کرونا وائرس کی نئی قسم کے حوالے سے خوفناک پیش گوئی

سان فرانسسکو: سائنسدانوں نے انکشاف کیا ہے کہ کورونا سے زیادہ متعدی وائرس کی لہر سامنے آئی ہے، دنیا بھر میں اس کا اثر و رسوخ زیادہ بڑھ گیا ہے۔

اس حوالے سے لاس اینجلس ٹائمز نے بایو آرکسیو پر شائع ہونے والی 33 صفحات پر مشتمل ایک نئی تحقیق کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ یہ نئی لہر رواں سال فروری میں یورپ میں پہلی بار سامنے آئی، پھر یہ تیزی سے ہجرت کرکے مشرقی ساحل کی جانب چلی گئی۔

سائنس دانوں نے کہنا ہے کہ یہ نئی کشیدہ صورتحال اب پوری دنیا میں غالب ہے اور مارچ کے وسط سے اسی طرح سے چل رہی ہے۔ لاس الاموس ریسرچ لیبارٹری کے سائنسدانوں کی رپورٹ کے مطابق انہوں نے متنبہ کیا ہے کہ یہ نئی لہر تیزی سے پھیلتی ہے اور اس بیماری سے متاثر ہونے والے پہلے چکر کے بعد لوگوں کو دوسرے انفیکشن کا خطرہ بن سکتا ہے۔

کرونا وائرس کے نئے علاج کے تجربات کا آغاز

یہ وائرس ان لوگوں پر بہت تیزی سے اثر انداز ہورہا ہے جو اس سے قبل کورونا وائرس سے متاثر ہوئے ہیں، خبر کے مطابق یہ مطالعہ حال ہی میں سائنس دانوں کے ساتھ اشتراک عمل کو تیز کرنے کی کوشش میں شائع کیا گیا ہے جو کوویڈ 19کے ویکسین یا علاج پر کام کر رہے ہیں۔

سائنس دانوں کا مزید کہنا ہے کہ کورونا وائرس کے لئے ایک ویکسین ایک سال یا اس سے زیادہ عرصے تک تیار کرلی جائے گی۔

(Visited 28 times, 1 visits today)
loading...

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں