سٹیٹ بینک نے شرح سود میں کتنے فیصد کمی کی… ؟

اسٹیٹ بینک

کراچی: کرونا وائرس کی وجہ سے دنیا کی تمام معیشتوں کو ہی بحران کی کیفیت کا سامنا ہے اور ایسی صورتحال میں اسٹیٹ بینک نے شرح سود مزید 1.5 فیصد کی کمی کر دی ہے۔

تفصیلات کے مطابق 17 مارچ کو سٹیٹ بینک نے نئی مانیٹری پالیسی جاری کرتے ہوئے شرح سود میں صرف 75 بیسسز پوائنٹس کی کمی کا اعلان کیا تھا اور آئندہ 2 ماہ کے لیے پالیسی ریٹ 75 بیسسز پوائنٹس کم کر کے 12.50 فیصد کردی تھی

سٹیٹ بینک کا کہنا تھا کہ آخری پالیسی اجلاس کے بعد کرونا وائرس کا پھیلاؤ سے مہنگائی کی توقعات تبدیل ہوئی ہیں جو شرح سود کم کیے جانے کا سبب ہے۔

سٹیٹ بینک آف پاکستان نے آج ایک مرتبہ پھر شرح سود میں 1٫5 فیصد کمی کر دی ہے جس کے بعد شرح سود 11 فیصد پر پہنچ گئی ہے۔ ایک ہفتے کے دوران دوسری مرتبہ شرح سود میں کمی کی گئی ہے۔

اس سے قبل سٹیٹ بینک کا کہنا تھا کہ صنعتی شعبے کے لیے سستے قرضوں کی سہولت کا اعلان کیا گیا ہے، صنعتوں کا 10 سال کے لیے 7 فیصد شرح سود پر قرضے دیے جائیں گے، ہسپتالوں کو 3 فیصد شرح سود پر بینکوں سے قرضہ ملے گا۔عارضی ریفائنانس سکیم کا حجم 100 ارب روپے ہے، مہنگائی تھم جانے سے شرح سود میں کمی کا جواز پیدا ہوا۔

گورنر اسٹیٹ بینک نے مانیٹری پالیسی بیان پر میڈیا بریفنگ دیتے ہوئے بتایا تھا کہ پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر کرونا وائرس سے پیدا ہونے والے حالات سے نمٹنے کے لیے کافی ہیں، سٹیٹ بینک کرونا وائرس سے نمٹنے کے لیے ہسپتالوں کو 5 ارب کے قرضے دے گا اور ایک ہسپتال زیادہ سے زیادہ 20 کروڑ قرضہ حاصل کرسکے گا، یہ رقم کرونا وائرس سے نمٹنے، ویکسین، وینٹی لیٹر اور دیگر ضروری اشیا کی خریداری کے لیے استعمال کی جاسکے گی۔

خیال رہے کہ 28 جنوری کو اسٹیٹ بینک نے آئندہ 2 ماہ کے لیے مانیٹری پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے شرح سود کو 13.25 فیصد پر برقرار رکھا تھا۔

واضح رہے کہ گورنر سٹیٹ بینک رضا باقر بھی کہہ چکے ہیں کہ جب بھی شرح سود کا ذکر ہوتا ہے ہم اسے بزنس مین کے نکتہ نظر سے دیکھتے ہیں۔ آنے والے وقت میں مہنگائی جیسے جیسے کم ہوگی ویسے ویسے شرح سود کم ہو گی۔

وزیراعظم عمران خان کا ریلیف پیکیج، پٹرولیم قیمتوں میں15روپےکمی کا اعلان

ایم این اے رانا تنویر حسین کی زیر صدارت پبلک اکاونٹس کمیٹی کا اجلاس ہوا تھا، اجلاس کے دوران بریفنگ دیتے ہوئے گورنر سٹیٹ بینک کا کہنا تھا کہ شرح کا بڑھنا کوئی بری نہیں ہے، ایک طبقہ وہ بھی ہے جو اپنی جمع پونجی لگا کر اس کے منافع پر گزارا کرتا ہے۔

بریفنگ کے دوران انہوں نے مزید کہا کہ ہماری سیونگز بھارت سے کافی کم ہے، قومی بچت بڑھانے کے لئے ہمیں اقدامات کرنا ہوں گے، بھارت اور بنگلا دیش کے مقابلے میں ہماری سیونگ کم ہے۔ ملک میں سیونگ ریٹ کم ہے، نیشنل سیونگ کم ہوئیں تو کرنٹ اکاونٹ خسارہ بڑھے گا۔

ڈاکٹر رضا باقر کا مزید کہنا تھا کہ ایکسچینج ریٹ بڑھنے کی وجہ خزانہ خالی ہونا تھا، ریفارمز پیکیج شروع ہونے وقت سے ساڑھے نو ارب ڈالر زرمبادلہ ذخائر بڑھے۔ جب خزانے میں پیسہ ہوگا تو کسی کے سامنے ہاتھ پھیلانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔

ان کا کہنا تھا کہ ڈالر ایک سو پانچ سے بڑھتا بڑھتا 162تک چلا گیا، لوگ ہر روز رات کو کہہ رہے تھے ڈالر آسمان تک جائے گا، ڈالر کو 154.155 پر لاکر کھڑا کیا ہے۔

(Visited 12 times, 1 visits today)

Comments

comments

شرح سود,

اپنا تبصرہ بھیجیں