حمل کے کس ماہ میں کرونا ﻭﺍﺋﺮﺱ ﺑﭽﮯ میں ﻣﻨﺘﻘﻞ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﺎ ﺧﻄﺮﮦ زیادہ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ…؟

ﻣﺎﮦ ﻣﯿﮟ
Loading...

وائرس سے متعلق ابتدائی تحقیقات میں ماہرین کا کہنا تھا کہ حاملہ خواتین سے ان کے پیدا ہونے والے بچے میں کرونا وائرس منتقل نہیں ہوتا لیکن بعد میں کئی ایسے واقعات سامنے آئے جن میں حاملہ خاتون اگر کرونا وائرس کا شکار تھی تو اس کے پیدا ہونے والے بچے میں بھی علامات پائی گئیں.

اس موضوع سے متعلق ماہرین میں اب ایک نئی تحقیق پیش کی ہے ماہرین کا کہنا ہے کہ انہوں نے کرونا وائرس کا شکار میں والی 60 سے زائد خواتین پر تحقیق کرنے کے بعد نتائج پیش کیے ہیں. ماہرین کا کہنا ہے کہ حاملہ خواتین کا تفصیلی مطالعہ کرنے کے بعد یہ سامنے سامنے آئی کہ یہ خاتون اگر حمل کے آخری تین ﻣﺎﮦ ﻣﯿﮟ کرونا وائرس کا شکار ہوتی ہے تو اور اس کا پیدا ہونے والا بچہ کرونا وائرس کا شکار نہیں ہوتا.

اس کے علاوہ ایسی خواتین جو اپنے حمل کے ابتدائی ماہ میں کرونا وائرس کا شکار ہوتی ہیں ان کے پیدا ہونے والے بچے بھی کرونا وائرس کا شکار ہوجاتے ہیں.

Loading...

کرونا سے متاثرہ لوگوں کو یہ چیزیں بالکل نہیں کھانی چاہیے …!

ﮨﺎﺭﻭﺭﮈ ﻣﯿﮉﯾﮑﻞ ﺳﮑﻮﻝ ﮐﮯ ماہرین نے ﺍپنی اس تفصیلی تحقیق ﻣﯿﮟ یہ ﺑﺘﺎﯾﺎ ہے ﮐﮧ ﺍﯾﺴﯽ ﺧﻮﺍﺗﯿﻦ ﺟﻨﮩﯿﮟ کرﻭﻧﺎ ﻭﺍﺋﺮﺱ ﺣﻤﻞ کے پہلے دو ﻣﺎﮦ ﻣﯿﮟ ہوا تھا ﺍﻥ خواتین ﮐﮯ ﭘﯿﭧ ﻣﯿﮟ ﭘﺮﻭﺭﺵ ﭘﺎنے والے ﺑﭽﻮﮞ ﮐﻮ ﻭﺍﺋﺮﺱ ﻣﻨﺘﻘﻞ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﺎ ﺧﻄﺮﮦ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ۔

اس ﺗﺤﻘﯿﻘﺎﺗﯽ ﭨﯿﻢ ﮐﯽ ﺳﺮﺑﺮﺍﮦ ﮈﺍﮐﭩﺮ ﮈﯾﺎﻧﺎ ﺑﯿﺎﻧﺸﯽ ﮐﺎ ﮐﮩﻨﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﺗﺤﻘﯿﻖ ﻣﯿﮟ ﯾﮧ بات بھی سامنے آئی ہے ﮐﮧ ﺟﻦ ﺧﻮﺍﺗﯿﻦ ﻣﯿﮟ ﮐﺭﻭﻧﺎ ﻭﺍﺋﺮﺱ ﮐﯽ ﻋﻼﻣﺎﺕ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺷﺪﯾﺪ ﮨﻮﺋﯿﮟ، ﺍﻥ ﮐﮯ ﺟﺴﻢ ﺳﮯ ﺑﭽﮯ ﮐﻮ ﺧﻮﺭﺍﮎ ﮐﯽ ﺭﺳﺪ ﻣﯿﮟ ﮐﻤﯽ ﻭﺍﻗﻊ ﮨﻮﺋﯽ، ﺟﺲ ﮐﮯ ﻧﺘﯿﺠﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﯽ ﻧﺸﻮﻭﻧﻤﺎ بھی ﮐﺴﯽ ﺣﺪ ﺗﮏ ﻣﺘﺎﺛﺮ ﮨﻮﺋﯽ۔

(Visited 45 times, 1 visits today)
loading...
Advertisements

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں