ایسے حالات نہیں چاہتے جس سے روزگار اور زندگیوں کو خطرہ ہو، اسد عمر

اسد عمر کا
Loading...

اسلام آباد: وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی کورونا کی شدت کا احساس دلانے کی کوشش کرتے ہوئے کہا ہے کہ عوام کے رویے سے نہیں لگ رہا کہ انھیں کسی بات کی فکر ہے، کورونا کی دوسری لہر انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔

وزیراعظم نے زیادتی کے مجرموں کو نامرد کرنے کے قانون کی منظوری دیدی

اسلام آباد میں معاون خصوصی ڈاکٹر فیصل سلطان کے ہمراہ پریس کانفرنس میں انہوں نے پاکستان میں وبائی مرض کورونا وائرس کی موجودہ صورتحال اور مستقبل میں درپیش خطرے پر تفصیلی بات کی۔

اسد عمر کا کہنا تھا کہ حکومت کیلئے سکولز بند کرنے کا فیصلہ آسان نہیں تھا۔ 11 جنوری 2021ء سے حالات دیکھ کر سکولز کھلنے کا امکان ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ریسٹورنٹس کو بھی بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ دیگر ممالک میں بھی کورونا کی دوسری لہر کی شدت زیادہ ہے تاہم لوگوں کے رویوں سے لگ رہا کہ انہیں کورونا کی شدت کا احساس ہے۔ بدقسمتی سے ملک میں بڑے بڑے اجتماعات ہو رہے ہیں۔

Loading...

اسد عمر کا کہنا تھا کہ ہم نے شروع میں لاک ڈاؤن کیا تو غریب لوگ متاثر ہوئے تھے۔ ایسے حالات نہیں چاہتے جس سے روزگار اور زندگیوں کو خطرہ ہو۔ حکومت نے احساس پروگرام کا دوسرا مرحلہ شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

وفاقی وزیر نے بتایا کہ کورونا سے متعلق پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس کل بلایا ہے۔ اجلاس میں سیاسی قائدین کو مدعو کیا گیا ہے۔ سیاستدانوں کو موجودہ صورتحال میں سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔

(Visited 32 times, 1 visits today)
Loading...
Advertisements

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں