خالد جاوید کو اٹارنی جنرل لگانے کا فیصلہ، وزیراعظم کی سمری بھجوانے کی ہدایت

Loading...

اسلام آباد: وفاقی حکومت نے خالد جاوید کو اٹارنی جنرل لگانے کا فیصلہ کر لیا، وزیراعظم نے وزارت قانون کو تقرری کیلئے سمری بھجوانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ نئے اٹارنی جنرل کی تقرری کی سمری آج ہی منظور کی جائے گی۔

 خالد جاوید خان اس سے قبل 2018 میں بھی اٹارنی جنرل آف پاکستان کے عہدے پر تعینات رہ چکے ہیں۔ سپریم کورٹ کے ججز کے خلاف الزام لگانے پر حکومت نے اٹارنی جنرل آف پاکستان انور منصور خان سے استعفیٰ لے لیا ہے۔

معاون خصوصی فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ آئین و قانون کی حکمرانی وزیراعظم کی اولین ترجیح ہے۔ وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا تمام آئینی اداروں کا احترام کرتے ہیں، آئینی اداروں کی عزت و توقیر ہمارے لیے انتہائی مقدم ہے۔

اٹارنی جنرل انور منصور خان نے جسٹس فائز عیسیٰ کیس میں دلائل شروع کرتے ہوئے سماعت کرنے والے سپریم کورٹ کے 10 رکنی لارجر بنچ میں شامل ججز پر الزام لگایا کہ انہوں نے صدارتی ریفرنس کے خلاف مقدمے کی تیاری میں جسٹس فائز عیسیٰ کی مدد کی ہے اور انہیں مشورے دیے ہیں۔

Loading...

خیال رہے کہ گزشتہ روز اٹارنی جنرل آف پاکستان انور منصور خان نے اپن منصب سے استعفیٰ دے دیا تھا، صدر مملکت کو ارسال کیے گئے استعفے میں انھوں نے کہا تھا کہ میں پاکستان بار کونسل کے مطالبے پر خود کو عہدے سے الگ کر رہا ہوں، گزشتہ ڈیڑھ سال تمام صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر ذمہ داریوں کو نبھایا۔

فاقی حکومت نے خالد جاوید خان کو نیا اٹارنی جنرل مقرر کرنے کا فیصلہ کر لیا

یاد رہے کہ دو دن قبل جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ کے فل بینچ نے اٹارنی جنرل کو سپریم کورٹ کے ججز پر لگائے گئے الزام کا تحریری ثبوت دینے یا معافی مانگنے کا حکم دیا تھا۔

جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کیس سے متعلق سپریم کورٹ میں حکومت کی جانب سے بھی جواب جمع کرایا گیا، وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم اور شہزاد اکبر نے کیس میں اٹارنی جنرل کے بیان سے اظہار لاتعلقی کیا، جواب میں کہا گیا کہ انور منصور خان نے جو زبانی بیان دیا وہ حکومت کی مرضی کے خلاف تھا، وفاقی حکومت اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کی عزت اور احترام کرتی ہے۔

(Visited 34 times, 1 visits today)
Loading...
Advertisements

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں