرضوں کا بوجھ بڑھتا گیا۔ پی ٹی آئی کی حکومتی منصوبہ بندی نے پاکستان کی ڈوبتی کشتی کو سہارا دیا، پاکستان بہت سے بیرونی اور اندرونی چیلنجز سے دوچار تھا۔ ملکی حالات اتنے ابتر ہو چکے تھے کہ پاکستان گرے لسٹ میں شامل ہو چکا تھا لیکن اب یہ خطرہ ٹل چکا ہے۔

پاکستان میں معاشی بحران سر اٹھائے تھا، درآمدات 60 ارب ڈالر تھیں اور برآمدات کم ہوکر 20 ارب ڈالر رہ گئیں تھیں ۔ جون کے دوران ملکی برآمدات کا حجم 25 فیصد اضافے کے ساتھ 1.6 ارب ڈالر تک پہنچا، ریکارڈ ترسیلات زر موصول ہوئیں اور جولائی میں ملکی برآمدات کا حجم 2 سے 2.1 ارب ڈالر تک بڑھا۔ رواں مالی سال کے دوران جولائی سے اپریل 2020ءتک جاری کھاتوں کے خسارے میں 70.8 فیصد کمی ہوئی ہے، براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں 127 فیصد کا اضافہ ہوا ۔

پی ٹی آئی
Photo:File

پی ٹی آئی حکومت نے منی لانڈرنگ کا خاتمہ کیا، مہنگائی کی شرح میں کمی اور مجموعی طور پر معیشت کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا۔ حکومت نے آسان قرضہ جات کو یقنی بنایا اور شرح سود میں کمی لاکر لوگوں کو ریلیف مہیا کیا۔ رئیل اسٹیٹ سیکٹر کے لئے امدادی پیکج کا اعلان کیا تا کہ وہ اپنا کام بخوبی کر سکیں اور ملکی انفرا اسٹکچر بہتر بنا سکیں۔ گلگت بلتستان میں دیامر، بھاشا اور محمند ڈیم سمیت سوات ہزارہ موٹر وے کا بھی افتتاح کیا۔

پی ٹی آئی کے ان دو سالوں میں درجنوں ممالک کے وزرا سعودی شہزادے کیساتھ ساتھ برطانوی جوڑے شہزادہ ولیم اور ان کی اہلیہ کیٹ مڈلٹن نے پاکستان کا دورہ کیا اور وزیر اعظم کی کارکردگی پر انہیں سراہا۔

وزیر اعظم عمران خان نے حکومت سنبھالتے ہی عہد کیا کہ وہ ترجیحی بنیادوں پر کفایت شعاری اپنا کر غیر ضروری اخراجات کم کریں گے۔

عمران خان پاکستان کے واحد وزیر اعظم ہیں جنہوں نے وزیر اعظم ہاؤس میں رہنے کو ترجیح نہیں دی اور اخراجات کو کم کرنے کے لئے صرف تین کمروں پر مشتمل گھر کو ترجیح دی۔ وزیر اعظم ہاؤس کے زیر استعمال سرکاری گاڑیوں، بھینسوں کو نیلام کر کے پیسہ سرکاری خزانوں میں جمع کروا دیا گیا۔ وزیر اعظم عمران خان نے پاکستان کو ریاست مدینہ بنانے کا تصور پیش کیا۔

کرتار پور راہدار کھولنا وزیر اعظم کی جانب سے اچھا اقدام ہے، غربت کے خاتمے کے لئے “احساس پروگرام” اور بے گھر افراد کے لئے “پناہ گاہ” بنانے کے کام کو سراہا گیا۔ مدرسہ اصلاحات پروگرام کے تحت ملک میں تعلیمی نظام یکساں بنا دیا گیا۔

کرتارپور راہداری
Photo: File

وزیر اعظم نے ملک کے معاشی حالات کو بہتر بنانے کے لئے عالمی مالیاتی ادارے کی مدد بھی لی جس سے ملکی حالات بہتری کی جانب گامزن ہو گئے۔ ویزا حصول کی آسانی سب سے بڑی کامیابی ہے، چین، ملائیشیا، ترکی، برطانیہ اور متحدہ عرب عمارات کے شہریوں کو “ویزا ان ارائیول” کی سہولت دی گئی۔ ان ممالک کے علاوہ اگر وزارت داخلہ کی ویب سائٹ دیکھی جائے تو لسٹ میں 50 سے زائد ممالک کو شامل کیا گیا ہے۔

پاکستان میں ٹیکس چوری کے کلچر کو ختم کرنے کے حوالے سے ترجیحی بنیادوں پر کام کیا گیا کیونکہ یہ مسئلہ پاکستانی معیشت کو دیمک کی طرح چاٹ رہا تھا۔ دوسرے ممالک کے ساتھ تعلقات کی بہتری پر بھی کام کیا گیا، خاص طور پر امریکہ کے ساتھ پاکستان کے تعلقات ابتری کی جانب مائل تھے۔ انڈیا کے تعلقات کو بہتر بنانے کے لئے انڈین پائلٹ ابھی نندن کی سرحدی خلاف ورزی کے باوجود اسے واپس بھیج دیا گیا۔افغانستان امن معاہدے میں وزیر اعظم نے خاص کردار ادا کیا جس سے ملک پاکستان اور افغانستان میں امن کی صورتحال اور بہتر ہوگئی۔

وزیراعظم عمران خان نے بین الاقوامی سطح پر مسئلہ کشمیر کو اجاگر کیا اور پاکستان کے واحد وزیر اعظم کہلائے جنہیں اقوام متحدے کے اجلاس میں اظہار خیال کے لئے سب سے زیادہ وقت دیا گیا۔دنیا کو بتایا کہ کشمیری بھائیوں پر کس قدر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے جا رہے ہیں۔

مقبوضہ کشمیر
Photo: File

پی ٹی آئی حکومت نے بدعنوانی کے خلاف کام کرنے والے ادارے نیب کو مضبوط بنایا تا کہ کرپٹ لوگوں کا احتساب کیا جائے۔

ایمنسٹی سکیم بنائی گئی جس کے ذریعے پاکستانی چار فیصد ٹیکس ادا کر کے بلیک منی کو وائٹ کر سکتے ہیں سوائے ان کے جو عوامی عہدہ رکھتے ہیں۔بے نامی جائیداد کو بھی قانونی شکل دینے کے لئے اس اسکیم کے تحت اقدامات کئے گئے۔

Loading...
ٹیکس ایمنسٹی
فوٹوفائل

ملک میں “زرعی ایمرجنسی پروگرام” بھی شروع کیا گیا جس کے ذریعے شعبے میں ترقی اور بہتری کے منصوبے بنائے گئے۔کسانوں کو “پانی کی تقسیم اور بچت” کی تربیت سازی بھی کی گئی۔ سیاحت کے شعبے پر خاص توجہ دی گئی ،خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان میں نئے سیاحتی مراکز متعارف کروائے گئے اور آمدنی بڑھائی گئی۔ 190 ممالک کو سیاحت کے فروغ کے لئے نئی ویزا پالیسی کی سہولت بھی فراہم کی گئی۔

Photo: File

ملک میں کرپشن اور بد عنوانی کے خلاف مہم چلا کر کارروائی کی گئی اور مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں سمیت سرکاری افسران اور کاروباری شخصیات کے خلاف مقدمات درج کر کے گرفتاریاں کیں گئیں۔ بچوں سے زیادتی کے واقعات کے خاتمے کے لئے بھی سخت ایکشن لیا گیا۔

پانچ برسوں میں 50 لاکھ سستے گھر بنانے کا بھی منصوبہ بنایا گیا جسے ” نیا پاکستان ہاؤسنگ منصوبے”کا نام دیا گیا۔وزیر اعظم نے بے روز گاروں کو ایک کروڑ نوکریاں دینے کا بھی اعلان کیا۔

ملک میں انصاف ہیلتھ کارڈ بھی جاری کئے گئے جس سے غریب اور مستحق افراد کومفت علاج کی سہولت دی گئی۔ اس پروگرام میں صحت انشورنس کی قیمت ساڑھے سات لاکھ تک کی گئی۔

Photo: File

پاکستان کو صاف اور سر سبز بنانے کے لئے کلین اینڈ گرین پروگرام کا افتتاح بھی کیا جس کے ذریعے ملک میں فضائی آلودگی ختم کرنے کے لئے کروڑوں درخت لگانے کا عہد کیا گیا۔

اسرائیل میں یہودیوں کو کیسے لایا گیا؟

سرکاری عمارتوں خصوصا وزیر اعظم ہاؤس ،گورنر ہاؤس کو عوامی مقامات کا درجہ دے دیا گیا۔سرکاری اداروں مثلا پی آئی اے،پی ایس او،سٹیل مل اور ریلوے کے نظام کو بہتر کرنے کے لئے اقدمات اٹھائے گئے۔اس عرصے میں بہت سے افسروں ، مشیروں اور وزیروں کی کارکردگی کی بنیاد پر چھٹی بھی کرا دی گئی ۔ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ آٹا چینی اسکینڈل کی رپورٹ کو عوامی کیا گیا۔

حکومت کے لئے سب سے بڑا چیلنج کورونا وائرس تھا، جس سے نمٹنے کے لئے لاک ڈاؤن کی صورتحال کا بھی عوام کو سامنا کرنا پڑا۔ بڑی تعداد میں لوگ بے روزگار ہوئے۔ “احساس پروگرام “کے تحت دو کروڑ سے زائد خاندانوں کو 12 ہزار روپے کا ریلیف مہیا کیا گیا۔ بجلی اور گیس صارفین کو بلوں کی اقساط بنا کر ریلیف دیا گیا۔

Photo: File

وزیر اعظم نے کورونا وائرس پر قابو پانے کے لئے سرمایا کاری کرنے والے کاروباری افراد کے لئے اسٹیٹ بینک کے ذریعے آسان شرائط پر قرضے دینے کا بھی اعلان کیا۔ بیرون ملک سے کورونا وائرس کے سبب آنے والے پاکستانیوں کے لئے ویب پورٹل کا اجرا کیا تا کہ ان کی نوکریوں کا بندوبست کیا جا سکے۔

حکومت نے پشاور میں بی آر ٹی منصوبے کا بھی افتتاح کر دیا جس سے پشاور کی عوام کو ریلیف ملا اور شہر کی خوبصورتی میں بھی اضافہ ہوا۔

بس ریپڈ ٹرانزٹ

کراچی میں حالیہ بارشوں سے ہونے والی تباہی کو دیکھتے ہوئے وزیر اعظم نے این ڈی ایم اے کو خصوصی ہدایات دیں اور وفاقی حکومت کی مدد سے صفائی اور کچرے کو ٹھکانے لگانے کے انتظامات بھی کئے گئے جنوبی پنجاب اور سندھ کے بیشتر علاقوں کو ٹڈی دل کے حملوں نے متاثر کیا اس سے بچاؤ کے لئے وزیر اعظم کی ہدایت پر اقدامات کئے گئے، تباہ ہونے والی فصلوں پر کسانوں کو ریلیف فراہم کیا گیا۔

پی ٹی آئی حکومت کا سب سے بڑا کام پاکستان کا نیا نقشہ متعارف کروانا تھا جسے کابینہ کی منظوری کے بعد باقاعدہ طور پر سرکاری نقشے کی حیثیت دے دی گئی جس میں انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کو بھی پاکستان کا حصہ دکھا یا گیا۔

کشمیر

(Visited 48 times, 1 visits today)
loading...
Advertisements

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں