عیسائی خاتون کا ڈاکٹر زاکر نائیک کو چیلنج …تین سوالات کے جواب ملنے پر مسلمان ہو جاوں گی!

عیسائی خاتون کا ڈاکٹر زاکر نائیک کو چیلنج

ایک مرتبہ ایک عیسائی خاتون نے ڑاکٹر زاکر نائیک سے تین سوالات کیئے اور کہا کہ اگر وہ ان تین سوالات کے جواب دے دیتے ہیں تو وہ عیسائی خاتون وہیں کھڑے کھڑے اسلام قبول کر لے گی ۔ اس عورت نے بھری محفل میں عیسائی خاتون کا ڈاکٹر زاکر نائیک کو چیلنج کیا..

اس کا پہلا سوال یہ تھا کہ جب مسلمان حج یا عمرہ کرنے جاتے ہیں تو وہ وہاں سے آب زم زم اور کھجویں لے کر آتے ہیں اور لوگوں میں بانٹتے ہیں اسی طرح جب ہندو اپنے مندروں میں جاتے ہیں تو وہ بھی وہاں سے پرشات لے کر آتے ہیں اور بانٹتے ہیں ان دونوں میں کیا فرق ہے ؟ مجھے تو یہ دونوں چیزیں یا عمل ایک جیسے ہی لگتے ہیں ؟

پھر اس نے دوسرا سوال کیا کہ ایک عورت عورت کے ساتھ اور ایک مرد مرد کے ساتھ جنسی تعلق قائم کیوں نہیں کر سکتا ؟ اور پھر جنسی تعلق قائم کرنے کے لیئے شادی کرنا کیوں ضروری ہے ؟

پھر اس عیسائی عورت نے تیسرا اور آخری سوال یہ کیا جس پر عیسائی خاتون کا ڈاکٹر زاکر نائیک کو چیلنج مکمل ہونا تھا….کہ جنت میں حضرت آدمؑ کے کہنے پر اماں حوا نے گندم کھا لی تھی جس کی وجہ سے انہیں آج تک بھگتنا پڑ رہا ہے اور ساری خواتین کو بچے پیدا کرنے کی ذمہ داری دے دی گئی ہے عورتوں کو ہی اس درد سے کیوں گزرنا پڑتا ہے پھر اس عورت نے کہا کہ میرا سوال یہ ہے کہ کیا یہ سچ ہے کہ خواتین کو بچہ جننے کی تکلیف اسی لیئے دی گئی ہے کیونکہ حضرت حوا نے حضرت آدمؑ کے کہنے پر غلطی سے گندم کھا لی تھی اسی لیئے ساری دنیا کی خواتین کو سزا کے طور پر یہ درد سہنا پڑتا ہے ؟

اب ڈاکٹر نائیک اٹھے اور ان کے سوالات کے جوابات دینے کا سلسلہ شروع ہوا ۔۔ انہوں نے کہا ہماری بہن نے بڑا اچھا سوال کیا ہے پھر کہا کہ سب سے پہلے بات کرتے ہیں پرشات کھانے اور حج عمرہ سے آنے والی کھجوروں اور آب زم زم کی ۔ کہ ان میں فرق کیا ہے ؟ پھر انہوں نے بتایا کہ ہندووں کے مطابق پرشات بھگوانوں کو کھلانے کے لیئے دیا جاتا ہے لہذا ہندو جب پرشات بانٹتے ہیں تو ان کا مقصد بھگوان کو کھلانا ہوتا ہے وہ یہ سوچ رہے ہوتے ہیں کہ وہ اپنے بھگوان کو کھانا کھلا رہے ہیں جبکہ حقیقی خدا جسے آج تک ہندو لوگ پہچان تک نہیں سکے اسے کھانے کی ضرورت نہیں ہوتی اللہ تعالی قرآن پاک کی ایک سورة ، سورة انعام میں فرماتا ہے ؛
” اللہ سب کو کھلاتا ہے مگر اللہ کو کسی کے دیئے کی ضرورت نہیں ، کس انسان میں اتنی جرات ہے کہ وہ اللہ کو کھلانے کا سوچ سکے یا ایسی بات کر سکے “

پھر ڈاکٹر زاکر نائیک نے کہا کہ قرآن پاک میں تین سے چار مرتبہ کہا گیا ہے کہ غیر اللہ کے نام سے منسوب کر کے کھلایا گیا کھانا حرام ہوتا ہے چونکہ پرشات بھی غیر اللہ کے نام سے منسوب ہوتا ہے اس لیئے وہ بھی حرام ہے ۔

پھر انہوں نے کہا کہ ہم مسلمان حج یا عمرہ سے لائی گئی کھجوریں یا آب زم زم پیتے ہوئے یہ ہر گز نہیں سوچتے کہ ہم اللہ کو کھلا رہے ہیں اور سعودی عرب کا سب سے مشہور پھل کھجور ہے اسی لیئے ہر مسلمان وہاں سے کھجوریں لاتا ہے اور یہ کبھی نہیں کہتا کہ میں یہ اللہ کو کھلا رہا ہوں ۔

نعوذباللہ پھر انہوں نے کہا کہ اگر کوئی ہندو پرشات کے نام پر کھجور بھی دے گا تو وہ بھی حرام ہے کیونکہ وہ غیر اللہ کے نام سے منسوب ہے اس لیئے مسلمانوں کے لیئے وہ کھانا حرام ہے ۔

دوسرے سوال کی طرف آتے ہوئے انہوں نے سوال دوہرایا اور کہا کہ ہماری بہن کا دوسرا سوال یہ تھا کہ ہم جنس پرستی کیوں غلط ہے ؟

اسلام میں اخلاقیات کا مقام ….!

اس کے جواب میں ڈاکٹر زاکر نے قرآن کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالی قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے کہ ” زنا کے قریب بھی مت جاو بے یہ بے حیائی اور برا راستہ ہے ” ایک اور جگہ ارشاد فرمایا ” اور تم مردوں کے ساتھ جنسی تعلق رکھتے ہو یعنی تم حد سے گزرتے ہو بلاشبہ یہ بے حیائی ہے۔ اللہ تعالی نے میاں بیوی کے دلوں میں محبت رکھ دی ہے بے شک غور کرنے والوں کے لیئے اس میں بڑی نشانیاں ہیں ” لہذا یہ قرآن کی رو سے غلط ہے ۔

اس کے علاوہ سائنس کا بھی یہی ماننا ہے کہ انسان بھی ہم جنس پرستی کو ناپسند کرتے ہیں۔ اب یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ ہم جنس پرستی دو لوگ اپنی مرضی سے کر رہے ہیں تو ہم اس میں کون ہوتے ہیں بولنے والے لیکن اللہ نے اس سے منع فرمایا ہے۔

حضور پاکؐ نے فرمایا کہ ” میاں بیوی کا آپس میں جنسی تعلق رکھنا دراصل ایک عبادت ہے ” سائنس کہتی ہے کہ اگر ان دو لوگوں کا موازنہ کیا جائے جن میں ایک ہم جنس پرستی کرنے والا شخص جبکہ دوسرا شادی کرنے والا شخص ہو تو دونوں میں سے شادی شدہ شخص زیادہ خوشحال زندگی گزار رہا ہو گا۔

پوری دنیا کو اب یہ بات سمجھ آ رہی ہے کہ یہ غلط بات ہے لیکن بھارت میں ابھی بھی اسے فروغ دیا جا رہا ہے ۔ اس سوال کے اختتام پر انہوں نے کہا کہ ہم جنس پرستی آپ کو جہنم میں لے جائے گی۔
پھر انہوں نے تیسرے سوال کے جواب میں کہا کہ یہ بات بالکل غلط ہے کہ حضرت اماں حوا نے جو گندم کا دانا کھا لیا تھا اس کی سزا آج تک خواتین کو مل رہی ہے بچہ جننے کہ صورت میں۔

انہوں نے کہا کہ ایسا بائبل میں لکھا گیا ہے جس کی وجہ سے عیسائی یہ خیال کرتے ہیں عورت کو بچہ جننے کی تکلیف سے اسی وجہ سے دوچار کیا گیا لیکن اسلام میں ایسا کہیں بھی نہیں کہا گیا کہ اس غلطی کی ذمہ دار اکیلی اماں حوا تھیں بلکہ ہر موقع پر دونوں کو ہی قصوروار ٹھہرایا گیا ہے۔

قرآن پاک میں تین جگہوں پر ایسا کہا گیا ہے کہ دونوں پر اس غلطی کی زمہ داری ڈالی گئی تھی ۔ مثال کے طور پر ایک جگہ کہا گیا کہ ” ہم نے ان دونوں کو کہا کہ گندم کا دانا نہیں کھانا ”
ایک اور جگہ فرمایا ” دونوں نے اللہ سے معافی مانگی ” پھر ارشاد ہوا ” ان دونوں کو غلطی کی سزا کے طور پر ہم نے انہیں دنیا میں بھیج دیا ” ہر جگہ پر دونوں کا زکر ہوا ہے اکیلی حضرت اماں حوا کا نہیں۔

پھر فرمایا بائبل میں کچھ تبدیلیاں کر دی گئی ہیں جن کی وجہ سے عیسائی غلط سمجھتے ہیں اسلام میں ایسا کچھ نہیں ہے ۔ مزید کہا کہ اگر آپ قرآن پڑھیں تو آپ یہ جان جائیں گی کہ عورت کے لیئے حمل بددعا نہیں بلکہ خوش قسمتی ہے ۔
سورة نساء آیت نمبر ایک میں ارشاد باری تعالی ہے کہ ” اپنی عورت کا خیال رکھو اور ان کے ساتھ اچھے سے پیش آو ”
ایک حدیث مبارکہ ہے کہ ایک صحابی نے حضور پاکؐ سے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ میں اپنے ماں باپ میں سے کس سے زیادہ ادب سے پیش آوں فرمایا اپنی ماں کے ساتھ اس نے پھر سے یہی سوال کیا آپؐ نے پھر سے وہی جواب دیا تیسری مرتبہ بھی یہی جواب ملا اور چوتھی مرتبہ آپؐ نے فرمایا اپنے باپ کے ساتھ ۔
پھر کہا کہ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ باپ کا ادب نا کیا جائے لیکن ماں کا زیادہ کیا جائے۔

آپ نے کہا اسی لیئے یہ ذمہ عورت کو دیا گیا ہے آپ بتائیں کیا کوئی مرد بچے کو جنم دے سکتا ہے۔ ؟ ہرگز نہیں

پھر ڈاکٹر زاکر نے کہا کہ مجھے امید ہے آپ کو آپ کے تمام سوالوں کا جواب مل گیا ہو گا۔ اس عورت نے ہاں میں جواب دیا تو ڈاکٹر زاکر نے سوال کیا
کیا آپ اللہ کو ایک مانتی ہیں ؟
اس نے جواب دیا جی بالکل اللہ ایک ہے ۔
پھر آپ نے سوال کیا ؟
آپ حضرت عیسیؑ کو خدا مانتی ہیں ؟
جواب دیا نہیں ۔۔ میں انہیں اللہ کا پیغمبر مانتی ہوں ۔
سوال کیا آپؐؐؐ کو اللہ کا آخری نبی مانتی ہیں ؟
فرمایا جی ہاں مانتی ہوں ۔
سوال کیا آپ پر کسی قسم کا مسلمان ہونے کا دباو تو نہیں ؟
جواب ملا نہیں ایسا نہیں ہے ۔
اس طرح عیسائی خاتون کا ڈاکٹر زاکر نائیک کو چیلنج کرنا اس عورت کے لئے مبارک ہوا… پھر ڈاکٹر صاحب نے اس عورت سے کہا مبارک ہو آپ اسلام قبول کر سکتی ہیں پھر انہوں نے اس عورت کو کلمہ پڑھایا اور وہ عورت مسلمان ہو گئی ۔۔ سبحان اللہ

(Visited 1,337 times, 6 visits today)
loading...

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں