کنٹرول لائن پر بھارتی فوج کی فائرنگ سے پاک فوج کا جوان شہید

کنٹرول لائن

مظفر آباد: لائن آف کنٹرول پر بھارتی فوج کی فائرنگ سے پاک فوج کا جوان شہید ہوگیا۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق بھارتی فوج کی ایک مرتبہ پھر سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزی کی ہےاور ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے شہری آبادی کو نشانہ بنایا۔

آئی ایس پی آر کے مطابق بھارتی فوج نے ایل او سی پر وادی لیپا کے کیانی سیکٹر پر فائرنگ کی، پاک فوج کے جوانوں نے بھارتی فوج کی چوکیوں کو نشانہ بناتے ہوئے بھارتی فائرنگ کا موثر جواب دیا، فائرنگ کے تبادلے کے دوران سپاہی امتیاز علی شہید ہوگئے۔

سپاہی امتیاز علی کی عمر 30 سال تھی اور ان کا تعلق ضلع نوشہرہ سے تھا، سپاہی امتیاز علی بہادری سے مادر وطن کا دفاع کرتے ہوئے شہید ہوئے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق بھارتی فوج نے نیزا پیر اور رکھ چکری سیکٹر پر شہری آبادی کو نشانہ بنایا۔ بھارتی گولہ گرنے سے زخمی بچی کو قریبی مرکز صحت منتقل کر دیا گیا ہے۔

اس سے قبل بھارتی فوج نے کوٹلی کے گاؤں جبار، سندھارا، سنبل گلی اور دبسی کو نشانہ بنایا تھا۔ پاک فوج بھرپور جوابی کارروائی کرکے دشمن کی گنوں کو خاموش کرا دیا تھا۔

loading...

بھارتی فوج کی جانب سے جندروٹ اور نکیال سیکٹر میں مارٹرز اور بھاری توپ خانہ کا استعمال کیا گیا۔ فائرنگ کے نتیجے میں 2 بچوں اور 2 خواتین سمیت 10 شہری شدید زخمی ہوئے جنھیں قریبی طبی مراکز منتقل کیا گیا تھا۔

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج نے مزید 3 کشمیریوں کو شہید کردیا

پاک فوج کی جانب سے بھرپور جوابی کارروائی کی گئی جس کے نتیجے میں ایک بھارتی فوجی جاں بحق جبکہ 3 زخمی ہو گئے۔ زخمیوں میں بھارتی فوج کا میجر بھی شامل ہے۔ پاکستان نے لائن آف کنٹرول پر سیز فائر معاہدے کی مسلسل خلاف ورزی پر بھارتی ناظم الامور کو دفتر خارجہ طلب کرکے شدید احتجاج کیا تھا۔

دفتر خارجہ کے مطابق ضلع کوٹلی کے دیہاتوں میں 9 فروری کو بھارت کی جانب سے بلا اشتعال فائرنگ کی گئی۔ بھارتی اشتعال انگیزی سے بچوں اور خواتین سمیت 10 معصوم شہری زخمی ہوئے تھے۔

پاکستان نے مطالبہ کیا کہ بھارت 2003ء کے جنگ بندی معاہدے کی پاسداری کرے۔ ایل او سی پر کشیدگی بڑھا کر بھارت مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال سے توجہ نہیں ہٹا سکتا۔

(Visited 20 times, 1 visits today)

Comments

comments

کنٹرول لائن,

اپنا تبصرہ بھیجیں