میل جول رکھنے والے لوگوں کے متعلق ماہرین کے حیران کن انکشافات

میل جول
Loading...

امریکن ماہرین نے اس بات کا انکشاف کیا ہے کہ جو لوگ سماجی سرگرمیوں میں آگے آگے ہوتے ہیں اور بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں اور ان کو دوسرے سے میل جول رکھنا پسند ہوتا ہے ان لوگوں کا دماغ بڑھاپے میں بھی صحت مند رہتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ انہوں نے اس ریسرچ میں 300 سے زائد بزرگوں کا مطالعہ کیا اور ان بزرگ افراد کی عمر تھی 80 سال سے زائد تھی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ہم نے تحقیق سے یہ جاننے کی کوشش کی کہ ان بزرگ افراد کا دماغ کتنا صحت مند ہے ؟

یہ بات جانے کے لیے ماہرین نے حساس دماغی آلات کا استعمال کیا۔ آلات کی مدد سے تمام رضاکار بزرگوں کے اُن دماغی حصوں کا جائزہ لیا جن کا براہِ راست تعلق یادداشت اور تجزیئے سے ہوتا ہے۔

ان دماغی حصوں کو مجموعی طور پر Grey Matter کہا جاتا ہے جبکہ خود سرمئی مادے میں اہم اعصابی خلیات اور دوسرا حفاظتی مواد شامل ہوتے ہیں۔

ان بزرگوں کے دماغی مطالعے کے بعد ماہرین کو یہ معلوم ہوا کہ جو بزرگ افراد سماجی طور پر زیادہ سرگرم تھے اور ملنسار تھے ان میں سرمئی مادے دوسرے لوگوں کی نسبت زیادہ بہتر تھا اور ان میں فعال اعصابی خلیات بھی زیادہ تھے۔

Loading...

اس کے برعکس جو لوگ میل جول سے پرہیز کرتے تھے ان کی دماغی حالت کمزور تھی اور ان کے اعصابی خلیات کی تعداد بھی کافی کم تھی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ویسے تو دماغی خلیات انسان کی عمر کے ساتھ ساتھ کم ہوتے جاتے ہیں اور بڑھاپے میں یہ تیزی سے ختم ہونا شروع ہو جاتے ہیں اور یہ بڑھاپے میں انسان میں دماغی امراض کی شکل میں ظاہر ہوتے ہیں۔ اسی طرح سے بعض مریضوں کو بڑھاپے میں فالج کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

منفی سوچ رکھنے والے لوگوں کے متعلق بری خبر آگئی…..!

اس کے علاوہ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر بڑھاپے میں آپ کا صرف ایک دوست ہے جس کے ساتھ آپ وقت گزارنا پسند کرتے ہیں اور اس کو اپنی خوشی اور غم میں شریک کرتے ہیں تو اس سے آپ کی دماغی صحت پر بہت اچھا اثر پڑتا ہے۔

ماہرین نے یہ بھی کہا کہ اس ریسرچ میں ہمارا مطالعہ محدود ہے اور حاصل شدہ نتائج کو ہم حتمی نتائج نہیں کہہ سکتے لیکن ہماری رائے یہ ہے کہ جو لوگ میل جول ہیں اور سماجی طور پر سرگرم رہتے ہیں اور ان کی صحت بڑھاپے میں بھی اچھی ہوتی ہے۔

(Visited 48 times, 1 visits today)
Loading...
Advertisements

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں