عالمی ادارہ صحت نے کرونا وائرس کے متعلق نیا انکشاف کردیا …!

عالمی ادارہ صحت نے
Loading...

عالمی ادارہ صحت نے کرونا وائرس کے متعلق نئے وارننگ جاری کرتے ہوئے یہ کہا ہے کہ اب جو لوگ بھی کرونا وائرس سے متاثر ہو رہے ہیں.

ان لوگوں میں کرونا وائرس کی کوئی بھی علامت موجود نہیں ہوتی کیونکہ کرونا وائرس کی نوعیت بدل گئی ہے. کوئی ملک یہ مت سمجھے کہ کرونا وائرس ختم ہوگیا ہے بلکہ اب ہمیں پہلے سے زیادہ احتیاط کرنا پڑے گی. عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ ایشیا کے ممالک میں نوجوان لوگ اب کرونا وائرس کو زیادہ تیزی سے پھیلا رہے ہیں.

یعنی اب کرونا وائرس ایسے لوگوں سے پھیل رہا ہے جن لوگوں کو خود بھی معلوم نہیں کہ وہ کرونا وائرس کا شکار ہیں. مغربی ماہرین کا کہنا ہے کہ اب کرونا وائرس ایسا رہ گیا ہے جس کی علامات بہت کم ہے اور متاثرہ شخص کو بالکل بھی محسوس نہیں ہوتا کہ وہ کرونا وائرس کا شکار ہے لیکن جب یہ فرد کسی عمر رسیدہ شخص سے ملتا ہے تو وہ اس کو اس میں مبتلا کر دیتا ہے اور اس عمر رسیدہ شخص میں کرونا وائرس کی شدید علامات ظاہر ہوتی ہیں.

Loading...

کرونا کے ایسے مریض دوسروں کے لیے زیادہ خطرناک ثابت ہو رہے ہیں …؟

کیونکہ عمر رسیدہ انسان میں نوجوانوں کی نسبت قوت مدافت بہت کم ہوتی ہے. عالمی ادارہ صحت کے اعداد و شمار کے مطابق اب جاپان کے نوجوانوں میں کرونا وائرس کے کیسز سے زیادہ سامنے آرہے ہیں اور آسٹریلیا کے ماہرین کا بھی یہی کہنا ہے کہ یہاں بھی زیادہ تر اب نوجوان افراد اور کرونا وائرس سے متاثر ہیں.

عالمی ادارہ صحت نے یہ بھی بتایا کہ ایسے ممالک جہاں پر کرونا وائرس کو کنٹرول کر لیا گیا تھا جیسے کہ نیوزی لینڈ, جنوبی کوریا اور ویت نام وغیرہ اب ان ممالک میں دوبارہ کرونا وائرس کے کیسز سامنے آرہے ہیں اب ان ممالک میں کرونا وائرس کو کنٹرول کرنے کے لیے دوبارہ سمارٹ لاک ڈاؤن کردیا گیا ہے.

(Visited 76 times, 1 visits today)
Loading...
Advertisements

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں