کرونا نے گلوبلائزیشن کا خواب چکنا چور کردیا ….!

گلوبلائزیشن
Loading...

خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ دنیا کی آدھی آبادی کورونا وائر س سے متاثر ہوجائے تو ایک فیصد شرحِ اموات کے ساتھ بھی دنیا بھر میں کم از کم ساڑھے تین کروڑ افراد زندگی کی بازی ہار سکتے ہیں۔ اس کا تقابلی جائزہ اگر ایک صدی قبل آنے والے اسپینش فلو سے کیا جائے تو اس سے تقریباً 50کروڑ افراد متاثر ہوئے تھے، جب کہ پانچ کروڑ اموات واقع ہوئی تھیں۔

معاشی اور معاشرتی اثرات

نئے کورونا وائرس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی وبا صرف صحت کا عالمی بحران ہی نہیں۔ اس کے نتیجے میںعالمی معیشت ریزہ ریزہ ہوکر بکھر چکی ہے اور تقریباً دنیا کی ہر معیشت ہی منفی زون میں جاچکی ہے۔ ایسے میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ دنیا بھر کی یہ معیشتیں کب تک بحالی کی راہ پر گامزن ہوسکیں گی، بشرطیکہ تمام حکومتیں عوام کو کم از کم تن دوری کے قانون اور دیگر ایس او پیز پر عمل درآمد کا پابند بناسکیں۔

ایٹلانٹک کونسل کی تحقیق کے مطابق، عالمی معیشتوں کی بحالی V(یعنی تیز رفتار اور فوری بحالی)کی شکل میں ہونا مشکل نظر آتا ہے۔ اس کے بجائے یہ بحالی انتہائی مشکل اور طویل ہوگی، جس کے نتیجے میں دنیا کے کئی خطوں میں سماجی ا ور سیاسی افراتفری پیدا ہوسکتی ہے۔ مثلاً، تیز رفتار معاشی بحالی کی غیرموجودگی میں، مڈل کلاس میںہونے والے اضافے اور غربت کے خاتمے یا کمی کے لیے کی جانے والی حالیہ کوششوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ وہ امیر ملک جہاں مڈل کلاس پہلے ہی دباؤ میں ہے، وہاں بے روزگاری میں اضافے اور آمدنیوں میں کمی یا ٹھہراؤ کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر معاشرتی بے چینی پیدا ہوسکتی ہے۔

گلوبلائزیشن کا خاتمہ؟

اسپینش فلو نے پہلی جنگِ عظیم کے باعث ہونے والی اموات میں بے پناہ اضافہ کردیا تھا۔ ایک صدی قبل آنے والی اس وبا کے گلوبلائزیشن کے دوسرے مرحلے پر بھی اثرات دیکھے گئے تھے۔ اس وقت دنیا جہاں جمہوریتوںکے لیے محفوظ دنیا کے خواب دیکھ رہی تھی، پہلی جنگ عظیم کے بعدیورپ میں فاشزم اور کمیونزم کو اُبھرتے دیکھا گیا۔ امریکا نے لیگ آف نیشنز میں شمولیت سے انکار کرتے ہوئے ایسے ڈریکولائی قوانین متعارف کرائے جس نے بڑے پیمانے پر امیگریشن کو ختم کرکے رکھ دیا تھا۔ نیز، امریکا نے دنیا پر اپنی پیٹھ موڑ دی تھی۔

loading...

سکول جانے والے بچوں کو ایسی خوراک دینی چاہیے … ماہرین کا مشورہ .. !

کیا کوویڈ19-کے بعد کی دنیا، تاریخ کو پھر سے دُہرائے گی؟ کوروناوائرس سے پیدا ہونے والی وبا کے پھیلنے سے قبل ہی ایسے شواہد ظاہر ہونا شروع ہوچکے تھے کہ دنیا گلوبلائزیشن کے خلاف جارہی ہے۔ امریکا اور یورپ کی حکومتوں اور عوام میںامیگریشن کے خلاف جذبات میں اضافہ اور تجارتی رقابت اس کی چند مثالیں ہیں۔ ایسے میں کیا کرونا وائرس کے بعد کی دنیا میں توازن، عالمی اشتراک اور عالمگیریت کے برخلاف قوم پرستی، عوامیت پسندی اور مطلق العنانی کے حق میں چلا جائے گا؟

مستقبل ریجنلائزیشن کا ہے؟

یورپ اس بحران میں ایک کمزور حالت میں داخل ہوا ہے۔ بریگزٹ، عمر رسیدہ آبادی اور متنازعہ جرمن انتخابات؛ یورپ کو کوویڈ19-سے قبل ہی ان مسائل کا سامنا تھا۔ کوویڈ19-کے بعد کی دنیا یورپ کے لیے اس سے بدتر ہوسکتی ہے۔ اٹلی میں پیدا ہونے والی صورتِ حال کے بعد دنیا نے یورپ کو مزید بکھرتے دیکھا، یورپی ملک یونین کا حصہ ہونے کے ناطے بجائے اس کے کہ سرجوڑ کر بیٹھتے اور اس وبا سے نمٹنے کے لیے یکساں اجتماعی پالیسی اپناتے، ہمیں ہر ملک انفرادی پالیسی اپناتے نظر آیا۔ سرحدوں کی بندش، حفاظتی اور طبی سامان کے حصول کی جنگ، معاشی امدادی پیکیج وغیرہ۔ اب وقت ہی بتائے گا کہ یورپ ان ڈھانچہ جاتی مسائل کے سامنے ایک رہتے ہوئے آنے والے ہفتوں اور مہینوں میں بہتر معاشی اور پالیسی تعاون پر متفق ہوپائے گا یاہم اسے مزید بکھرتے دیکھیں گے۔

ماہرین کا خیال ہے کہ آنے والے برسوں میں ہم گلوبلائزیشن کے بجائے ریجنلزم کو فروغ پاتے دیکھیں گے۔ امریکی بلاک، ایشیائی خطہ اور یورپی زون ۔ اور یہ سب خطے تجارت، ثقافت، کرنسی اور ٹیکنالوجی کی دنیا میں خود انحصاری کی طرف بڑھنے کی کوشش کریںگے۔ ہم مضبوط ریجنل کرنسی بلاک بھی بنتے دیکھ سکتے ہیں جیسے 80اور 90کے عشرے میں یورپ میں جرمن ڈوئچے مارک، ایشیا میں جاپانی ین اور امریکی خطے میں ڈالر۔

آج یورپ میں ڈوئچے مارک کی جگہ یورو لے چکا ہے، جبکہ ایشیا میں چین کے اُبھرنے کے بعد صورتِ حال کچھ پیچیدہ ہوچکی ہے۔ ہرچندکہ ین کو ایک مضبوط ریزرو کرنسی تصور کیا جاتا ہے، مکمل طور پر تبدیلی کے قابل نہ ہونے اور چین پر عدم اعتماد کے باوجود،یوآن تیزی سے اپنی جگہ بنا رہا ہے۔ طویل مدت میں چین اپنی عالمی حیثیت کو پختہ کروانے میں کامیاب ہوجائے گا۔ جہاں تک بریکس (برازیل، روس، بھارت، چین اور جنوبی افریقا) کا تعلق ہے، یہ تمام ممالک اپنے خطے کے تجارتی شراکت داروں کے ساتھ جڑ جائیں گے، جہاں سپلائی چین میں کوویڈ بحران سے قبل ہی خلل پڑنا شروع ہوچکے تھے۔

(Visited 28 times, 1 visits today)
Loading...
Advertisements

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں