جو تنخواہ ملتی ہے، اس سے میرے گھر کے خرچے پورے نہیں ہوتے, وزیراعظم

Loading...

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے انکشاف کیا ہے کہ انھیں جو تنخواہ ملتی ہے اس سے ان کے گھر کے خرچے بھی پورے نہیں ہوتے۔

انہوں نے کہا کہ میں اقتدار میں آ کر کوئی فیکڑیاں نہیں بنا رہا، اپنے گھر کا خرچہ خود کرتا ہوں۔

اسلام آباد میں تاجر برادری کی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے عوام کو ایک مرتبہ پھر امید دلاتے ہوئے کہا کہ قوموں کی زندگی میں مشکل وقت آتے رہتے ہیں، مجھے مہنگائی کا احساس ہے۔ ہم نے اسے کنٹرول کرنے کے لیے اقدامات کیے، اس سے مہنگائی نیچے آئے گی۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ مغرب کے حکمرانوں کو عوام کے ٹیکس کے پیسے کا احساس ہوتا ہے لیکن پاکستان میں بدقسمتی سے غلط روایات پڑی۔ سابق حکمرانوں نے ٹیکس کا پیسہ ایسے استعمال کیا جیسے پاکستان میں تیل کی نہریں بہتی ہوں۔ عوام کے ٹیکس کے پیسوں سے باہر جائیدادیں خریدی گئیں۔ جب حکمران بادشاہوں کی طرح زندگی گزاریں گے تو پھر کون ٹیکس دے گا؟ ٹیکس کا پیسہ شاہانہ انداز میں خرچ نہیں ہونا چاہیے۔

انہوں نے سابق حکمرانوں کے مقابلے میں اپنی مثال دیتے ہوئے کہا کہ میں نے گھر کی سڑک اپنے پیسے سے بنائی، اپنا خرچہ خود چلاتا ہوں تاہم جو تنخواہ ملتی ہے اس سے میرے گھر کا خرچہ بھی پورا نہیں ہوتا۔

Loading...

اپنے خطاب میں وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کا پاکستان کو نقصان ہوا۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اس لیے حصہ لیا گیا تھا امداد مل جائے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ قرضہ لینے والے ممالک کی دنیا میں عزت نہیں ہوتی، مقروض ملکوں کی آزاد خارجہ پالیسی متاثر ہوتی ہے۔ ہم تاجر برادری کے لیے آسانیاں پیدا کر رہے ہیں۔ جتنی تجارت بڑھے گی، اتنا ہی ملک خوشحال ہوگا۔ ملک کو خوشحال بنانے کیلئے عوام کو حکومت کا ساتھ دینا ہوگا۔ احساس ہے کہ ملک میں مہنگائی بڑھی ہے۔ قوموں کی زندگی میں مشکل وقت آتے رہتے ہیں۔ ہم نے جو اقدامات اٹھائے ہیں اس سے مہنگائی کم ہوگی۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ پاکستان فلاحی ریاست کیسے بنے گا؟ جب تک ٹیکس اکٹھا نہیں کریں گے۔ ہم نے اپنے بچوں کو تعلیم اور صاف پانی دینا ہے۔ پاکستان کا شمار دنیا کے کم ترین ٹیکس دینے والے ممالک میں ہوتا ہے۔ ٹیکس اکٹھا کیے بغیر پاکستان آگے نہیں بڑھ سکتا۔ ٹیکس نہیں دیں گے تو ملک کیسے ترقی کرے گا؟ اپنے پاؤں پر کھڑے نہیں ہوں گے تو سبز پاسپورٹ کی عزت نہیں ہوگی۔

(Visited 52 times, 1 visits today)
Loading...
Advertisements

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں