پرانے دور میں عورت کو اس معمولی بات پر جانور بنا دیا جاتا تھا…؟

قرون وسطی
Loading...

آج کل کے دور میں محفل میں بیٹھے ہوئے ایک دوسرے کے کان میں بات چیت کرنا اور دوسرے کی چغلی کرنا معمولی سمجھا جاتا ہے لیکن پرانے دور میں اس حرکت کو بہت برا سمجھا جاتا تھا.

قرون وسطی میں تو لوگ خواتین کو کان میں باتیں کرنے پر انتہائی کڑی سزا دیتے تھے.یہ سزا اتنی کڑی ہوتی تھی کہ اگر آج کی خواتین کو معلوم ہوجائیں تو وہ خواتین خدا کا شکر کریں کہ وہ اس دور میں پیدا نہیں ہوئی.

قرون وسطی میں پرانے دور میں اگر کسی شوہر کو پتہ چلتا تھا کہ اس کی بیوی کسی محفل میں بیٹھ کر کسی دوسری عورت کے کان میں باتیں کر رہی ہے تو اس کا شوہر سزا کے طور پر اپنی بیوی کے سر پر لوہے کا ایک خول چڑھا دیتا تھا لوہے کے اس خول کو قرون وسطیٰ میں چغل خور کی علامت سمجھا جاتا تھا.

Loading...

اس خول کے وپر والے حصے میں لوہے کی کچھ پٹیاں لگی ہوئی ہوتی تھی اور اس کا ایک نچلا حصہ نوک دار ہوتا تھا اور یہ نوک دار حصہ عورت کے منہ میں ڈال دیا جاتا تھا اور جب یہ عورت کچھ بولنے کی کوشش کرتی تھی تو یہ نوک دار حصہ اس کی زبان میں چبھ جاتا تھا.

کس مہینے میں‌ پیدا ہونے والے بچے خوش قسمت ہوتے ہیں‌ …؟

نوکدار حصہ منہ میں چھپا دینا ہیں صرف سزا نہیں ہوتا تھا بلکہ اس کا شوہر مزید سخت سزا دینے کے لیے اس خول کے ایک حصے میں گھوڑے کی لگام کی طرح رسی ڈال لیتا تھا اور پھر اس رسی کو پکڑ کر خاتون کو جانور کی طرح بازاروں میں گھومتے تھے اور بازار میں موجود لوگوں کو کہا جاتا تھا کہ وہ اس عورت کی بےعزتی کریں اور اس پر لعنت کریں.

بازاروں میں لوگوں کو متوجہ کرنے کے لئے اس عورت کے گلے میں ایک گھنٹی بھی ڈال دی جاتی تھی یعنی اس عورت کے ساتھ ایک مکمل غلام کی طرح سلوک کیا جاتا تھا. لیکن سولہویں صدی کے بعد سزا دینے کا یہ طریقہ کم ہوتا چلا گیا اور آہستہ آہستہ بالکل ختم ہوگیا.

(Visited 316 times, 1 visits today)
Loading...
Advertisements

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں