کرونا وائرس کے خلاف جنگ میں فوج کیا کردار ادا کر سکتی ہے… ؟

اٹلی، امریکہ اور پاکستان سمیت دنیا کے کئی ممالک میں کورونا وائرس کی عالمی وبا کے دوران مقامی فوج کو مختلف علاقوں میں طلب کر لیا گیا ہے تاکہ اس بیماری کا پھیلاؤ روکا جا سکے۔

فوج کا بنیادی کردار ملک کی حفاظت کرنا، اور ضرورت کے تحت، جنگ میں لڑنا ہوتا ہے۔ لیکن اب فوج کو بڑی تعداد میں کورونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے جنگ کی ایک مختلف مہم میں طلب کیا جا رہا ہے۔ فوجی اہلکاروں کو شہروں میں طلب کرنے کا یہ ایک ایسا رجحان ہے جس کے بارے میں امکان ہے کہ یہ جاری رہے گا۔

فوج سے منسلک روایتی فرائض اب روکے جاچکے ہیں۔ مثلاً برطانیہ میں نئی بھرتیوں کی ٹریننگ رُک گئی ہے۔ نیٹو کی ڈیفینڈر یورپ 20 نامی بین الاقوامی فوجی مشقیں محدود ہوگئی ہیں۔ ان میں گذشتہ برسوں کے دوران امریکی فوجی دستوں کو ایک بڑی تعداد میں یورپ میں تعینات کیا جاتا تھا۔

جاری آپریشنز بھی معطل کر دیے گئے ہیں اور تعینات کیے گئے دستوں کو کم کیا جا رہا ہے۔ اس کے لیے ایک اچھی مثال عراق میں اس بین الاقوامی کوشش کی ہے جس کے تحت مسلح افواج کو ٹریننگ اور مدد فراہم کی جاتی ہے۔

کئی معاشروں میں جب فوج سڑکوں پر آتی ہے تو اسے سیاسی عدم استحکام کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ مختلف ممالک میں الگ سوچ رکھنے والے افراد مسلح افواج کی بڑھتی موجودگی پر مختلف ردعمل دیتے ہیں۔

لیکن مغربی یورپ جیسے ممالک، جنھیں مستحکم جمہوری معاشرہ سمجھا جاتا ہے، میں بھی فوج کی تعیناتی غیر معمولی نہیں۔

کورونا وائرس: وہ پانچ چیزیں جو عالمی وبا کے دوران فوج کر سکتی ہے

سیلاب یا قدرتی آفات پر بری، فضائی اور بحری فوج کا عملہ عام لوگوں کے قریب دیکھا جاتا ہے۔

یورپی یونین کے کئی ممالک میں بھی انتہا پسندی کی وجہ سے پیدا ہونے والے خطرات کے پیش نظر ریلوے سٹیشنز اور عوامی مقامات پر فوج گشت کرتی نظر آتی ہے۔

کچھ نایاب مواقع ایسے بھی ہوتے ہیں جب فوج کی بڑی تعداد تعینات کی جاتی ہے، جیسے امریکہ میں سنہ 2005 کے دوران سمندری طوفان کترینا کی آمد کے بعد وزارت دفاع نے لگ بھگ 70 ہزار فوجی تعینات کیے تھے تاکہ اس سے نمٹنے کی قومی صلاحیت کو بڑھایا جاسکے۔ یہ ایک ایسا وقت تھا کہ جب انتشار پھیلنے پر تنقید کی گئی تھی۔

اس عالمی وبا کے موقع پر تعیناتی کا طریقہ کار مختلف ہوگا۔ برطانیہ میں مسلح افواج کے سربراہ جنرل سر نکولس کارٹر نے کہا ہے کہ یہ ضروری ہے کہ ’اپریل کے وسط تک وہ اجتماعی طور پر متحرک ہونے کی حالت میں ہوں۔‘

فی الحال 20 ہزار فوجیوں کو تیار رکھا گیا ہے۔

تو فوج ایسا کیا کرسکتی ہے؟ یہاں پانچ اہم پہلوؤں کا ذکر کیا گیا ہے کہ کورونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے فوج کس طرح مدد کر سکتی ہے۔

فوج

1: افرادی قوت

مسلح افواج میں ایسے سرگرم اور تربیت یافتہ مرد و خواتین ہوتے ہیں جن میں نظم و ضبط ہوتا ہے اور انھوں نے مختلف ہنر سیکھے ہوتے ہیں۔ یہ ایسے وسائل ہیں جس کی مدد سے کم وقت میں کہیں بھی امدادی عمل شروع کیا جاسکتا ہے۔

ان کے پاس اپنی سہولیات موجود ہوتی ہیں، جیسے فوجی بیس اور ہوائی اڈے۔ ان سہولیات کو آخر کار ایسے کئی کاموں کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

2: طبی امداد

فوج میں محدود تعداد میں ہی لیکن واضح طور پر اعلیٰ تربیت یافتہ طبی عملہ بھی ہوتا ہے۔ چند ممالک میں امریکہ کی طرح مسلح افواج کے پاس کافی وسائل ہوتے ہیں۔ امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون نے اپنے سٹاک میں سے 50 لاکھ ریسپریٹر یا این 95 ماسک اور دو ہزار وینٹی لیٹر نظامِ صحت کو دینے کی منظوری دی ہے۔

امریکی بحریہ اپنے دو ایسے جہازوں کو متحرک کر رہی ہے جنھیں ہسپتال کے طور پر استعمال کیا جاسکتا ہے۔ پانی پر تیرتے اس کے وارڈ انفیکشن کی بیماری کا مقابلہ کرنے کے لیے نہیں بنے لیکن ان کی مدد سے کم از کم دیگر سہولیات پر دباؤ گھٹ جائے گا۔

انھیں تیار کرنے میں کچھ وقت لگے گا اور شاید انھیں صرف بڑے ساحلی شہروں میں تعینات کیا جاسکے گا۔

فوج کی طرف سے فراہم کی جانے والی طبی سہولیات ایک ملک کے مقابلے دوسرے میں کم یا زیادہ ہوسکتی ہیں۔ لمبے عرصے کے دوران مسلح افواج کے بجٹ اور تعداد میں کمی کا مطلب ہے کہ فوجی طبی عملہ اب محفوظ ہے یا شاید وہ پہلے سے ہی صف اول میں سویلین اداروں کے ساتھ کام رہے ہیں۔

loading...
کورونا وائرس: وہ پانچ چیزیں جو عالمی وبا کے دوران فوج کر سکتی ہے

لیکن فوجی دستے وسائل کے طور پر کارآمد ثابت ہوتے ہیں۔ وہ ابتدائی طبی امداد میں تربیت یافتہ ہوتے ہیں جبکہ پیچیدہ طبی عمل میں مدد فراہم کر سکتے ہیں۔

لیکن آخر میں عارضی ’فیلڈ‘ ہسپتالوں کا قیام اور دوسری طبی سہولیات کی فراہمی میڈیکل یونٹس کو خود کرنی ہوگی۔

پاکستان میں اس وقت کتنی وینٹیلیٹر مشینیں موجود ہیں ….؟

3: نقل و حرکت

یہ ایک اہم پہلو ہے جس میں فوجی صلاحیت استعمال کی جاسکتی ہے۔ دستوں کی مدد سے ضروری سامان پہنچایا جا سکتا ہے۔ برطانیہ میں کچھ فوجی دستوں کو ہسپتالوں تک آکسیجن سلنڈر پہنچانے کی تربیت دی گئی ہے۔

فوج وسیع پیمانے پر لاجسٹک کا نظام قائم کرنے میں مدد کر سکتی ہے۔ اس عمل میں فوج کے پاس موجود ذرائع ابلاغ کا نظام کارآمد ثابت ہوسکتا ہے۔

4: داخلی سکیورٹی اور امن و امان بحال رکھنا

یہ امید کی جاتی ہے کہ فوج سے اس کام کی امید نہ رکھی جائے۔ مغربی ممالک میں اکثر حکومتیں سکیورٹی اور امن و امان بحال رکھنے کی ذمہ داری سویلین پولیس کے ہاتھوں میں رکھنا چاہتی ہیں۔

لیکن اگر قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کی تعداد تیزی سے گرتی ہے تو فوج کو ضرورت کے مطابق استعمال کیا جا سکتا ہے۔ جیسے عوام سے براہِ راست رابطوں کے مقابلے میں اہم عمارتوں اور مقامات کی حفاظت کرنا۔

اس سے پولیس سروس اپنا روایتی کردار ادا کرنے کے لیے موجود رہتی ہے۔

واضح طور پر ہر ملک میں اس کی مختلف روایت ہوتی ہے۔ کئی ملکوں میں نیم فوجی دستے یا پولیس فورسز ہوتی ہیں جو دونوں کردار ادا کرتے ہیں۔

امریکہ کی ہر ریاست میں اپنا نیشنل گارڈ ہوتا ہے۔ یہ ایک ایسی فوجی فورس ہے جو ہر وقت تیار ہوتی ہے اور اسے گورنر کی ضرورت کے مطابق تعینات کیا جاسکتا ہے۔

کورونا وائرس: وہ پانچ چیزیں جو عالمی وبا کے دوران فوج کر سکتی ہے

موجودہ حالات میں 27 ریاستوں کے گورنرز نے نیشنل گارڈ کی فورس کو مختلف کرداروں کے لیے تعینات کیا ہوا ہے۔

5: یقین دہانی

حکومت کے لیے یہ ایک اہم اقدام ہوتا ہے کہ فوج کو طلب کیا جائے اور اردگرد ابھرتے ہوئے بحران کی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ اس سے شاید کچھ حد تک یقین دہانی مل سکے کہ ریاست مکمل طور پر اقدامات کر رہی ہے اور تمام وسائل بروئے کار لائے جارہے ہیں۔

تاہم عالمی وبا کا مقابلہ کرنے کے لیے فوج کوئی حل نہیں۔ اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے یہ کچھ مدد فراہم کر سکتی ہے مگر ظاہر ہے انھیں بھی وائرس سے اتنا ہی خطرہ لاحق ہے۔

مثلاً جمعے کو پینٹاگون نے اعلان کیا کہ کورونا وائرس کے خدشات کے پیش نظر یورپ میں تعینات 2600 امریکی فوجی سیلف آئسولیشن یا خود ساختہ تنہائی میں ہیں۔

یہ عالمی وبا اچانک رونما ہوئی ہے۔ ابتدائی طور پر اسے چھپایا گیا، تنبیہ کی علامات کو نظر انداز کیا گیا اور کئی ممالک نے اقدامات اٹھانے میں دیر کی۔ لیکن اب جنگ کی طرح یہ وقت اپنے تمام تر وسائل استعمال کرنے کا ہے۔

کچھ سیاست دان شاید اسے جنگ بنا کر بیان بازی کریں۔ لیکن افواج کو ہر حالت کے لیے تیار رہنا ہوگا۔

برطانوی فوج کے سربراہ جنرل سر نکولس کارٹر نے کہا ہے کہ ’فوج کو جنگ لڑنے کے لیے تیار رہنا ہوگا جو شاید ہمیں ہی لڑنی پڑے گی۔ اور اب واضح ہے کہ یہ مرحلہ آن پہنچا ہے۔‘

بشکریہ بی بی سی اردو

(Visited 131 times, 1 visits today)

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں