خطرناک وائرس اور ان کی علامات ….

گذشتہ 50 برسوں میں کئی انفیکشن ارتقا پا کر جانوروں سے انسانوں تک تیزی سے پھیلے ہیں۔

 ہر انفیکشن کی علامات مختلف ہوتی ہیں انسان ہمیشہ سے ہی جانوروں کی وجہ سے بیمار پڑتے رہے ہیں۔ درحقیقت زیادہ تر نئے انفیکشن جنگلی حیات سے ہی آتے ہیں۔

حال ہی میں یہ پایا گیا کہ سانس کی شدید تکلیف پیدا کرنے والا وائرس سارس مُشک بلاؤ کے ذریعے چمگادڑوں سے انسانوں تک آیا جبکہ چمگادڑوں نے ہی ہمیں ایبولا وائرس دیا۔

وائرس کا نام : سارس

بیماری کی علامات : سانس لینے میں دشواری
انفیکشن کے بعد مرنے کے امکانات : 36٪

وائرس کا نام : زیکا

بیماری کی علامات : جوڑوں کا درد اور جلد دار خارش
انفیکشن کے بعد مرنے کے امکانات : 20٪

وائرس کا نام : ایبولا

بیماری کی علامات : کمزوری اور بخار
موت کا امکان : 90٪

وائرس کا نام : ماربرگ بخار

بیماری کی علامات : ہاضمہ کی پریشانیوں کے سبب 10 دن بعد موت
انفیکشن کے بعد مرنے کا امکان : 88٪

وائرس کا نام : نپاہ

بیماری کی علامات : ذہنی الجھن کے بعد موت
انفیکشن ہونے کے بعد مرنے کے امکانات : 75٪

وائرس کا نام : کریمین کانگو بخار

بیماری کی علامات : منہ اور ناک سے ٹکراؤ اور خون نکلنا
انفیکشن کے بعد مرنے کے امکانات : 40٪

وائرس کا نام : انفلوئنزا

 جلن اور گلے کی سوزش
انفیکشن کے بعد مرنے کے امکانات : 13٪

وائرس کا نام : کرونا

بیماری کی علامات : سانس کی نالی میں انفیکشن
انفیکشن کے بعد مرنے کے امکانات : 3٪

وائرس اور امراض سے محفوظ رکھنے والی 10 قدرتی غذائیں

کرونا سے مرنے کی بڑی وجہ انسان کا خوف زدہ ہونا ہے ۔
اور دوسری وجہ ایلوپیتھک میڈیسن سے علاج ہے
کیونکہ ایمیونٹی کے کم ہوتے ہی بیماری جسم پر حاوی ہو جاتی ہے اگر ایمیونٹی یعنی قوت مدافعت طاقتور ہے تو انسان پر کوئی بھی بیماری حملہ آور نہیں ہو سکتی
اور اگر قوت مدافعت بڑھانی ہے تو فروٹس اور کچی سبزیاں کھائیں اور کوکونٹ کا پانی پئیں اور کولڈ ڈرنک فاسٹ فوڈ جنک فوڈ پراسیس فوڈ پیکڈ فوڈ بالکل چھوڑ دیں

اگر صحت مند انسان بھی خوف زدہ ہو جائے تو وہ مر جائے گا.

جیسا کہ پرانا مقولہ ہے کہ ڈر موت کا بھائی ہے۔

جزاک اللہ خیرا و احسن الجزا

(Visited 164 times, 1 visits today)

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں