ان پیشوں سے وابستہ افراد کرونا وائرس کا جلدی شکار ہوتے ہیں ….!

کرونا وائرس کے متعلق دنیا بھر کے ماہرین روز کوئی نہ کوئی نئی تحقیق کر رہے ہیں.ان ماہرین نے اپنی تحقیق میں کرونا وائرس کے متعلق مختلف طرح کے انکشافات بھی کئے ہیں.

ماہرین نے اپنی گزشتہ تحقیق میں بتایا تھا کہ اونچی آواز میں بات کرنے سے بھی کرونا وائرس پھیلنے کے خطرات کافی حد تک بڑھ جاتے ہیں. لیکن اب ماہرین نے ایک اور انکشاف کیا ہے انہوں نے اپنے تحقیقی عمل سے یہ بات جاننے کی کوشش کی کہ کن پیشوں سے وابستہ لوگ کرونا وائرس کا جلدی شکار ہوتے ہیں.

ماہرین کے مطابق ایسے افراد جن کے پاس کوئی ہنر نہیں ہوتا یعنی غیر ہنر مند لوگ کرونا وائرس کا جلدی شکار  ہوجاتے ہیں.

اس کے علاوہ ایسے لوگ جو کسی چھوٹی ملازمت سے وابستہ ہوتے ہیں کرونا وائرس سے ان کی اموات کا خطرہ بڑے پیشے سے وابستہ لوگوں کی نسبت زیادہ ہوتا ہے. ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک سکیورٹی گارڈ کی کرونا وائرس سے موت کا امکان 45 فیصد ہوتا ہے.

کرونا وائرس سے بچنے کے لئے امریکن ماہرین کا نیا مشورہ ….؟

اس کے علاوہ ٹیکسی ڈرائیورز میں بھی موت کا خطرہ 40 فیصد تک ہوتا ہے. ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ چھوٹے دکاندار اور اس کے علاوہ سوشل کیئر سے وابستہ لوگوں میں بھی کرونا وائرس سے مرنے کے خطرات 30 فیصد تک ہوتے ہیں.

ماہرین نے اپنی گزشتہ ریسرچ میں یہ کہا تھا کہ ڈاکٹرز اور طبی عملہ کرونا وائرس کا جلد شکار ہوجاتا ہے کیونکہ طبی عملہ اور ڈاکٹرز ایسے ماحول میں وقت گزارتے ہیں جہاں وائرس بہت زیادہ ہوتا ہے. لیکن ماہرین نے بعد میں انکشاف کیا کہ طبعی عملہ اور ڈاکٹروں کی نسبت سے زیادہ خطرہ عام عوام کو ہوتا ہے.

ماہرین نے کہا خواتین میں پیشوں کے حوالے سے سب سے زیادہ سوشل کیئر سے وابستہ خواتین کی کرونا وائرس سے موت ہونے کا امکان 9.6 فیصد ہوتا ہے اور سیلز کے شعبے سے منسلک خواتین کے لیے کرونا وائرس سے موت ہونے کا 5.8فیصد خطرہ ہوتا ہے۔

(Visited 19 times, 1 visits today)

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں