وزیر اعظم عمران خان کو “سال کی بہترین شخصیت” کا خطاب ملنے کی پرانی خبر پر “سرکاری جشن”

فٹیف
Loading...

پی ٹی وی اور ریڈیو پاکستان ہوں یا حکمران جماعت کے رہنماؤں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ، جہاں نظر دوڑائیں “دی مسلم 500” کے 11ویں شمارے میں وزیرِ اعظم عمران خان کو بہترین شخصیت کا خطاب دیے جانے پر جشن کا سماں ہے۔
بظاہر ایسا تاثر دیا جا رہا ہے کہ جیسے دنیا کے 500 بااثر مسلمانوں کی فہرست میں عمران خان کی شمولیت نے پاکستان کی سب مشکلات جھٹ سے ختم کر دی ہیں۔
“دی مسلم 500” کی یہ فہرست پہلی بار گذشتہ برس اکتوبر سامنے آئی تھی جب اردن کے دی رائل اسلامک سٹریٹجک سٹڈیز سینٹر نے ’دی مسلم 500‘ کے گیارہویں شمارے میں وزیراعظم عمران خان کو “مین آف دی ایئر” یا سال 2020 کی بہترین شخصیت کا خطاب دیا تھا۔

اور تو اور، اس وقت حکمران جماعت کے آفیشل ٹوئٹر اکاؤنٹ سے بھی یہ خبر شیئر کی گئی تھی۔

گذشتہ روز پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنماؤں اور حکمران جماعت کے سرکاری ٹوئٹر ہینڈل سے یہ خبر دوبارہ شئیر کی گئی، جس کے بعد یہ اتنا پھیلی کہ ٹویٹر پر #PMIKMuslimManOfYear اور “The Muslim 500” رات گئے تک ٹرینڈ کرتے رہے۔

2050 تک شہری آبادی کا تناسب کتنا بڑھ جائے گا …؟

ان دونوں ٹرینڈز میں مجموعی طور پر اب تک تقریباً 60 ہزار سے زائد ٹویٹس کی جا چکی ہیں۔

وزیرِ اعظم عمران خان ان کو سنہ 2018 میں اقتدار میں آنے کے بعد انڈیا کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کی بہتری کی پیشکش، تنازعات کے پر امن حل اور امن و امان کے قیام کے حوالہ سے کیے گئے اقدامات کی وجہ سے سال کی بہترین شخصیت قرار دیا گیا تھا۔

Loading...

“دی مسلم 500” میگزین میں دنیا بھر سے ہر سال 500 انتہائی بااثر مسلمان شخصیات کی فہرست شائع کی جاتی ہے۔ اس سلسلے میں میگزین کی پہلی اشاعت سنہ 2009 میں ہوئی تھی۔

اس فہرست کو اردن میں رائل اسلامی اسٹریٹجک اسٹڈیز سنٹر کی جانب سے مرتب کیا جاتا ہے اور امریکہ کی جارج ٹاؤن یونیورسٹی میں مسلمانوں اور مسیحیوں کے درمیان مفاہمت کے لیے الولید بن طلال سنٹر کے تعاون سے بنائے گئے ادارے کی جانب سے جاری کی جاتی ہے۔

اس فہرست میں ایسے مسلمانوں کو شامل کیا جاتا ہے جو انتہائی بااثر ہیں، یعنی وہ افراد جن کے اثر و رسوخ کا باعث ان کا اسلام پر عمل پیرا ہونا یا یہ حقیقت کہ وہ مسلمان ہیں۔
تاہم شمارے میں یہ بھی درج ہے کہ کسی بھی اشاعت میں شامل افراد کے انتخاب کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ جریدے کے مالکان و مدیران ان کے خیالات سے اتفاق یا ان کی توثیق کرتے ہیں۔

یہ اثر کسی ایسے دینی رہنما کا بھی ہو سکتا ہے جو براہ راست مسلمانوں سے خطاب کرتے ہوئے ان کے عقائد، نظریات اور طرز عمل کو متاثر کرے، یا یہ ایک ایسا حکمران بھی ہوسکتا ہے جو معاشرتی اور معاشی عوامل کے ذریعے لوگوں کی زندگیوں کو متاثر کرے، یا یہ ثقافت کو تشکیل دینے والا کوئی فنکار بھی ہو سکتا ہے۔

(Visited 25 times, 1 visits today)
Loading...
Advertisements

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں