کورونا وائرس کے باعث دنیا کی طویل ترین مسافر پرواز کا ریکارڈ قائم

کورونا وائرس

کورونا وائرس کی وبا پھیلنے کے نتیجے ایوی ایشن کا شعبہ بہت بڑی طرح متاثر ہوا ہے کیونکہ دنیا بھر میں سفری پابندیوں کے نتیجے میں لاتعداد پروازیں منسوخ ہوئی ہیں۔

مگر فضائی سفر پر اس وائرس کے اس اثر کے نتیجے میں ایک نیا عالمی ریکارڈ بھی قائم ہوگیا ہے جس کا تصور پہلے کسی نے کیا بھی نہیں تھا۔

8 ماہ کے بچے بھی گرامر کے بنیادی ضوابط کا فہم رکھتے ہیں’

یہ ریکارڈ ہے دنیا کی فاصلے کے لحاظ سے طویل ترین مسافر بردار طیارے کی پرواز، جس کا کمپنی کا کوئی ارادہ بھی نہیں تھا۔

14 مارچ کو یہ طیارہ فرنچ پولینیشیا کے جزیرے تاہیٹی سے روزانہ ہوا اور بلارکے 9 ہزار 765 میل کا فاصلہ طے کرکے پیرس کے چارلس ڈیگال ائیرپورٹ پر اترا۔

اور اس طویل ترین پرواز کے ریکارڈ کی اصل وجہ کورونا وائرس کے نتیجے میں امریکا کی جانب سے عائد کی گئی سفری پابندیاں تھی۔

عام طور پر اس روٹ پر پرواز کرنے والے طیارے لاس اینجلس ائیرپورٹ پر کچھ دیر کے لیے رکتے ہیں، مگر ایسا کرنے پر تمام مسافروں کو طیارے سے اتر کر امریکی کسٹم کے پاس جانا ہوتا ہے جس کے بعد ہی طیارے کو آگے جانے کی اجازت دی جاتی ہے۔

مگر حالیہ سفری پابندیوں کے نتیجے میں طیارے کی پرواز نان اسٹاپ ہوگئی جو تاہیٹی سے مقامی وقت کے مطابق صبح 3 بجے روانہ ہوا اور 15 مارچ کو پیرس کے مقامی وقت کے مطابق ساڑھے 6 بجے لینڈ کیا۔

(Visited 49 times, 1 visits today)

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں