چاول کے پانی کے فوائد جانتے ہیں؟

چاول

چاول ہر ایک کی پسندیدہ غذا ہوتی ہے، چاہے یہ بریانی کی شکل میں ہو، پلاﺅ یا سادہ چاول جو دال یا کسی اور سالن کے ساتھ کھائے جائیں مگر کیا آپ کو معلوم ہے کہ چاول پکانے کے لیے انہیں جس پانی میں بھگویا جاتا ہے وہ جلد اور بالوں کے لیے کتنا کارآمد ہوتا ہے؟

درحقیقت چاولوں کے اس بظاہر بیکار پانی سے آپ ایسا بہت کچھ کرسکتے ہیں جس کا آپ نے کبھی تصور بھی نہیں کیا ہوگا، مگر لوگ اسے پھینک دیتے ہیں۔

کرونا وائرس سے صحتیاب ہونے والے کس بیماری کا شکار ہو سکتے ہیں .. ؟

ویسے یہ پانی پینا بھی صحت کے لیے فائدہ مند ثابت ہوتا ہے۔

تو ایسے ہی چند طریقے جانیے جنہیں استعمال کرکے آپ چاول کے پانی سے جادو جیسا کمال کرسکتے ہیں۔

چہرے کی صفائی

چاول کے پانی سے چہرے کی صفائی (کلینزنگ) کرنا بہت آسان ہے، جس کے لیے روئی کو پانی میں بھگو کر نرمی سے کچھ منٹوں کے لیے چہرے پر مالش کریں، اس کے بعد چہرے کو ہوا سے خشک ہونے دیں تاکہ اس پانی میں موجود اجزاء جذب ہوسکیں، اس کو معمول بنانا جلد کو نرم ملائم اور ٹائٹ کرنے میں مدد دیتا ہے۔

کیل مہاسوں سے نجات

چاول کا پانی کیل مہاسوں کو ختم کرنے میں مدد دیتا ہے اور دانوں سے ہونے والی سوزش سے بھی نجات دلاتا ہے۔

loading...

جلد کی سوزش یا چنبل کا علاج

چاول کے پانی میں موجود نشاستہ جلد کی سوزش سے نجات دلانے میں مدد دیتا ہے، ایک صاف کپڑے کو پانی میں بھگوئیں اور متاثرہ حصے پر پھیریں، یہ عمل کئی منٹ تک جاری رکھیں اور پھر ہوا سے خشک ہونے دیں۔

سورج کی روشنی سے ہونے والی جلن

چاول کے پانی سے سورج کی شعاعوں سے ہونے والی جلن سے بھی ریلیف حاصل کیا جاسکتا ہے، یہ اسکن کو جلد ریکور کرکے مزید نقصان سے بچاتی ہے، اس مقصد کے لیے چاول کا ٹھنڈا پانی استعمال کیا جاتا ہے۔

بالوں کو دھوئیں

اپنے بالوں کو چاول کے پانی سے دھونے سے ان کی چمک میں اضافہ ہوتا ہے اور یہ انہیں مضبوط و صحت مند بھی رکھتا ہے۔ شیمپو کے بعد بالوں پر یہ پانی انڈیلیں اور نرمی سے سر اور بالوں کی مالش کریں، جس کے بعد عام پانی سے دھو لیں۔ ہفتے میں ایک سے دو بار یہ عمل دہرائیں۔

ہیئر کنڈیشنر

چاول کا پانی ہیئر کنڈیشنر کے طور پر بھی استعمال کیا جاسکتا ہے، اس میں لیونڈر آئل کے چند قطروں کو شامل کردیں اور پھر اس پانی کو بالوں پر لگائیں، 10 منٹ تک لگا رہنے دیں اور ٹھنڈے پانی سے دھو لیں۔

(Visited 31 times, 1 visits today)

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں