عمران خان سے ملاقات میں ایسا لگا کہ شاید وہ مجھے پسند نہیں کرتے, مونس الہٰی

پاکستان مسلم لیگ (ق) کے رکن قومی اسمبلی مونس الہٰی نے کہا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات میں ایسا لگا کہ شاید وہ مجھے پسند نہیں کرتے،

اس لیے کابینہ میں شامل نہیں ہونا چاہتا۔ اسپیکر پنجاب اسمبلی پرویز الہٰی کے بیٹے مونس الہٰی کا کہنا تھا کہ ق لیگ، تحریک انصاف سے اتحاد تب تک ختم نہیں کرے گی جب تک پی ٹی آئی والے ق لیگ کو دھکے مار کر الگ نہ کریں۔

انہوں نے بتایا کہ عمران خان سے یکم جنوری کو ملاقات ہوئی، ملاقات میں ایسا لگا کہ شاید وہ مجھے پسند نہیں کرتے، اس لیے کابینہ میں شامل نہیں ہونا چاہتا،عمران خان سے ملاقات میں کہہ دیا تھا کہ میں وفاقی وزارت میں دلچپسی نہیں رکھتا، تُک نہیں بنتی کہ ایسی ٹیم کا رکن بن جاؤں جس کا لیڈر مجھ سے مطمئن نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ آٹے کے بحران پر بات نہیں کرنا چاہتا، آج ایک بیان دیا تو پی ٹی آئی والوں نے کہا کہ ابھی تو صلح ہوئی ہے، پی ٹی آئی سے تحریری معاہدہ ہے، میٹنگ اس پر عمل درآمد کے لیے ہوئی، ان سے معاہدہ ہوا تھا کہ 2 صوبائی اور 2 وفاق میں وزارتیں ملیں گی۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی نے پنجاب اور وفاق میں ایک ایک وزارت دی، پنجاب میں ہمیں ایک اور وزارت دی جانی تھی لیکن ہمارے ایک وزیر کو پریشان کیا گیا جس پر انہوں نے استعفیٰ دے دیا، یہ ہمارے وزیر کو منانے آئے اور پنجاب میں دوسری وزارت بھی دے دی لیکن وفاق میں ہمیں ایک اور وزارت نہیں دی۔

مونس الہٰی کا کہنا ہے کہ ہم آخر تک کوشش کریں گے کہ یہ معاملات درست کرلیں، پہلے دن سے کہا کہ پنجاب سے متعلق جو بھی فیصلہ کرنا ہو کریں لیکن ہم سے مشاورت کرلیں، انہوں نے لوکل گورنمنٹ بل پاس کرایا، میری نظر میں اس سے زیادہ احمقانہ فیصلہ نہیں جویہ پنجاب میں بلدیاتی سسٹم لانا چاہ رہے ہیں۔

(Visited 18 times, 1 visits today)

Comments

comments

مونس الہٰی,

اپنا تبصرہ بھیجیں