آپ پرفیکٹ انسان کیوں نہیں ہو سکتے …؟

Loading...

مجھے وہ بندہ بڑا پسند ہے لیکن ۔۔ یہ لیکن جو ہے یہ ہماری زندگیاں جھنڈ کر دیتا ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ جو بھی شخصیت ہمارے حصے میں آئی ہے وہ ایسی تراش خراش کے ساتھ مکمل ہو جیسے کوہ نور ہیرا۔ پرفیکٹ انسان ہو جانا کسی وجود کے بس کی بات نہیں، جو سانس لیتا ہے وہ نامکمل ہے۔

ہم اکثر کسی کی تعریف میں زمین آسمان ایک کر دیتے ہیں، اس کے بعد ایک چھوٹا سا ‘لیکن’ لگتا ہے اور سب کچھ وہیں ملیا میٹ ہو جاتا ہے۔ انسان کسی ایک کیفیت کا نام نہیں ہے۔ وہ مجموعہ ہے مختلف خیالات کا، حالات کا، احساسات کا، جذبات کا، تو ایک سانس لیتے وجود سے یہ توقع کرنا کہ وہ سارے کام اس طرح انجام دے جیسے آپ چاہتے ہیں، وہ ناممکن ہے۔

اگر ایک انسان تمیزدار کپڑے پہنتا ہے، تہذیب سے گفتگو کرتا ہے، سلیقے سے کھانا کھاتا ہے، اٹھتے بیٹھتے پلیز اور سوری کہتا ہے، تو یہ اس کا قصور نہیں ہے۔ اس سے توقع رکھنا کہ وہ کبھی گالی نہیں دے گا یا کوئی ایسا کام نہیں کرے گا جو آپ کے اخلاقی معیارات پہ پورا نہیں اترتا، یہ ایک ایسا ترازو ہے جس میں تول کر آپ اسے ضائع کر بیٹھتے ہیں۔

ہم لوگ صبح شام اپنی باتوں میں اکثر ایک دوسرے سے کہہ رہے ہوتے ہیں کہ یار فلانا بندہ ویسے تو بہت اچھا ہے لیکن اگر اس میں یہ بری عادت نہ ہوتی تو کیا ہی بات تھی۔ دیکھیے وہ عادتیں جنہیں آپ برا سمجھتے ہیں اصل میں وہی آپ کو یا سامنے والے کو اچھا بننے میں مدد دیتی ہیں۔

مثلا آپ نے کسی کاروباری ڈیل میں رشوت دی تو آفس سے باہر نکلتے ہی آپ کسی فقیر کو پانچ سو کا نوٹ تھما دیں گے۔ آپ نے ماں باپ سے جھوٹ بولا اور وہ مان گئے، تو ساری عمر آپ کے دل میں ان کی اس بات کا احترام بیٹھ جائے گا کہ وہ چاہتے تو ذرا سی چھان پھٹک کرتے اور آپ کی پھینٹی لگا دیتے، لیکن وہ مان گئے۔ آپ نے امتحان میں نقل کی، ٹیچر نے دیکھ لیا، اگنور کیا، آپ پاس تو ہو گئے لیکن درگزر کی عادت آپ کے دل پر نقش ہو گئی۔ آپ نے کوئی ایسی حرکت کی جس پر تنہائی نے پردے ڈالے رکھے تو ہجوم میں آپ اور زیادہ محتاط ہو گئے، تمیز دار ہو گئے۔

یہی چکر دوستیوں میں بھی ہے، دنیاوی رشتوں میں بھی ہے۔ آپ نے جب کسی انسان سے دوستی کی تھی تو اس کی پرسنیلٹی کا کوئی بھی ایک پہلو دیکھا، وہ آپ کو پسند آیا اور آپ دوست ہو گئے۔ بات چیت بڑھی اور آپ پر کھلا کہ یار اس میں تو جھوٹ بولنے کی عادت بھی ہے، یہ تو کھاتے ہوئے منہ سے آوازیں نکالتا ہے، یہ غصے کا بڑا تیز ہے یا کچھ بھی۔ کوئی بھی ایسا بڑے سے بڑا عیب جو آپ کو شدید ناپسند ہے، وہ آپ اس میں ڈھونڈ لیتے ہیں۔ اب اس کی ‘اصلاح’ جو ہے وہ آپ کی زندگی کا سب سے بڑا مقصد بن جاتی ہے۔

یہ جو ‘اصلاح’ ہے نا، یہ اصل تباہی ہے۔ بندہ قبول کریں تو پورا کریں ورنہ دور سے ہی سلام کر دیں۔ ہر نیا انسان دوست بنانے سے پہلے سوچیں کہ اس میں کوئی ‘برائی’ نکل آئی تو کیا کریں گے؟ اگر آپ کا ری ایکشن یہ ہو گا کہ آپ نے اسے ‘ٹھیک’ کرنا ہے تو یہ آپ کی غلطی ہے۔ بہتر ہے کہ حلقہ احباب محدود کر لیں، مایوسی کم ہو گی۔

Loading...

تاریخ گواہ ہے کہ آدمی نے کچھ سیکھنا ہو تو یا نقصان اس کا استاد ہوتا ہے اور یا تجربہ، کسی کی نصیحت یا مشورے سے اگر کوئی کچھ سیکھ گیا تو وہ انسان ہی نہیں ہے اور یا ابھی کرنیوں میں کچا ہے۔ بندہ ٹھیک کرنا بندہ ضائع کرنے والی بات ہے۔ وہ آپ کے سامنے ‘ٹھیک’ ہو جائے گا، لیکن فطرت انسان کی سمجھا دینے پر بدلنے والی چیز ہے نہیں۔ ٹھیک کیے بغیر اگر آپ اسے ساتھ چلا لیتے ہیں تو وہ آپ کی بہت بڑی کامیابی ہے۔

انسان اپنی فطرت میں جانور ہے۔ کبھی وہ لومڑی جیسا مکار ہے، کبھی کتے جیسا وفادار ہے، کبھی شیر جیسا وحشی ہے، کبھی بندر جیسا چھلاوہ ہے، کبھی گدھے جیسا محنتی ہے، کبھی گائے جیسا خاموش طبع ہے، کبھی بلی کی طرح لاڈ اٹھواتا ہے، کبھی بھیڑیے جیسا درندہ بنے گا، کبھی اونٹ کی طرح پلٹ کر بدلا ضرور لے گا، لیکن ۔۔۔

وہ مکمل ایک جانور نہیں ہوتا۔ اگر وہ کتا ہے تو وہ تھوڑی سی لومڑی بھی ہو گا، تھوڑا اس میں گدھا بھی جھلک مارے گا۔ اگر وہ بلی ہے تو دیوار سے لگانے پہ اس نے شیر بھی ہو جانا ہے اور نہ ہو سکنے پر کبھی نہ کبھی اونٹ بھی بننا ہے۔ اگر وہ مکمل کتا ہو، لومڑی ہو، شیر ہو، بندر ہو، گدھا ہو، گائے ہو یا بلی ہو تو پھر وہ انسان ہو ہی نہیں سکتا۔ اسے باقی جانوروں کے خصائل جو ہیں مل ملا کر انسان بنا دیتے ہیں۔

تو ہمارا زور کہاں پہ تھا؟ کہ بندہ جو ہے اسے ‘برائیاں’ ہی ‘اچھا’ بننے میں مدد دیتی ہیں۔ شاید سلطان باہو نے کہا تھا کہ جے میں وچ عیب گناہ نہ ہوندے، توں بخشیندا کینوں ہو!

بھارتی جاسوس کلبھوشن سنگھ یادیو کے کیس میں کب کیا ہوا ….؟

جو ایک بات اس سلسلے میں سب سے اہم ہے، اور جو رہی جاتی ہے، وہ یہ کہ ‘اچھائی’ خود اپنے آپ میں ایک بہت بڑا مسئلہ ہے۔ آپ کبھی ‘اچھے’ آدمی کو نارمل نہیں دیکھیں گے۔ اس کی اٹھک بیٹھک میں ایک فخر ہو گا، غرور ہو گا، اس کی آنکھوں میں سادگی کے بجائے ایک ایسی چمک ہو گی جسے آپ برتری کا نام دے سکتے ہیں، اس کے گرد ‘مقدس پنے’ کا ہالہ ہو گا، وہ آپ سے مخاطب ہو گا تو بھی ایسے جیسے وہ اوپر سے، کہیں بہت دور سے آپ کو دیکھ رہا ہے، وہ زمین پر نہیں ہو گا۔ اس کا بھی فخر جائز ہے، غرور جائز ہے، یہ مرتبہ اسے ان ساری حرکتوں کو نہ کرنے کی وجہ سے حاصل ہوا جنہوں نے اسے ‘عام انسان’ بنا دینا تھا۔ لیکن وہ اس چکر میں زمین کا نہیں رہتا اور آسمانی بندے کے ساتھ گزارا کرنا زمینی جانوروں کی نسبت بہت زیادہ مشکل ہے، سمجھ نہیں آتی تو کوشش کر کے دیکھ لیجیے۔

بس تھوڑی سی بات اور۔ اپنے ہونے کو لائٹ لیں، اپنے وجود کو، اپنی زندگی کو نارمل لیجیے۔ کوئی بہت ‘خاص مقصد’ کسی کے دنیا میں آنے کا نہیں ہوتا۔ لوگ آتے ہیں، چلے جاتے ہیں، اتفاق سے کوئی ایسا کام ہو جاتا ہے جو انہیں دنیا میں ہیرو بنا دیتا ہے ورنہ ہوتے وہ بالکل آپ کے، میرے جیسے ہیں۔

اپنے آپ سے لڑائی مت کریں، دوسروں کی ‘اصلاح’ مت کریں۔ کسی کو اپنانا ہے تو اس کی ان تمام عادتوں سمیت اپنائیں جو آپ کو پسند نہیں، اگلا بندہ ٹھیک ہو نہ ہو آپ خود سکون میں آ جائیں گے۔ پرفیکٹ ہونا ضروری نہیں ہے، چین، آرام، سکون اور آسانی ضروری ہے!

بشکریہ انڈیپنڈنٹ اردو

(Visited 59 times, 2 visits today)
Loading...
Advertisements

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں