کرونا وائرس کی یہ علامات صرف 3 دن میں ظاہر ہوسکتی ہیں۔۔۔۔!

ماہرین نے کرونا وائرس کی مختلف علامات بتائی ہیں لیکن ماہرین کا کہنا تھا کہ کرونا وائرس کی ابتدائی علامات میں نزلہ بخار اور سانس لینے کا عمل متاثر ہونا ہے۔

لیکن امریکہ میں کی جانے والی ایک ریسرچ سے یہ بات ثابت کی گئی ہے کہ صرف نزلہ بخار اور گلا خراب ہونا یہ علامات کرونا وائرس کی ابتدائی علامات نہیں ہیں . بلکہ کرونا وائرس کی ابتدائی علامت سونگھنے کی حس ختم ہونا ہے اور یہ ایک ایسی علامت ہے جو تیسرے دن ہی ظاہر ہو جاتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس علامت کے ذریعہ ہم آسانی سے کرونا کے مریضوں کی شناخت کر سکتے ہیں اور بروقت ان کا علاج شروع کیا جا سکتا ہے ماہرین نے مارچ کے مہینے میں یہ بات ثابت کی تھی کہ کرونا وائرس سے مریض کی چکنے اور سونگھنے کی حس متاثر ہوجاتی ہے لیکن اس وقت ماہرین نے اس کو کرونا وائرس کی ابتدائی علامت قرار نہیں دیا تھا

گزشتہ تحقیقات میں ماہرین نے یہی کہا تھا کہ کرونا وائرس سے متاثرہ شخص کو سب سے پہلے بخار اور نزلہ زکام ہوتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سونگھنے کی حس کا اچانک متاثر ہونے اور کرونا وائرس کے درمیان جو تعلق موجود ہے لوگوں کو اس کے بارے میں آگاہ کرنا بہت ضروری ہے۔

کرونا وائرس سے صحتیاب ہونے والے کس بیماری کا شکار ہو سکتے ہیں .. ؟

اگر کسی شخص کی اچانک سونگھنے اور چکھنے کی حس متاثر ہوتی ہے تو ہم یہ معلوم کر سکتے ہیں کہ یہ کرونا وائرس کا پہلا ہفتہ ہے آنے والے دنوں میں اس کی شدت میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

تحقیق کے اس عمل میں ماہرین نے تقریبا 103 مریضوں کا جائزہ اور ان تمام مریضوں سے معلومات اکٹھی ہیں کے کرونا وائرس کی علامات ظاہر ہونے میں کتنے دن لگے اور ان کی سونگھنے اور چکھنے کی حس کتنے دن میں متاثر ہوئے ان مریضوں میں سے 65 فیصد مریضوں نے کہا سب سے پہلے ان کی سونگھنے اور چکھنے کی حس میں کمی ہوئی اس کے بعد کرونا وائرس کی باقی علامات ظاہر ہونا شروع ہوئی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ لوگوں کو چاہیے کہ اگر ان کی سونگھنے اور چکھنے کی حس تھوڑی سی بھی متاثر محسوس ہو تو فوری اپنا ٹیسٹ کروائیں تاکہ کسی بڑے نقصان سے بچ سکیں

(Visited 44 times, 1 visits today)

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں