ہمیں خوشی ہوئی کہ نوازشریف کل تندرست اور خوش لگ رہے تھے، شبلی فراز

شبلی فراز
Loading...

وفاقی وزیر اطلاعات شبلی فراز کاکہنا ہےکہ نواز شریف نے انتخابی عمل کو مشکوک بنانے کی کوشش کی، خوشی ہوئی کہ کل نواز شریف توانا ،تندرست  اور ہشاش بشاش لگ رہے تھے۔

ہمیں خوشی ہوئی کہ نوازشریف کل تندرست اور خوش لگ رہے تھے،

اسلام آ باد میں دیگر وفاقی وزراء کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیراطلاعات شبلی فراز کاکہنا تھا کہ ہمیں خوشی ہوئی کہ نوازشریف کل تندرست اور خوش لگ رہے تھے، پتا نہیں نواز شریف کا پاکستان آنے کا دل ہے یا نہیں۔

سابق وزیراعظم نواز شریف کی اپوزیشن کی آل پارٹیز کانفرنس(اے پی سی) میں لندن سے بذریعہ ویڈیو لنک خطاب پر گفتگو کرتے ہوئے شبلی فراز کا کہنا تھا کہ درخواست ہے کہ الیکشن کو متنازع نہ بنائیں، 2018 کے الیکشن میں 90 پٹیشنز الیکشن کمیشن میں جمع ہوئیں، 16 ایسے حلقے تھے جس میں ہمارے امیدوار 3 ہزار سے کم مارجن سے ہارے، اگر الیکشن شفاف نہیں تھے تو ہماری ان 16 نشستوں پر کیوں کسی نے مدد نہیں کی۔

شبلی فراز کاکہنا تھا کہ عدالت ان کے حق میں فیصلہ دے تو ٹھیک، خلاف دے تو غلط ہے، حقائق جانتے ہوئے چیزوں کو متنازع بنا کر وہ ملک و جمہوریت کی خدمت نہیں کررہے، ان جماعتوں کے ارکان پارلیمنٹ میں موجود ہیں، الیکشن اصلاحات بھی مسلم لیگ ن کی حکومت میں ہوئی ہیں۔

اس موقع پر وفاقی وزیر برائے ترقی و منصوبہ بندی اسد عمر کا کہنا تھا کہ نواز شریف فواد چوہدری سے کم صحت مند نہیں لگ رہے تھے، وہ جب جہاز میں بیٹھے تو پتا چل گیا تھا کتنے بیمار ہیں، ایک مجرم کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر بیرون ملک بھیجا گیا تھا۔

اسد عمر کا کہنا تھا کہ نواز شریف کی کل کی تقریر کی پذیرائی آج کے بھارتی اخبارات میں نظر آئی، عمران خان نے پیش گوئی کردی تھی کہ جب احتساب کا عمل آگے بڑھے گا یہ سب آپس میں مل جائيں گے، فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کا کسی سیاسی جماعت سے تعلق نہیں، انہوں نے پھر بھی اس کی مخالفت کی اور 34 ترامیم ڈال کر حکومت کو بلیک میل کرنا چاہا۔

ان کا کہنا تھا کہ انہیں اینٹی منی لانڈرنگ قانون میں  اپنے آپ کے لیے خطرہ نظر آتا ہے، ان کے ساتھ ساتھ ملک دشمنوں کو بھی پریشانی لاحق ہو گئی ہے، وزیراعظم عمران خان نے پہلی تقریر میں قوم کو بتایا تھاکہ ان لوگوں کی سیاست اور کرپشن سے بنائی جائیدادیں داؤ پر ہیں۔

Loading...

نواز شریف کی اے پی سی میں کی گئی تقریر پر اسد عمر کا کہنا تھا کہ یہ کہتے ہیں کہ کبھی الیکشن شفاف نہیں ہوئے، تین دفعہ وہ خود وزیراعظم بنے کیا دھاندلی سے بنے؟ یہ جو معاشی بحران چھوڑ کر گئے، چاہتے ہیں حکومت اسی میں دب جائے، یہ سمجھتے ہیں کہ دھرنا دے کر حکومت کو گرا دیں گے،پاکستان کی 2 فیصد بھی عوام ان کے ساتھ نہیں۔

وزیر خارجہ شاہ محمودقریشی نے کہا کہ نوازشریف نے تقریر میں جس درد کا اظہار کیا وہ جمہوریت کا نہیں اپنی ذات کا تھا۔

انہوں نے کہا کہ آج کے دور کا این آر او نیب کو لپیٹنا ہے اور یہی اپوزیشن کی اصل منزل تھی، یہ لوگ باہر کچھ کہتے ہیں اور کمروں کے اندر کچھ اور یقین دہانیاں دیتے ہیں۔

وفاقی وزیر فواد چوہدری نے کہا کہ ابوبچاؤ کانفرس کا نکتہ یہ تھاکہ فوج اور عدلیہ ساتھ ہو تو اچھی، ساتھ نہ ہو تو بری۔

انہوں نے کہا کہ نوازشریف کس منہ سے کہتے ہیں کہ وزیراعظم استعفیٰ دیں ؟ حکومت بھیک میں نہیں ، عوام کے ووٹوں سے ملی ہے، پاکستان کے عوام نے عمران خان کو وزیراعظم بنایا، عوام کو ہی ہٹانے کا اختیار ہے، لگتا ہے نوازشریف کو بھولنے کی بیماری ہے، وہ جمہوریت کیخلاف ہر سازش میں شامل تھے۔

فواد چوہدری نے کہا کہ نوازشریف نے 96 میں ججوں کو بریف کیس بھیجے،یوسف گیلانی کیخلاف کوٹ پہن کر سپریم کورٹ پہنچے، آج بھی سارا جھگڑا اس کے سوا کچھ نہیں ہے کہ مریم کو بھی لندن جانے دیا جائے۔

(Visited 10 times, 1 visits today)
Loading...
Advertisements

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں