ہیٹ اسٹروک سے کیسے محفوظ رہا جائے ….؟

محکمہ موسمیات

پاکستان میں گرمی اپنے جوبن پر ہے اور ماحول گرم تندور کی طرح تپ رہا ہے ۔اس صورتحال میںہیٹ اسٹروک یا لوکا لگنا انسانی صحت کے لیے بڑا خطرہ ہے۔

لو کے لگنے کو ہیٹ اسٹروک ،سن سٹروک ،تھرمک بخار، یا سیر یاسس بھی کہا جاسکتا ہے۔ یہ اس وقت ہوتا ہے جب جسم کے درجہ حرارت پر قابو پانے کی تدابیر  ناکام ہوجاتی ہیں۔ ہیٹ اسٹروک ایک جان لیوا کیفیت ہوتی ہے جس کے فوری علاج کی ضرورت ہوتی ہے۔اگرچہ بہت سے لوگ گرمی کی لہروں کے دوران بیمار یا بے ہوش ہوسکتے ہیں، ان میں سے بیشتر افراد گرمی کی وجہ سے تھکن کا شکار ہوتے ہیں(Heat exhaustion)، عام طور پر کم سنگین حالت ہوتی ہے۔

ہیٹ اسٹروک کی دو اقسام ہیں:

(1) کلاسک، نان ایکسٹرنل ہیٹ اسٹروک (NEHA)  (2) ایکسٹرنل ہیٹ اسٹروک(EHS) ۔کلاسک ہیٹ اسٹروک زیادہ تر ان نوجوانوں یا بوڑھے لوگوں میں ہوتا ہے جن کی صحت کوخطرہ ہوتا ہے اور ان کی ٹھنڈے ماحول یا ایئر کنڈیشننگ تک محدود رسائی ہوتی ہے۔ غیر معمولی گرمی کا جھٹکا اچانک ہوتا ہے جو زیادہ تر نوجوان صحت مند افراد کے لیے جو سخت جسمانی سرگرمی میں حصہ لیتے ہیں،مضر صحت ہوتا ہے۔

ہیٹ اسٹروک کے اسباب

گرمی کی حالت یا موسم میں مناسب مقدار میں پانی پئیے بغیر کام یا ورزش کرنا ہیٹ اسٹروک کا بنیادی سبب بنتا ہے۔ پانی جسم  پر پسینہ پیدا کرکے ہمیں ٹھنڈا کرنے میں مدد دیتا ہے تاہم بلڈپریشرکو متوازن رکھنے کے لئے اور جسمانی افعال کے لئے مائعات و دیگر مشروبات بھی ضروری ہیں۔ ہیٹ اسٹروک میں پسینے کی شکل میںجسمانی رطوبت کا نکلنا بند ہوجاتا ہے جس کے بعد آپ بڑی مقدار میں جسمانی رطوبت سے محروم ہوسکتے ہیں، اس سے جسم کا بنیادی درجہ حرارت بڑھ جاتا ہے اور خلیات مرنا شروع ہوجاتے ہیں۔

خشک موسم میں پسینہ زیادہ تیزی سے بخارات بنتا ہے جبکہ مرطوب موسم جسم کو زیادہ مؤثر طریقہ سے ٹھنڈا کرتا ہے۔ مرطوب موسم میں کام کرتے وقت بنیادی درجہ حرارت زیادہ تیزی سے بڑھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ موسم کی پیشن گوئی، نمی عنصر یا حرارت کا اشارہ دیتی ہے تاکہ آپ اپنے جسم کو محفوظ رکھ سکیں۔

یوں تو ہیٹ اسٹروک سے ہر عمر کے افراد متاثر ہوسکتے ہیںلیکن چند افراد  زیادہ خطرہ میں ہوتے ہیں۔مثال کے طور پر

1۔شراب نوشی کرنے والے ، 2۔دل کی بیماری جیسی دائمی بیماریوں والے، 3۔موٹے افراد، 4۔بڑی عمر کے لوگ، 5۔پارکنسنز (Parkinson’s Disease)کے مریض، 6۔بے قابوشوگر والے، 7۔بعض ادویہ مثلاًپیشاب آور اینٹی ہسٹامائنز کا استعمال کرنے والے، 8۔ بعض نفسیاتی دوائیوں جیسے کوکین کا استعمال کرنے والے، 9۔ بھاری لباس اورچست لباس پہننے والے۔

علامات اور پیچیدگیاں

ہیٹ اسٹروک سے ہونے والی علامات گرمی کی تھکن(Heat Exaution) سے مختلف ہیں۔ یاد رکھیں کہ گرمی کی تھکن (Heat exhaustion)کا علاج نہ کیاجائے تویہ ہیٹ اسٹروک کا باعث بن سکتا ہے۔

ٹائی فائیڈ کیوں ہوتا ہے؟

گرمی کی تھکن (Heat exhaustion) کی علامات

1۔جسمانی درجہ حرارت میں 104F, 40C تک اضافہ،  2۔ٹھنڈی ، ہلکی ذرد، نرم ومرطوب جلد، 3۔پٹھوں کا درد، 4۔سردرد، 5۔متلی یا الٹی، 6۔تھکاوٹ اور کمزوری، 7۔چکر آنا یا ہلکا سرہونا، 8۔ممکنہ بے ہوشی لیکن پیاس بجھانے سے ہوش میں آجانا،

ہیٹ اسٹروک یا لولگنے کی علامات

1۔کنفیوژن، 2 ۔رویہ میں تبدیلی، 3۔شدید جسمانی کمزوری، 4۔شدید بخار، 5۔درجہ حرارت 40C (104F)سے زیادہ، 6۔گرم ،سرخ ، خشک جلد، 7 ۔تیز نبض، 8 ۔تیز سانس لینا، 9 ۔سردرد

ہیٹ اسٹروک کا سب سے بڑا نقصان جسم کا زیادہ درجہ حرارت ہوتا ہے جس سے جسم کے تمام نظام اور اعضاء خصوصاً دماغ کو ہوسکتا ہے۔ بلڈ پریشر یا خون کا دباؤ کم ہوسکتا ہے۔ زیادہ تر لوگ جو لو لگنے سے ہلاک ہوجاتے ہیں۔اس کی بنیادی وجہ ان کے دل مؤثر طریقے سے پمپ کرنا چھوڑ دینا ہے (دوران خون کی خرابی)۔اس کے علاوہ جو لوگ اس کا شکار ہوتے ہیں۔ ان کے دماغ کو مستقل نقصان ہونے کا خدشہ ہوتا ہے۔ اگر جسم کا بنیادی درجہ حرارت ایک یا دو گھنٹے سے زیادہ دورانیے کے لیے 40.6C (105f) سے زیادہ رہا ہو۔

تشخیص کرنا

جسم کے زیادہ درجہ حرارت اور علامات کو دیکھ کر اور اس شخص کی حالیہ سرگرمیوں کے بارے میں معلوم کرکے ہیٹ اسٹروک کی بہ آسانی تشخیص کی جاسکتی ہے۔

علاج اور روک تھام

ہیٹ اسٹروک میڈیکل ایمرجنسی ہے۔ مذکورہ بالا علامات کی شناخت کرنا اور مناسب کاروائی کرنا سیکھیں۔ ہیٹ اسٹروک سے متاثرہ شخص کے علاج کے لیے پہلا بنیادی قدم درجہ حرارت کو قابومیں رکھنا ہے۔

اگر آپ کو شک ہے کہ کسی کو ہیٹ اسٹروک ہے تو فوراً اس کا علاج شروع کریں جبکہ کوئی دوسرا 1122 پر کال کرے۔ ہیٹ اسٹروک کے شکار افراد کو فوری طور پر ٹھنڈا کرنے کے لیے سب کچھ کرنا چاہئیے۔ اس کا سب سے مؤثر طریقہ یہ ہے کہ انہیں دھوپ اور گرمی سے نکالیں اور جسم کو ٹھنڈے پانی، جیسے باتھ ٹب، نہر یا ندی میں اچھی طرح بھگوئیں۔مدد پہنچنے تک ہیٹ اسٹروک کے شکار فرد کا درجہ حرارت نارمل کرنے کی بھرپورکوشش کریں، پنکھا وغیرہ لگاکر ہوادیں۔ آپ ان کے بیشتر کپڑے بھی ہٹاسکتے ہیں اور آئس، پانی کے تولیوں یا پٹیوں کو گردن، بغلوں اور سر پر لگاسکتے ہیں۔

اگر ہیٹ اسٹروک کا شکار فرد کانپنے لگے تو ٹھنڈک کے علاج کو سست کردیں کیونکہ کانپنے سے بنیادی درجہ حرارت بڑھتا ہے۔ اگر آپ کے پاس تھرمامیٹر ہے تو ہر10 منٹ بعد اس شخص کا درجہ حرارت لیں۔آپ کو تقریباً39C (102F)کے بنیادی درجہ حرارت کا ہدف رکھنا چاہیے کیونکہ بہت کم درجہ حرارت سے جسم ہائپوتھرمیاکی سمت بڑھ سکتا ہے۔ سانس کی بندش (سانس لینے میں ناکامی) کی علامات کو دیکھیں اور اگر ضرورت ہوتو منہ سے مصنوعی سانس دینے کے لیے تیار رہیں۔

گرمی کی تھکن (Heat exhaustion)کے شکار کو بھی ٹھنڈی جگہ پر رکھنا چاہئیے اور انہیں لِٹا دیں اور وقفے وقفے سے پینے کے لئے پانی یا مشروبات دیں۔سپورٹس ڈرنک بہترین ہیں لیکن پانی زیادہ آسانی سے دستیاب ہوتا ہے۔ ٹھنڈے پانی سے سپنج یا پٹیاں کریں اور غیر ضروری لباس کو ہٹادیں۔ مریض کی علامات پر نظر رکھیں عموماً گرمی کے تھکے ہوئے (Heat exhaustion) کے متاثرین کو اسپتال جانے کی ضرورت نہیں ہوتی ۔ علامات 2سے 3 گھنٹے میں کم ہوجائیں گی۔

ان پریشانیوں سے بچنے کاطریقہ یہ ہے کہ گرمی کی لہروں کے دوران بہت زیادہ مقدار میں پانی یا مشروبات کا استعمال کرنا چاہئیے بالخصوص جب آپ باہر کام کرنے یا ورزش کرنے کا سوچ رہے ہیں۔ اگر آپ ورزش کررہے ہیں تو آپ کو سرگرمی سیتین گھنٹے پہلے تقریباً دو سے چار گلاس پانی کا استعمال کرنا چاہئیے۔ سرگرمی ختم ہونے کے بعد جسم سے پسینہ جاری رہتا ہے لہٰذا ورزش کے بعد کئی گھنٹوں تک پانی کا استعمال جاری رکھنا ضروری ہے۔ بعض ماہرین اس وقت تک جاری رکھنے کا مشورہ دیتے ہیں جب تک کہ پیشاب کا رنگ ہلکا نہ ہوجائے۔اگر آپ انتہائی گرم ماحول میں کام کررہے ہیں تو ہر گھنٹہ بعد پانی پئیں۔ ہیٹ اسٹروک سے بچنے کا یہی بہترین طریقہ ہے اور  پیاس لگنا پانی کی کمی کا ایک واضح اشارہ ہے۔

دن کے سب سے گرم اوقات (صبح 10 بجے سے شام 3 بجے تک) گرمیوں میں بیرونی بھاری سرگرمیوں سے گریز کریں۔اگر ممکن ہوتو دھوپ سے دور رہیں۔اگر آپ کو گرم ماحول میں رہنے کی مجبوری ہے تو ہر گھنٹہ کے دوران 10 سے 20 منٹ کاوقفہ کریں اور کسی سایہ دارجگہ یا ٹھنڈی جگہ پر قیام کریں۔ڈھیلے اور ہلکے رنگ کے کپڑے پہنیں کیونکہ ہلکے رنگ زیادہ سورج کی روشنی کو زیادہ منعکس کرتے ہیں ۔دن کے سب سے زیادہ گرم حصے کے دوران سائے میں آرام کریں۔کافی اور شراب سے بچیں ۔

گرمی کے سخت موسم میں کبھی اپنی کار یا گاڑی کو دھوپ میں پارک نہ کریںخاص کر جب اس کے اندر افراد خصوصاً بچے ہوں۔ جب ہم گاڑی کو دھوپ میں پارک کرتے ہیں، گاڑی کا درجہ حرارت صرف دس منٹ کے اندر ہی  20ڈگری سینٹی گریڈ تک بڑھ سکتا ہے اور اس سے بچوں کی اموات ریکارڈ پر موجود ہیں۔ اسی لیے کسی بھی بچے کودھوپ میں پارک کی گئی گاڑی میں مت بٹھائیں اور گاڑی کو اچھی طرح لاک کردیں تاکہ کوئی بچہ اس میں داخل نہ ہو۔

(Visited 17 times, 1 visits today)

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں

%d bloggers like this: