آٹے کا بحران حکومت کے لیے ایک اور چیلنج…!

آٹے کا بحران

ملک بھر میں آٹے کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ریٹیلرز ایسو سی ایشن کے مطابق گندم سپلائی کم ہونے کے سبب گزشتہ ایک ہفتے کے دوران آٹے کی قیمت میں 5 سے 6روپے کلو اضافہ ہوا۔ وزیراعظم عمران خان نے اس صورتِ حال کا سختی سے نوٹس لیتے ہوئے معاملے پر غور کرنے اور جلد از جلد حل کرنے کی ذمہ داری جہانگیر ترین اور خسر و بختیار پر ڈال دی۔ ادھر پنجاب میں بھی وزیراعلیٰ سردار عثمان بزدار حرکت میں آئے اورآٹے کی بڑھتی قیمت کے ذمہ داران کے حلاف سخت کارروائی کا حکم جاری کر دیا۔

پنجاب کے مختلف شہروں میں آٹے کی سپلائی کو یقینی بنانے کے لئے 126سیل پوائنٹس قائم کر دیئے گئے ہیں۔آٹے کی قیمت تو بڑھی سو بڑھی تھی، لیکن دوسرا المیہ یہ تھا کہ مارکیٹ سے آٹا ہی غائب ہو گیا،عام آدمی کو آٹا مہنگے داموں بھی میسر نہیں تھا،یعنی سونے پر سہاگہ ہو گیا،امید کی جا سکتی ہے کہ ان سیل پوائنٹس کے بننے کے بعد شہریوں کوکم از کم آٹے کی شکل تو دیکھنا نصیب ہو گی۔

جب فلور ملز ایسوسی ایشن نے آٹے کی قیمت برھائی تو بھلاچکی مالکان کیوں پیچھے رہتے، انہوں نے بھی آٹے کی فی کلو قیمت 70 روپے کر دی۔صرف پنجاب ہی نہیں، بلکہ کراچی میں بھی چکی کا آٹا 2 روپے کلو مزید مہنگا کر دیا گیا۔چکی مالکان کاشکوہ تھا کہ حکومت نے انہیں کوئی ریلیف نہیں دیا، لہٰذا وہ قیمت بڑھانے میں حق بجانب ہیں، وہ چاہتے تھے کہ انہیں بھی فلو ر ملوں کی طرح گندم امدادی نرخوں پر دی جائے۔ ان کی گندم پسوائی پر لاگت بھی فلور مل سے زیادہ آتی ہے۔

آٹے کی قیمت میں اضافے کے بعد نان بائی ایسوسی ایشن نے بھی روٹی10روپے اور نان 15 روپے کا کرنے کا اشارہ دے دیا۔ کراچی میں اِس وقت 100کلو گندم کی بوری 500 روپے اضافے کے بعد 5200 روپے میں فروخت ہو رہی ہے۔ یہی صورتِ حال بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں بھی ہے۔بلوچستان میں بھی سو کلو کا آٹے کا تھیلا 5,500 روپے میں فروخت ہو رہا ہے۔بلوچستان اپنی 2 ملین ٹن گندم کی ضرورت پوری کرنے کے لئے پنجاب اور سندھ پرانحصار کرتا ہے،خیبر پختونخوا میں بھی 95 فیصد گندم پنجاب سے جاتی ہے، لہٰذا اگر پنجاب میں گندم کا بحران پیدا ہوتا ہے تواس کے اثرات پورے ملک پر مرتب ہوتے ہیں۔

نئے سال کا ابھی پہلا مہینہ بھی مکمل نہیں ہوا اور آٹے کی قیمت میں دو بار اضافہ ہو چکا ہے۔ جنوری کے پہلے ہفتے میں بھی آٹے کی قیمت چار روپے فی کلو بڑھی تھی۔یہاں یہ بات بھی قابل ِ ذکر ہے کہ گزشتہ ایک برس میں آٹے کی قیمت میں 18روپے کا اضافہ ہو چکا ہے،جس کا مطلب ہے کہ آٹے کی قیمت 23 فیصدبڑھی ہے۔جب موجودہ حکومت نے اقتدار سنبھالا تھا توآٹا 52 روپے فی کلو تھا اور ایک ماہ کے اندر اندر ہی دو روپے اضافے سے قیمت 54 روپے فی کلو ہو گئی۔

اس کے بعد 60 روپے فی کلو تک گئی اورصرف دو ہی ہفتوں میں اب فی کلو آٹے کی قیمت مزید اضافے کے بعد 70 روپے ہو چکی ہے۔ ہمارے ملک میں آٹے اور گندم کی کہانی عجیب ہی ہے،آج تک اس کا کوئی مستقل حل تلاش نہیں کیا جا سکا۔ ملک میں گندم کے ذخائر موجود ہونے کے باوجود کوئی نہ کوئی مسئلہ منہ کھولے کھڑا ہی رہتا ہے۔ 2019ء میں ملک میں 24 ملین ٹن گندم پیدا ہوئی، جبکہ ٹارگٹ 25.8 ملین ٹن تھا، لہٰذا گندم کی پیداوار میں قریباً 1.8 ملین ٹن کمی آئی۔

لیکن گزشتہ برس کی 3.7 فیصد گندم ذخیرے میں موجود تھی، اس لئے کُل ملا کر 27.7 ملین ٹن گندم دستیاب تھی،جو کہ ضرورت سے بہرحال زیادہ تھی۔حکومت نے ذخائر بچانے کی خاطر گزشتہ برس ستمبر میں گندم کی درآمد پر بھی پابندی لگا دی تھی۔اس سے قبل افغانستان کو آسان شرائط پر گندم برآمد کی جار ہی تھی، جو کہ گندم کے ذخائر میں کمی اور قیمت میں اضافے کی بڑی وجہ تھی۔اور اب ذرائع کے مطابق حکومت اس سال 3 لاکھ ٹن گندم درآمدکرنے پر غور کر رہی ہے۔

لنڈا بازار، سفید پوش افراد کا بھرم

آٹے کی قیمتیں بڑھنے کی بڑی وجہ فلور ملز کی جانب سے مطلوبہ مقدار میں آٹے کی عدم فراہمی ہے اوراس کے ساتھ ساتھ دوسرے صوبوں اور افغانستان کو آٹے کی غیر قانونی ترسیل بھی۔پنجاب حکومت کی جانب سے جب سرحدی چیک پوسٹوں کو فعال کیا گیا تو پنجاب میں اوپن مارکیٹ میں گندم کی قیمت 120روپے فی من کم ہوئی تھی۔ اس کے علاوہ کہیں نہ کہیں گندم چوری بھی کی جاتی ہے،سندھ میں گندم کے8 ملین ٹن کے ذخائر ایک دم 6 ملین ٹن ہو گئے، 2ملین ٹن گندم کہاں گئی اور کیسے گئی کسی کو معلوم نہیں۔

افسوس تو یہ ہے کہ معاملہ صرف آٹے کی قیمت تک ہی محدود نہیں ہے، ہر طرف افراتفری کا عالم ہے۔پٹرول، گیس، بجلی، پانی کی قیمتوں کو ٹھہراؤ نصیب نہیں ہے، بنیادی اشیائے خوردو نوش کی قیمتیں ہر روز ہی بڑھ جاتی ہیں۔ جن اشیاء کے حکومت نرخ مقرر کرتی ہے ان کی کوالٹی انتہائی خراب ہوتی ہے۔وزیراعظم پچھلے دورِ حکومت میں کی گئی اپنی ہی تقریروں پر غور کر لیں تو شائد کچھ افاقہ ہو جائے۔

آٹا، دال، سبزی ایسی بنیادی اشیاء ہیں، جن کے بغیر گزارا ناممکن ہے اور ان کی قیمتوں میں بلا جواز اضافہ حکومت کی انتظامی صلاحیتوں پر سوالات اٹھانے کے لیے کافی ہے۔ حکومت نے بحران پیدا ہو نے کے بعد مل مالکان کو جرمانے بھی کئے اور بعض کے لائسنس معطل کئے اگر یہی کام پہلے کر لیا جاتا تو شاید یہ صورتِ حال ہی پیدا نہ ہوتی۔حکومت پر لازم ہے کہ وہ فلور مل مالکان کوپابند کرے کہ وہ طے شدہ طریقہ کار کے مطابق کام کریں، گندم کی چوری کا خاتمہ کرے اورساتھ ہی ساتھ حکومت گندم و آٹے کی غیر قانونی ترسیل و سمگلنگ کو روکے۔ حکومت کو چاہئے کہ اب بھی ذمہ داروں کے خلاف سخت سے سخت کارروائی کرے،جب تک سزاکا ڈر نہیں ہو گا تب تک سب کچھ ایسے شتر بے مہار چلے گا۔ ہر معاملے کاصرف نوٹس لے لینا ہی کافی نہیں ہے، آخرکب تک صرف باتوں سے ہی عوام کا پیٹ بھرنے کی ریت چلتی رہے گی؟

(Visited 80 times, 1 visits today)

Comments

comments

آٹے کا بحران,

اپنا تبصرہ بھیجیں