یکم محرم : دوسرے خلیفہ راشد حضرت عمرؓ کا یوم شہادت

حضرت عمرؓ
Loading...

محرم کا پورا مہینہ ہی اسلامی تاریخ میں خاص اہمیت کا حامل ہے، اس مہینے میں تاریخ کے اہم ترین واقعات پیش آئے جن میں یکم محرم کو دوسرے خلیفہ راشد حضرت عمرؓ بن خطاب کی شہادت اور واقعہ کربلا کی خاص اہمیت ہے۔

یکم محرم کو حضرت عمرؓ کا یوم شہادت انتہائی عقیدت و احترام سے منایا جاتا ہے۔ آپ نے نبوت کے چھٹے سال اسلام قبول کیا، آپ سے پہلے 40 مرد اور 11 خواتین اسلام قبول کرچکی تھیں۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد آپ مسلمانوں کے دوسرے خلیفہ بنے۔

تقریباً 11 سالہ دور حکومت میں حضرت عمر نے اسلامی سلطنت کا دائرہ 22 لاکھ مربع میل تک پھیلا دیا۔ آپ کے دور حکومت میں ہی پہلی بار مسلمانوں نے بغیر لڑائی کے یروشلم کو فتح کیا۔

Loading...

عبادت کو دنیاوی تجارت مت بنائیے ….!

حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی شہادت کی پیشگوئی حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے خود فرمائی تھی۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ایک روز حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کوہ احد پر تشریف لے گئے۔ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ، حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ اور حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ تھے۔ ان کی موجودگی کی وجہ سے پہاڑ وجد میں آگیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس پر اپنا قدم مبارک مارا اور فرمایا،

اے احد! ٹھہر جا۔ تیرے اوپر ایک نبی، ایک صدیق اور دو شہیدوں کے سوا اور کوئی نہیں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ 26 ذوالحجہ کو معمول کے مطابق نماز فجر کی ادائیگی کے لیے مسجد نبوی میں تشریف لائے جہاں نماز فجر میں مسجد کی حالت میں ابو لولو نامی مجوسی غلام نے جو قتل کے ارادے سے محراب میں چھپا ہوا تھا۔

تین بے دردی سے وار کیے پہلا ہی وار بہت گہرا تھا جس سے آپ کا خون اتنا بہہ گیا کہ مسجد نبوی کے منبر و محراب خون فاروقی سے سرخ ہوگیا۔ تین روز یہی کیفیت رہی جو دوا دی جاتی وہ کٹی ہوئی آنتوں سے باہر آجاتی تھی۔ یکم محرم سنہ 23 ہجری کو آپ اس دنیا سے تشریف لے گئے، آپ کو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے روضہ مبارک میں دفن کیا گیا۔

(Visited 19 times, 1 visits today)
Loading...
Advertisements

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں