کیا پب جی پر پابندی لگ سکتی ہے؟ ماہر قانون نے بتا دیا

لاہور : عدالت نے بچوں کے پسندیدہ او مشہور زمانہ ویڈیو گیم ‘پب جی’ پر پابندی لگانے سے متعلق پی ٹی اے کو چھ ہفتے میں فیصلے کا حکم دے دیا۔

تفصیلات کے مطابق بچوں میں مقبول ترین ویڈیو گیم ان دنوں پب جی ہے اور نا صرف بچے بلکہ بڑی عمر کے افراد بھی ایڈوینچر سے بھرپور اس گیم کو کھیلتے نظر آتے ہیں لیکن ماہرین کا ماننا ہے کہ اس گیم کے باعث بچوں کی دماغی صحت متاثر ہورہی ہے۔

ویڈیو گیم کھیلنے میں زیادہ وقت صرف کرنے کے باعث بچے اپنے اہل خانہ کے ساتھ وقت نہیں گزار پارہے جس کے باعث لاہور ہائی کورٹ میں پب جی پر پابندی عائد کرنے کےلیے درخواست دائر کی گئی تھی جس پر عدالت نے چھ ہفتوں میں فیصلہ کرنے کا حکم دے دیا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ مذکورہ گیم کو کھیلنے سے بچوں میں قوت فیصلہ ختم ہوتی جارہی ہے اور ان کے دماغ پر بھی منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں جو معاشرے کےلیے بھی ٹھیک نہیں ہیں۔

کرونا وائرس : گوگل اور ٹوئٹر کے نئے فیچرز متعارف

ماہر قانون ایڈوکیٹ بلال ریاض نے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ پب جی گیم کی گرافکس اس طرح سے تیار کی گئیں ہے کہ بچے خود ساختہ طور پر اس کی طرح مائل ہوجاتے ہیں جس کے باعث ان کا رابطہ اپنے اہل خانہ و والدین سے کم ہوجاتا ہے۔

ایڈوکیٹ بلال ریاض کا کہنا تھا کہ اس گیم کا ایک راؤنڈ چالیس منٹ کا ہے اور اگر کوئی کھلاڑی ذرا سی سستی دکھاتا ہے تو اسے گیم سے آؤٹ ہونا پڑتا ہے اسی لیے بچے زیادہ سے زیادہ وقت اس ویڈیو گیم پر گزارتے ہیں تاکہ جیت سکیں تاہم اس وجہ بچوں کے دماغ پر منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں۔

ماہر قانون کا کہنا تھا کہ یہ گیم اس قدر خطرناک ہے کہ لاہور میں ایک بچہ مذکورہ ویڈیو گیم کی وجہ سے خودکشی بھی کرچکا ہے۔

(Visited 19 times, 1 visits today)

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں