سانحہ بلدیہ فیکٹری کیس: رحمان بھولا اور زبیر چریا کو سزائے موت کا حکم

سانحہ بلدیہ فیکٹری
Loading...

کراچی: انسداد دہشت گردی عدالت نے سانحہ بلدیہ فیکٹری کیس میں رحمان بھولا اور زبیر چریا کو سزائے موت سنادی ہے۔

انسداد دہشت گردی عدالت میں سانحہ بلدیہ فیکٹری کیس کی سماعت ہوئی جس میں رحمان بولا، زبیر چریا اور رؤف صدیقی سمیت دیگر ملزم پیش ہوئے۔ عدالت نے کیس کا محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے رحمان بھولا اور زبیر چریا کو سزائے موت سنائی جب کہ رہنما ایم کیو ایم رؤف صدیقی سمیت 4ملزمان کو عدم شواہد کی بنا پر بری کردیا۔

عدالت نے سانحہ بلدیہ فیکٹری کیس میں دیگر 4 ملزمان علی محمد، ارشد محمود، فضل اور شاہ رُخ کو سہولت کاری کے الزام میں عمر قید کی سزا سنائی جب کہ بری ہونے والوں میں ادیب خانم، علی حسن قادری اور عبد الستار شامل ہیں۔

انسداد دہشت گردی کی عدالت نے 3 سال 7 ماہ بعد کارروائی مکمل ہونے پر 2 ستمبر کو کیس کا فیصلہ محفوظ کیا تھا جو 17 ستمبر کو سنایا جانا تھا تاہم عدالت نے فیصلہ سنائے بغیر سماعت 22 ستمبر تک موخر کردی تھی۔

پولیس نے دوسرا چالان پیش کیا تو مقدمے میں قتل کی دفعہ 302 خارج کرنے کے ساتھ مقدمے کے گواہوں کی تعداد آدھی کر دی گئی، 2014 میں مقدمہ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج نوشابہ قاضی کی عدالت میں منتقل کر دیا گیا۔ فیکٹری مالکان ضمانت کے بعد عدالتی اجازت سے بیرون ملک چلے گئے۔

سال 2015 شروع ہوا تو صوبائی حکومت نے ڈی آئی جی سلطان خواجہ کی سربراہی میں نو رکنی جے آئی ٹی بنا دی، اسی دوران سندھ رینجرز کی ایک رپورٹ نے مقدمہ میں طوفان برپا کر دیا۔

6 فروری 2015 کو رینجرز رپورٹ میں بتایا گیا کہ ناجائز اسلحہ کیس کے ملزم رضوان قریشی نے انکشاف کیا کہ بلدیہ فیکٹری میں آگ لگی نہیں بلکہ لگائی گئی تھی، آگ لگانے والا کوئی اور نہیں بلکہ ایم کیوایم تھی۔ مقدمے کے ایک اور چالان میں ملزمان حماد صدیقی، رحمان بھولا، زبیر عرف چریا کا اضافہ کر دیا گیا۔

loading...

عسکری قیادت سے ملاقات میں پارلیمانی رہنماؤں نے نیب پرخدشات کا اظہار کیا

2016 میں دہشت گردی کی دفعات کے ساتھ مقدمہ انسداد دہشت گردی عدالت منتقل کر دیا گیا۔ حماد صدیقی، رحمان بھولا کے ریڈ وارنٹ جاری ہوئے، ملزم زبیر چریا سعودیہ، رحمن بھولا تھائی لینڈ میں انٹر پول کی مدد سے گرفتار ہوئے، دسمبر 2016 میں پاکستان لایا گیا۔

رحمان بھولا نے عدالت کے سامنے بیان میں کہا کہ 20 کروڑ روپے بھتہ نہ ملنے پر اس نے زبیر چریا کے ذریعے آگ لگوائی، کارروائی حماد صدیقی اور پارٹی قیادت کی ایماء پر کی گئی، ملزم نے یہ بھی کہا معاملہ دبانے کے لئے حماد صدیقی، رﺅف صدیقی نے مالکان سے رقم وصول کی۔

پولیس نے ایک اور چالان میں رﺅف صدیقی کو سہولت کار ملزم ظاہر کیا۔ جے آئی ٹی رپورٹ منظرعام پر آئی تو مقد مے کا ایک اور چالان پیش ہوا، اس میں پولیس نے رﺅف صدیقی کو بے گناہ قرار دے دیا لیکن عدالت نے رپورٹ مسترد کر دی جس پر پولیس نے ایک اور چالان پیش کر کے رﺅف صدیقی کو ملزم بنا دیا۔

رحمن بھولا اور زبیر چریا نے عدالت کے سامنے قیادت کی ایماء پر آگ لگانے کا اعترا ف کیا لیکن جنوری 2019 میں اپنے بیان سے مکر گئے، جبکہ خوف سے کئی وکلاء نے مقدمے کی پیروری چھوڑی دی، عدالتیں تبدیل ہوتی رہیں، گواہ منحرف ہوتے رہے لیکن رینجرز کے سپیشل پبلک پراسیکوٹر ساجد محبوب شیخ مقدمے کی پیروی کرتے رہے۔

استغاثہ نے سات سو اڑسٹھ گواہوں کی فہرست عدالت میں جمع کرائی تھی۔ چارسو گواہوں کے بیانات ریکارڈ کئے، تین سو چونسٹھ گواہوں کے نام نکال دیئے گئے۔ مقدمہ میں رحمان بھولا اور زبیر چریا گرفتار ہیں۔ متحدہ رہنما روف صدیقی، علی محمد ارشد محمود، فضل احمد جان، شاہ رخ لطیف، عمر حسن قادری اور ڈاکٹر عبدالستار ضمانت پر ہیں۔

متحدہ کے حماد صدیقی اور علی حسن قادری مفرور ہیں، مقدمہ میں تاخیر کی وجہ مرکزی ملزم حماد صدیقی کی عدم گرفتاری، جے آئی ٹی رپورٹ پر عمل درآمد نہ ہونے اور ملزموں کے تاخیری حربے رہے۔ المناک سانحے کے مقدمے نے 8 برسوں میں بڑے نشیب وفراز اور رکاوٹوں کو عبور کیا ہے۔

(Visited 21 times, 1 visits today)
Loading...
Advertisements

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں