شبِ معراج اسلامی تاریخ کا اہم ترین واقعہ ہے …!

سورۂ بنی اسرائیل میں شبِ معراج کے بیان کا مفہوم ہے کہ پاک ہے وہ ذات جو لے گیا اپنے بندے کو راتوں رات مسجدِ الحرام سے مسجدِ اقصیٰ تک جس کے اردگرد کو اس نے برکت دی، تاکہ اسے اپنی قدرت کے کچھ نمونے دکھائے۔

حقیقت میں وہی سب کچھ سننے اور دیکھنے والا ہے۔ مذکورہ آیت مبارکہ میں واقعۂ معراج کا بیان ہے جو رسول کریم ﷺ کا خصوصی اعزاز اور امتیازی معجزہ ہے۔ اس شبِ معراج کے دو حصے ہیں پہلا حصہ اسراء کہلاتا ہے جو مسجدِ الحرام سے مسجد اقصیٰ تک سفر ہے۔ یہاں پہنچنے کے بعد نبی کریم ﷺ نے تمام انبیائے کرامؑ کی امامت فرمائی، اس کے بعد بیت المقدس سے ساتوں آسمانوں کو طے کرکے ایسی بارگاہِ قرب تک پہنچے کہ جہاں بشر تو بشر کسی فرشتے کو بھی رسائی نہ ہوسکی۔

سفر کے اس دوسرے حصے کو معراج کہا جاتا ہے۔ معراج کا کچھ تذکرہ سورہ نجم میں بھی آیا ہے۔ اس مقام پر ملائیکہ کے سردار جبرائیل امینؑ نے بھی سدرۃ المنتہیٰ پر پہنچ کر آگے بڑھنے سے معذوری کا اعتراف کیا۔

رجب کی ستائیسویں شب حالت بیداری میں آپؐ کو جبرائیل امینؑ مسجدِ الحرام سے مسجد اقصیٰ تک براق پر لے گئے۔ وہاں آپ ﷺ نے انبیائے کرام علیہ السلام کی امامت فرمائی، پھر وہ آپؐ کو عالم بالا کی طرف لے گئے۔ وہاں مختلف آسمانوں پر مختلف جلیل القدر انبیائے کرامؑ سے آپؐ کی ملاقات ہوئی۔ آپؐ آخر میں سدرۃ المنتہیٰ پہنچ کر اپنے رب کے حضور حاضر ہوئے۔ آپؐ کو جنت و دوزخ کا بھی مشاہدہ کرایا گیا۔

رسول کریم ﷺ کو شب معراج میں اﷲ تعالیٰ نے تین تحفے عطا فرمائے۔جن میں اسلامی عقائد، تکمیل ایمان اور مصائب و آلام و تکالیف کے ختم ہونے کی خوش خبری سنائی گئی۔ یہ بھی خوش خبری سنائی گئی کہ امت رسول کریم ﷺ میں جو شرک سے دُور رہے گا اس کی مغفرت فرمائی جائے گی۔ اور اہل ایمان کو نماز کا عطیہ کیا گیا اور اسے معراج مومن سے تعبیر فرمایا۔

ابتداء میں پچاس نمازیں فرض کی گئیں اور پھر رسالت مآب ﷺ کو یہ خوش خبری بھی سنائی گئی کہ اﷲ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ اے محبوب! ہم اپنی بات بدلتے نہیں، اگرچہ نمازیں تعداد میں پانچ وقت کی ہیں مگر ان کا ثواب دس گنا دیا جائے گا۔ میں آپ کی امّت کو پانچ وقت کی نماز پر پچاس وقت کی نمازوں کا ثواب دوں گا۔

شبِ معراج میں اﷲ تعالیٰ کی قدرت کی عظیم نشانیاں موجود ہیں۔ اس ساری کائنات کا مالک حقیقی اﷲ تعالیٰ ہے۔ جب اﷲ تعالیٰ نے اپنے محبوب پیغمبر ﷺ کو اپنی قدرت کی نشانیاں دکھانے کے لیے بلایا تو اس میں کتنا وقت لگا ہوگا، اس کا اندازہ نہیں کیا جاسکتا۔

اہل ایمان نے اس واقعے کی سچائی کو دل سے مانا اور اس کی تصدیق کی مگر ابوجہل جیسے دشمن اسلام نے اسے جھٹلایا اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ کے پاس دوڑتا ہوا پہنچا اور کہنے لگا: اے ابوبکر! تُونے سنا کہ محمد (ﷺ) کیا کہتے ہیں؟ کیا یہ بات تسلیم کی جاسکتی ہے کہ رات کو وہ بیت المقدس گئے اور آسمانوں کا سفر طے کرکے واپس بھی آگئے۔

حضرت میکائیلؑ اور اسرافیلؑ ….. ایما ن افروز واقعہ…!

حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ فرمانے لگے: اگر میرے آقا ﷺ نے فرمایا تو ضرور سچ فرمایا ہے، کیوں کہ ان کی زبان کبھی جھوٹ سے آلودہ ہی نہیں ہوئی، آپؐ ہمیشہ سے صادق اور امین ہیں۔ میں اپنے نبی ﷺ کی ہر بات پر ایمان لاتا ہوں۔ تو ابوجہل حیرت سے بولا: ابُوبکر! تم ایسی خلاف عقل بات کیوں سچ سمجھتے ہو؟ ابوبکر صدیقؓ نے جواب دیا: میں تو اس سے بھی زیادہ خلاف عقل بات پر یقین رکھتا ہوں۔ (یعنی باری تعالیٰ پر) اسی دن سے حضرت ابوبکر رضی اﷲ عنہ کو دربار نبوت ﷺ سے صدیق کا لقب ملا۔

اﷲ تعالیٰ ہمیں حضور سرور کائنات ﷺ کے اسوۂ حسنہ پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ ہمیں زیادہ سے زیادہ عبادت کرنے اور عبادات میں خلوص پیدا کرنے کی توفیق مرحمت فرمائے۔ آمین

(Visited 161 times, 1 visits today)

Comments

comments

شبِ معراج,

اپنا تبصرہ بھیجیں