قربانی کرنے کی اہمیت و فضیلت…… !

قربانی کرنے کی اہمیت
Loading...

 قربانی ایک اہم عبادت اور شعائر اسلام میں سے ہے۔ یہ عبادت صرف اس امت میں نہیں بلکہ پہلے امتوں میں بھی رائج تھی، جس طرح اﷲ تعالی کا ارشاد ہے:”ہم نے ہر امت کیلئے قربانی مقرر کی تاکہ وہ چوپائیوں کے مخصوص جانوروں پر اﷲ تعالی کا نام لیں جو اﷲ تعالی نے عطا فرمائے ”(سورۃ حج34)

ایک اور جگہ قربانی کرنے کی اہمیت واضح کرنے کے لیے اﷲ تعالی نے آدم علیہ السلام کے دو بیٹوں کا قصہ ذکر فرمایا ہے کہ جب ہابیل اور قابیل نے قربانی کی تو ہابیل کی قربانی قبول ہوئی اور قابیل کی نہیں۔۔۔اسی طرح سورۃ کوثر میں بھی اﷲ رب العزت نیقربانی کا وجوب ذکر فرمایا:” آپ اپنے رب کی نماز پڑھیں اور قربانی کریں”۔

اس کے علاوہ احادیثِ مبارکہ میں بھی قربانی کرنے کی اہمیت بیان کی ہے، رسول اﷲ ﷺ کا فرمان ہے ”جو شخص استطاعت رکھنے (صاحب نصاب ہو)کے باوجود قربانی نہیں کرتا وہ ہماری عید گاہ کے قریب بھی نہ بھٹکے”۔نبی ﷺ نے بڑی تاکید فرمائی ہے کہ جس کی طاقت ہو یعنی صاحب نصاب ہو تو اس کے لئے ضروری ہے کہ قربانی کرے ورنہ پھر ہماری عید گاہ نہ آئے۔ بہت بڑی وعید ہے۔رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ و سلم نے مدینہ منورہ کے دس سالہ قیام میں ہر سال قربانی فر مائی ہے اس بڑی ثبوت اور کیا ہوسکتی ہے۔

قربانی کی فضیلت: حضرت عائشہ رضی اﷲ عنھا سے روایت ہے کہ رسول اﷲ ﷺنے ارشاد فرمایا: ”اﷲ تعالی کے نزدیک قربانی کے دن بندہ کے تمام اعمال میں پسندیدہ ترین عمل جانوروں کا خون بہاناہے اس قیامت کیدن اپنی قربانی کے سینگوں،بالوں اور کھروں سمیت حاضر ہو گا اور قربانی کا خون زمین پر گرنے سے پہلے پہلے اﷲ تعالی کی بارگاہ میں شرفِ قبول حاصل کرلیتا ہے، لہٰذا تمہیں چاہے کہ خوش دلی سے قربانی کرو”۔

حضرت زید بن ارقمؓ سے روایت ہیکہ رسول اﷲ ﷺ کے صحابہ ؓ نے سوال کیا: یارسول اﷲ! یہ قربانی کرنے کی اہمیت کیا ہے؟(یعنی قربانی کی حیثیت کیا ہے؟)آپ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہارے باپ ابراہیم علیہ السلام کی سنت اور طریقہ ہے۔ صحابہ ؓ نے عرض کیا کہ ہمیں اس قربانی کے کرنے میں کیا ملے گا؟ فرمایا: ہر بال کے بدلے میں ایک نیکی ملیگی۔صحابہ ؓ نے(پھر سوال کیا)یارسول اﷲ!اون (کے بدلے میں کیا ملے گا؟)فرمایا: اون کے ہر بال کے بدلے میں ایک نیکی ملے گی۔

سبحان اﷲ کتنی بڑی فضیلت ہر بال کے بدلے میں نیکی، پھر جانوروں کے بال جس کی کوئی حد نہیں، صرف اس پر بھی بس نہیں بلکہ ایک اور روایت میں فرمایا: قربانی کیا کرو اور اس کے ذریعے اپنے آپ کو پاک کیا کرو اس لئے کہ جب مسلمان اپنی قربانی کا روخ(ذبح کرتے وقت)قبلہ کی طرف کرتاہے تو اس کا خون، گوبر اور اون قیامت کے دن میزان میں نیکیوں کی شکل میں حاضر کیے جائیں گے۔

ان فضائل کو مدنظر رکھتے ہوئے حضرت تھانوی ؒفرماتے ہے:جس پر قربانی واجب نہي ں ان کو قربانی کرنی چاہیے تاکہ وہ بھی اس فضیلت میں شامل جائے۔
بعض لوگ کو یہ شبہ ہوتا ہے کہ قربانی کرنے کے بجائے اگر ان پیسوں کو فقراء ومساکین کو دی جائے یا کسی اور رفاہی کاموں میں خرچ کیا جائے توجہ یہ زیادہ اچھا ہیاور اس سے زیادہ ثواب ملیگا؟؟

فقراء ومساکین پر خرچ کرنا وہ اپنی جگہ کارخیر ہے اس سے انکار نہیں لیکن قربانی اپنی طور پر مستقبل ایک عبادت ہے۔ خود نبی ﷺ نے دس سالہ مدنی دور میں قربانی فرمائیں ہیاور طاقت کے باوجود نہ کرنے والوں پرسخت وعید بیان فرمایا ہے۔کیا نبی علیہ السلام کے زمانہ میں یہ فقراء ومساکین نہیں تھے؟؟ ضرور تھے بلکہ اس سے زیادہ تھے اس کے باوجود نبی علیہ السلام نے یہ نہیں فرمایا کہ آپ استطاعت کیساتھ قربانی چھوڑو اور فقراء ومساکین کی امداد کرو۔

loading...

کیا فلاحی کام قربانی کا متبادل ہوسکتے ہیں؟

حضرت شیخ السلام مفتی محمد تقی عثمانی نے ایک بات عرض کی ہے جو آب زرسے لکھنے کی قابل ہے۔حضرت فرماتے ہیں:”اپنا شوق پورا کرنیکا نام دین نہیں، بلکہ اﷲ اور اﷲ کے رسول ﷺ کی اتباع کا نام دین ہے، یہ دیکھو کہ اﷲ اور اﷲ کے رسول ﷺکی طرف سے اس وقت کا کیا تقاضہ ہے؟ بس! اس تقاضے کو پورا کرو،اس کانام دین ہے، اس کا نام دین نہیں، کہ مجھے فلاں چیز کا شوق ہوگیا، اس شوق کو پورا کررہاہوں، مثلاً کسی کو اس بات کا شوق ہوگیا، کہ میں ہمیشہ صف اول میں نماز پڑھوں، کسی کو اس بات کا شوق ہوگیا، کہ میں جہاد پرجاؤں، کسی کو اس بات کاشوق ہوگیا، تبلیغ ودعوت کے کام میں نکلوں،

اگرچہ یہ سب کام دین کے کام ہیں اور باعثِ اجروثواب ہیں، لیکن یہ دیکھو کہ اس وقت کا تقاضہ کیا؟ مثلاً گھر کے اندر والدین بیمار ہیں اور انہیں تمہاری خدمت کی ضرورت ہے، لیکن تمہیں تو اس بات کا شوق لگا ہوا ہے، کہ صف ِ اول میں جاکر جماعت سے نماز پڑھوں اور والدین اتنے بیمار ہیں، کہ حرکت کرنے کے قابل نہي ں،اب اس وقت میں تمہارے اﷲ کی طرف سے تقاضہ یہ ہے، کہ صف ِ اول کی نماز کو چھوڑو اور والدین کی خدمت انجام دو اور ان کے ساتھ حسین سلوک کرو اور نماز گھر کے اندر تنہا پڑھ لو ”۔

ادھر بھی وقت کا تقاضہ یہ کہ قربانی کرو اور اﷲ کیرسولﷺ نے یہ حکم دی کہ صاحب استطاعت قربانی کرے، لہٰذا ہمیں چاہیے کہ اس کو عظیم عبادت اور نبی علیہ السلام کی اتباع سمجھ کر کریں۔

نیت صحیح ہوناچاہیے: اگر کسی کی نیت یہ ہو کہ گوشت مل جائے گی،یا اگر ہم قربانی نہ کرے تو لوگ ہمیں تعنہ دیں گے تو یہ قربانی اﷲ کی دربار میں قبول نہیں۔کیونکہ اﷲ تعالی کو نہ گوشت کی ضرورت ہے اور نہ خون کی بلکہ وہ صرف تقویٰ کو دیکھتے ہیں، جس طرح سورہ حج میں اﷲ تعالی نے فرمایا:”اﷲ کو نہیں پہنچتا ان کا گوشت اور ان کا لہو لیکن اس کو پہنچتا ہے تمہارے دل کی تقویٰ ”۔ اصل میں اخلاص ضروری کہ کیونکہ مقصود اﷲ کی رضا ہے۔
شرائط وجوب قربانی: –۱-مسلمان ہونا، غیر مسلم پر قربانی نہي ں۔ –۲-مقیم ہونا، مسافر پر قربانی نہیں۔ –۳-آزاد ہونا، غلام پر قربانی واجب نہیں۔ –۴-بالغ ہونا، نابالغ پر قربانی واجب نہیں۔
–۵-عاقل ہونا، مجنون پر قربانی واجب نہیں۔ –۶-صاحب نصاب ہونا، مسکین اور فقیر پرقربانی واجب نہیں۔

گوشت کی تقسیم: اگر بڑے جانور میں کئی شرکاء ہیں تو ان کے لئے ضروری ہے کہ گوشت آپس میں بہت احتیاط کے ساتھ وزن کر کے تقسیم کریں۔اندازہ سے تقسیم کرنا جائز نہیں کیونکہ اس میں کمی بیشی آسکتی ہیں جو سود اور گناہ ہے، ہاں اگر گھر کے افراد آپس میں مل کر قربانی کرنا چاہے تو ان کیلیے تقسیم کرنا ضروری نہیں۔

جب قربانی کا گوشت آپ کے حصے میں آئی تو افضل یہ ہیکہ ایک حصہ اپنے اہل وعیال کیلئے رکھے، ایک حصہ اقارب واحباب میں تقسیم کرے، ایک حصہ فقراء میں تقسیم کرے۔ اگر کسی شخص کے اہل وعیال زیادہ ہو تو تمام گوشت خود بھی رکھ سکتا ہے، یہ است حباب کے خلاف نہیں۔تین حصے بنانا صرف مستحب ہے کوئی فرض یاواجب نہیں۔اﷲ تعالی سب مسلمانوں کو اس کار ِ خیر کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

تحریر:مولاناعبدالوحید شانگلوی

(Visited 62 times, 1 visits today)
Loading...
Advertisements

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں