چیف الیکشن کمشنر اور اراکین کی تقرری کا معاملہ، حکومت اور اپوزیشن ناموں پر متفق

اسلام آباد: ذرائع کے مطابق چیف الیکشن کمشنر اور دو ممبران کی تقرری کے معاملے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ابتدائی اتفاق رائے ہو گیا ہے۔

ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ چیف الیکشن کمشنر کے لئے حکومت اور اپوزیشن نے سکندر سلطان راجہ کے نام پر رضامندی کا اظہار جبکہ بلوچستان سے ممبر کے لئے شاہ محمود جتوئی کے نام پر اتفاق کیا ہے۔

اس کے علاوہ سندھ سے ممبر کے لئے نثار درانی کے نام پر حکومت اور اپوزیشن متفق ہو چکی ہے۔ پارلیمانی کمیٹی میں ہونے والے اتفاق رائے سے وزیراعظم کو بھی آگاہ کر دیا گیا ہے۔

وزیراعظم عمران خان کی طرف سے فی الوقت سکندر سلطان راجہ کے نام کی منظوری نہیں دی گئی۔ ان کی منظوری کے بعد منگل کے روز نامزدگی کا اعلان کئے جانے کا امکان ہے۔

چیف الیکشن کمشنر کیلئے قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر میاں شہباز شریف نے ناصر کھوسہ، اخلاق تارڑ اور عرفان قادر کے نام تجویز کیے تھے۔

اس سلسلے میں شہباز شریف نے وزیراعظم عمران خان کو جوابی خط لکھا جس میں کہا گیا تھا کہ پچیس نومبر کو شروع ہونے والے عمل کو غیر ضروری التواء کا شکار کیا جا رہا ہے۔ آپ کے تجویز کردہ ناموں کا جائزہ لیا جا رہا ہے، ہمارے ناموں پر بھی نظر ثانی کریں۔

خیال رہے کہ وزیراعظم عمران خان کی طرف سے چیف الیکشن کمشنر کے لیے اپوزیشن لیڈر میاں محمد شہباز شریف کو لکھے گئے خط میں بھی تین نام تجویز کیے گئے تھے۔

وزیراعظم کی طرف سے اپوزیشن لیڈر کو جو تین نام بھجوائے گئے، ان میں سابق وفاقی سیکرٹری جمیل احمد، سابق سیکرٹری فضل عباس میکن اور سکندر سلطان راجا کے نام شامل تھے۔

وزیراعظم نے اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کو یہ خط 15 جنوری کو لکھا تھا۔ یہ خط مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما خواجہ آصف نے لندن بھجوایا تھا۔

اس خط میں وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ بامعنی مذاکرات کے لیے آپ کو خط لکھ رہا ہوں۔ چیف الیکشن کمشنر کی تعیناتی کا عرصہ سے زیر التوا معاملہ حل کرنا چاہتا ہوں، آپ کو ازسر نو تشکیل کیا گیا پینل بھیج رہا ہوں۔

(Visited 8 times, 1 visits today)
loading...

Comments

comments

2, الیکشن کمشنر,

اپنا تبصرہ بھیجیں