ہم نے پاکستان بچانا ہے اور ہم ضرور جیتیں گے، آصف زرداری کا اے پی سے خطاب

Loading...

حکومت کے خلاف حزب مخالف کی جماعتوں کی آل پارٹیز کانفرنس کا آغاز ہوگیا ہے جس میں سابق صدر آصف زرداری اور سابق وزیر اعظم نواز شریف ویڈیو لنک کے ذریعے شریک ہیں۔ 

اے پی سی میں سابق صدر آصف زرداری نے ابتدائی نوٹ سے خطاب کرتے ہوئے سارے شرکاء کو خوش آمدید کہا اور سابق وزیر اعظم نواز شریف کی صحت کے لیے دعا کرنے کے ساتھ کہا کہ میرے خیال میں یہ اے پی سی بہت پہلے ہونی چاہیے تھی۔

ان کا کہنا تھا جب سے ہم سیاست میں ہیں میڈیا پر اس طرح کی پابندیاں نہیں دیکھیں، چاہے کتنی ہی پابندیاں لگائی جائیں، لوگ ہمیں سن رہے ہیں، حکومت اے پی سی کے خلاف ہتھکنڈے استعمال کر رہی ہے یہی ہماری کامیابی ہے۔

سابق صدر نے کہا کہ بے نظیر بھٹو نے نواز شریف کے ساتھ مل کر میثاق جمہوریت پر دستخط کیے اور پھر ہم آہنگی کے ذریعے مشرف کو بھیجا، 18 ویں ترمیم کے گرد ایک دیوار ہے جس سے کوئی بھی آئین کو میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا۔

آصف زرداری نے کہا کہ ہم صرف اس حکومت کو نکالنے نہیں آئے بلکہ اس حکومت کو نکال کر اور جمہوریت بحال کر کے رہیں گے، ہم نے پاکستان بچانا ہے اور ہم ضرور جیتیں گے۔

کُل جماعتی کانفرنس میں مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف، جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان، محمود خان اچکزئی اور مریم نواز سمیت دیگر جماعتوں کے نمائندے بھی شریک ہیں۔

’کانفرنس میں تحریک عدم اعتماد اور جلسے جلوسوں کی تجویز پیش کی جائےگی‘

پیپلز پارٹی ذرائع کے مطابق بلاول بھٹو زرداری نے اے پی سی کے مشترکہ اعلامیے کے لیے پارٹی قائدین سے مشاورت مکمل کر لی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ کُل جماعتی کانفرنس میں وزیراعظم عمران خان اور اسپیکر اسد قیصر کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی تجویز پیش کی جائے گی۔ اس کے علاوہ ملک بھر میں جلسے جلوسوں کی تجویز  بھی پیش کی جائےگی۔

Loading...

دوسری جانب  وزیراعلی پنجاب کو بھی تحریک عدم اعتماد کے ذریعے گھر بھیجنے کی تجویز دی جائے گی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اس تجویز پر فیصلہ اتفاق رائے سے کیا جائے گا۔

خیال رہے کہ ن لیگ کی رہنما مریم نواز نے کہا ہے کہ نوازشریف کا اے پی سی سےخطاب سوشل میڈیا پلیٹ فارم سے دکھانےکے اقدامات کیے جا رہے ہیں جس پر حکومت نے شدید رد عمل دیا ہے۔

وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے سیاسی روابط شہباز گل کا کہنا تھا کہ اگر نواز شریف نے اے پی سی سے خطاب کیا اور ان کا خطاب نشر ہوا تو پیمرا اور دیگر قانونی آپشن استعمال ہوں گے۔

شہباز گل کا یہ بھی کہنا تھا کہ یہ کس طرح ممکن ہے کہ ایک مفرور مجرم سیاسی ایکٹیوٹیز کرے اور بھاشن دے-

ان کا کہنا تھا کہ شریف خاندان جھوٹ کے علاوہ کچھ نہیں بول سکتا، یہ اتنے جھوٹے ہیں کہ بیماری پر بھی جھوٹ بولتے ہیں۔

دوسری جانب وزیراعظم کے مشیر برائے احتساب شہزاد اکبر نے بھی کہا ہے کہ پیمرا قوانین میں موجود ہے کہ کوئی بھی مجرم یا مفرور ٹی وی خطاب نہیں کر سکتا۔

(Visited 15 times, 1 visits today)
loading...
Advertisements

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں